افغانستان مفاہمتی عمل میں پاکستان پردباوبڑھانے کاخواہاں ہے ، امریکی سفیر

نیویارک:  اقوام متحدہ میں امریکی مندوب نکی ہیلی نے کہا ہے کہ افغانستان چاہتا ہے کہ عالمی طاقتیں مفاہمتی عمل میں اتفاق رائے کیلئے پاکستان پر دباو¿ بڑھائیں۔افغانستان کے دورے کے بعد اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے کہاکہ افغان حکومت کو یقین ہے کہ طالبان مذاکرات کی میز پر آجائیں گے۔نیکی ہیلی نے بتایا کہ افغانستان سمجھتا ہے کہ پاکستان افغانستان کے امن کی پیشکش کی حمایت نہیں کرتا جبکہ افغان حکام نے پاکستان سے متعلق رویہ تبدیل کرنے پر بھی زور دیا ہے۔نکی ہیلی سمیت سلامتی کونسل کے خصوصی وفد نے افغانستان کا دو دوزہ دورہ کیا تھا۔گزشتہ روز امریکی محکمہ خارجہ کے بیورو برائے جنوبی و وسطی ایشیائی امور کی پرنسپل ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری ایمبسڈر ایلیس ویلز کا کہنا تھا کہ امریکا خطے کے استحکام اور خوشحالی کےلئے مشترکہ مفادات کی بنیاد پر پاکستان کے ساتھ نئے تعلقات استوار کرناچاہتا ہے۔ایلیس ویلز نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا پاکستان کے ساتھ تعلقات میں نئی شروعات کرنے کا خواہاں ہے جو خطے کے استحکام و خوشحالی کے لیے مشترکہ مفادات پر مشتمل ہوں۔خیال رہے کہ 2018 کے آغاز کے ساتھ ہی پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات میں تناو¿ پیدا ہوگیا تھا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے یکم جنوری کو ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں پاکستان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ہم نے گزشتہ 15 سالوں کے دوران پاکستان کو 33 ملین ڈالر امداد دے کر حماقت کی جبکہ بدلے میں پاکستان نے ہمیں دھوکے اور جھوٹ کے سوا کچھ نہیں دیااس کے بعد امریکا نے پاکستان کی امداد بند کرنے کے حوالے سے اقدامات اٹھانا شروع کردیے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستان کی سیکیورٹی معاونت معطل کرنے کا اعلان کردیا جبکہ پاکستان کو مذہبی آزادی کی مبینہ سنگین خلاف ورزی کرنے والے ممالک سے متعلق خصوصی واچ لسٹ میں بھی شامل کردیا گیا۔امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ہیدر نورٹ کا کہنا تھا کہ حقانی نیٹ اور افغان طالبان کے خلاف کارروائی تک پاکستان کی معاونت معطل رہے گی۔دوسری جانب پاکستان نے امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں، لیکن امریکا اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈال رہا ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.