اہم خبرِیں
اسٹاک ایکسچینج منفی ومثبت خبروں کی لپیٹ میں سائنسدانوں نے ’’سپر مِنی‘‘ پاور بینک تیار کرلیا بیکٹیریا کے نمونے لینے والابرقی کییپسول تیار صبا قمراوربلال سعید کی عبوری ضمانت منظور قومی ٹیم جارحانہ کرکٹ کھیلیں، انضمام الحق پاکستان کرکٹ ٹیم نے تمام ٹیموں کو پیچھے چھوڑ دیا بھارت کے یوم آزادی پر دنیا بھر میں یوم سیاہ منایا جا رہا ہے پاکستان قوم کوسلام محبت پیش کرتا ہوں، طیب اردگان آرمی چیف اور بل گیٹس میں ٹیلی فونک رابطہ پاکستان میں اقلیتوں کو عزت اوروقار دیا گیا ہے، فیاض الحسن چوہا... جوائنٹ ایکشن کمیٹی اسکول کھلوانے میں ناکام پروفیسر خالد مسعود گوندل کیلئے حکومت کا تمغہ حسن کارکردگی کا ا... یوم آزادی تقریب،184 شخصیات کیلئے پاکستان سول ایوارڈزکا اعلان حکومت کا اقتصادی راہداری کا دائرہ بڑھانے کا فیصلہ کورونا وائرس، ویکسین کے ابتدائی تجربات کامیاب یوم آزادی کے موقع پرمسلح افواج کے نغمے جاری ساؤتھمپٹن ٹیسٹ، پاکستان نے 8 وکٹ کے نقصان پر 202 رنز بنالیے اسرائیل اوریو اے ای معاہدہ، مسلم ممالک کی کڑی تنقید یوم آزادی مناتے ہوئے کشمیریوں کونہیں بھولنا چاہئے، صدر مملکت وزیر اعظم عمران خان کا یوم آزادی پر قوم کو پیغام

بچوں سے زیادتی کی ویڈیوز براہ راست نشر کرنے والا ملزم گرفتار

اسلام آباد:  ڈی آئی جی سہیل تاجک نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب پولیس نے بچوں سے زیادتی کی ویڈیوز براہ راست نشر کرنے والے ملزم کو گرفتار کیا ہے،ملزم بچوں کو پیسوں کا لالچ دے کر زیادتی کرتا تھا،چونیاں میں 100 دنوں میں بچوں کے لاپتہ ہونے کے 12کیسز رجسٹرڈ ہوئے، ایک سال میں بچوں کی گمشدگی کے 182مقدمات درج کیئے گئے،چیئرمین کمیٹی نے چونیاں واقعے کی مکمل رپورٹ تیار کرکے پیش کرنے کی ہدایت کر تے ہوئے کہا کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے مقدمے پر والدین کو راضی نامہ نہ کرنے پر قانون سازی کریں گے۔ منگل کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس ہوا جس میں ڈی آئی جی سہیل تاجک نے بریفنگ دی۔

انہوں نے بتایا کہ چونیاں میں بچوں سے زیادتی و قتل کے کیس میں ملزم سہیل شہزاد کو گرفتار کیا گیا جو تندور پر کام کرتا تھا، وہ خود بھی بچپن میں زیادتی کا شکار رہا، دوران تفتیش ملزم نے طریقہ واردات سے متعلق بھی بتایا ہے، ملزم بچوں کو پیسوں کا لالچ دے کر زیادتی کرتا تھا۔چونیاں میں 100 دنوں میں بچوں کے لاپتہ ہونے کے 12کیسز رجسٹرڈ ہوئے جن کی عمریں 8سے پندرہ سال تک تھیں، بچوں کے ساتھ زیادتی کی وجہ غربت کے باعث پیش آتی ہے، ایک سال میں بچوں کی گمشدگی کے 182مقدمات درج کیئے گئے ہیں، جن میں سے 43مقدمات مدعی کی درخواست پر خارج کئے گئے ہیں۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے مقدمے پر والدین کو راضی نامہ نہ کرنے پر قانون سازی کریں گے۔ڈی آئی جی سہیل تاجک نے مزید بتایا کہ پورنو گرافی کے کیسز انٹرنیٹ کی وجہ سے زیادہ ہوتے ہیں، ہم نے ایک ملزم پکڑا ہے جو زیادتی کو براہ راست نشر کرتا تھا، اس نے بچے سے زیادتی کی لائیو وڈیو بنائی ہے، تعزیرات پاکستان کے تحت کسی آدمی یاجانور سے زیادتی کاجرم بھی برابر ہے۔چیئر مین کمیٹی نے چونیاں واقعے کی مکمل رپورٹ تیار کرکے پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔
ملزم گرفتار


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.