Latest news

بچوں سے زیادتی کی ویڈیوز براہ راست نشر کرنے والا ملزم گرفتار

اسلام آباد:  ڈی آئی جی سہیل تاجک نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب پولیس نے بچوں سے زیادتی کی ویڈیوز براہ راست نشر کرنے والے ملزم کو گرفتار کیا ہے،ملزم بچوں کو پیسوں کا لالچ دے کر زیادتی کرتا تھا،چونیاں میں 100 دنوں میں بچوں کے لاپتہ ہونے کے 12کیسز رجسٹرڈ ہوئے، ایک سال میں بچوں کی گمشدگی کے 182مقدمات درج کیئے گئے،چیئرمین کمیٹی نے چونیاں واقعے کی مکمل رپورٹ تیار کرکے پیش کرنے کی ہدایت کر تے ہوئے کہا کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے مقدمے پر والدین کو راضی نامہ نہ کرنے پر قانون سازی کریں گے۔ منگل کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس ہوا جس میں ڈی آئی جی سہیل تاجک نے بریفنگ دی۔

انہوں نے بتایا کہ چونیاں میں بچوں سے زیادتی و قتل کے کیس میں ملزم سہیل شہزاد کو گرفتار کیا گیا جو تندور پر کام کرتا تھا، وہ خود بھی بچپن میں زیادتی کا شکار رہا، دوران تفتیش ملزم نے طریقہ واردات سے متعلق بھی بتایا ہے، ملزم بچوں کو پیسوں کا لالچ دے کر زیادتی کرتا تھا۔چونیاں میں 100 دنوں میں بچوں کے لاپتہ ہونے کے 12کیسز رجسٹرڈ ہوئے جن کی عمریں 8سے پندرہ سال تک تھیں، بچوں کے ساتھ زیادتی کی وجہ غربت کے باعث پیش آتی ہے، ایک سال میں بچوں کی گمشدگی کے 182مقدمات درج کیئے گئے ہیں، جن میں سے 43مقدمات مدعی کی درخواست پر خارج کئے گئے ہیں۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے مقدمے پر والدین کو راضی نامہ نہ کرنے پر قانون سازی کریں گے۔ڈی آئی جی سہیل تاجک نے مزید بتایا کہ پورنو گرافی کے کیسز انٹرنیٹ کی وجہ سے زیادہ ہوتے ہیں، ہم نے ایک ملزم پکڑا ہے جو زیادتی کو براہ راست نشر کرتا تھا، اس نے بچے سے زیادتی کی لائیو وڈیو بنائی ہے، تعزیرات پاکستان کے تحت کسی آدمی یاجانور سے زیادتی کاجرم بھی برابر ہے۔چیئر مین کمیٹی نے چونیاں واقعے کی مکمل رپورٹ تیار کرکے پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔
ملزم گرفتار


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.