ہم جمہوریت کی جنگ ہارچکے ہیں، محمود خان اچکزئی

اسلام آباد:  پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ سینیٹ ہاﺅس آف فیڈریشن ہے اگر اس کے الیکشن میں زر اور زور کا استعمال ہوگا تو ملک کی بنیادیں ہل جائیں گی سینیٹ الیکشن میں جو کچھ ہوا وہ تاریخ کا سیاہ ترین دھبہ ہے سینیٹ الیکشن میں ہم جمہوریت کی جنگ ہار چکے ہیں۔ منگل کو قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آج نجی کارروائی کا دن ہے مگر انتہائی اہم مسئلے پر تاریخی آئینی فرض ادا کرنے کے لئے بات کر رہا ہوں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان وفاقی اکائیوں کا مجموعہ ہے اور سب خود کو پاکستانی کہتے ہیں۔ ہم سب آئین کے تحت آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ سینیٹ ہاﺅس آف فیڈریشن ہے، اگر اس کے انتخاب میں زر اور زور کا استعمال ہوگا تو پاکستان کی بنیادیں ہل جائیں گی۔ میں نے بلوچستان کے الیکشن کے حوالے سے بیرونی مداخلت کی بات کی تھی اور وزیراعظم سے مطالبہ کیا تھا کہ اس کی تحقیقات کرائی جائیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز ہم زور اور زر کے نتیجے میں جمہوریت کی جنگ ہا رچکے ہیں۔ انہوں نے جنگ پلاسی کے میدان میں میر جعفر اور صاد ق کی غداری اور ٹیپو سلطان کی شہادت کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس کے نتیجے میں برصغیر 300 سال تک غلام رہا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مجبور کیا جارہا ہے کہ ہم گلی کوچوں کا رخ کریں۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹ میں جو کچھ ہوا وہ تاریخ کا سیاہ ترین دھبہ ہے۔ تمام جمہوری قوتوں سے اپیل کرتا ہوں کہ ہمارے اتحاد اور اتفاق کا وقت آگیا ہے۔ میں جمہوری اور غیر جمہوری قوتوں کے درمیان جنگ کا سپاہی ہوں میں آئین کے ساتھ ہوں اور آئین سے تجاوز کرنے والے کا ساتھ نہیں دے سکتا۔اس سے قبل پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر   محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان ایک رضاکارانہ فیڈریشن ہے جس میں سب اکٹھے اپنی مرضی سے شامل ہوتے ہیں، سینیٹ ہاﺅس آف فیڈریشن ہے۔انہوں نے کہا کہ تین قسم کے لوگ آئین کے دفاع کا حلف لیتے ہیں جن میں ججز، فوجی اور پارلیمنٹیرینزشامل ہیں، میں سب سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ آئین کے دائرے سے باہر نہ نکلیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر آئین کو چھیڑا گیا تو ہمارا فیڈریشن مشکل میں پڑ جائے گا،1970سے لیڈروں کی ایجاد کا جو تماشہ شروع کیا گیا وہ بند ہوناچاہیے۔اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا ہے کہ سینیٹ الیکشن کی ابتدا بلوچستان حکومت میں تحریک عدم اعتماد سے شروع ہوئی سینیٹ الیکشن غلیظ اور داغدار جمہوریت کی مثال ہے ایسے لوگوں کو میدان میں لایا گیا جن کے پاس پیسہ تھا پیسے لینے اور دینے والوں سے قرآن پاک پر حلف لیا جائے ہمارے نزدیک ایسے ایوان بالا کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی۔ صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا کہ سینٹ الیکشن میں جو کچھ ہوا اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ یہ انتہائی غلط اور عدم شفافیت کے طریقہ کار سے ہوا اور یہ داغدار جمہوریت کی مثال ہے۔ ایسے لوگوں کو میدان میں لایا گیا جن کے پاس پیسہ تھا۔ بلوچستان میں عدم اعتماد کی تحریک سے ابتدا ہوئی۔ پہلے ہمیں خطرہ تھا کہ سینیٹ الیکشن نہیں ہوگا مگر وہ خطرہ ٹل گیا اور الیکشن ہوا مگر صوبوں میں پانچ ارکان کی حامل جماعت نے سینیٹر منتخب کرایا اور 15 ارکان والی جماعت ایسا نہ کر سکی۔خیبر پختونخوا اسمبلی میں بھیڑ بکریوں کا بازار گرم ہوا۔ ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ پیسے دے کر منتخب ہونے والوں سے قرآن پاک پر حلف لیا جائے۔ ایسے ایوان بالا کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔اجلاس کے دوران پاکستان تحریک انصاف کا توجہ مبذول نوٹس زیر غور نہ لائے جانے کے معاملے پر پی ٹی آئی کے ارکان نے ایوان سے واک آﺅٹ کیا۔ منگل کو قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر شیریں مزاری نے کہا کہ ہمارا توجہ مبذول نوٹس نہیں لیا گیا ہم احتجاجا واک آﺅٹ کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی پی ٹی آئی کے ارکان واک آﺅٹ کرگئے۔ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی نے اس حوالے سے خود ایوان سے واک آﺅٹ کرکے آپ لوگوں کے موقف کی تائید کردی ہے اس لئے آپ کا واک آﺅٹ نہیں بنتا تاہم اس کے باوجود پی ٹی آئی کے ارکان ایوان سے باہر چلے گئے۔ ڈپٹی سپیکر نے اعجاز جاکھرانی صاحبزادہ طارق اللہ اور ڈاکٹر درشن سے کہا کہ وہ پی ٹی آئی کے ارکان کو منا کر ایوان میں واپس لے آئیں۔ اس کے بعد پی ٹی آئی کے ارکان ایوان میں واپس آگئے۔اس سے قبل اجلاس کے آغاز پر سیکرٹری داخلہ اور دیگر اعلیٰ حکام کے ایوان میں حاضر نہ ہونے پر سپیکر ایاز صادق بھی واک آو¿ٹ کیا اور ایوان ڈپٹی سپیکر کے سپرد کر کے ایوان سے چلے گئے ۔انھوں نے کہا کہ جب تک وزیراعظم شاہد خاقان عباسی تحریری طور پر ضمانت نہیں دیں گے میں روزانہ واک آو¿ٹ کروں گا ۔اسپیکر ایاز صادق کا کہنا تھا کہ وزارتِ داخلہ کے سیکرٹری کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ وہ ساڑھے 12 بجے سے پہلے نہیں آسکتے، ایک وفاقی وزیر، ایک وزیر مملکت اور ایک پارلیمانی سیکرٹری ہونے کے باوجود ایوان کی کارروائی کو مذاق بنایا ہوا ہے۔

 


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.