بدقسمتی سے جو ووٹ خریدتے ہیں اورجو بکتے ہیں وہ دونوں اراکین اسمبلی ہیں, جسٹس(ر) محمدرضا

اسلام آبا: چیف الیکشن کمشنر جسٹس(ر) محمد رضا نے ریمارکس دئیے ہیں کہ بدقسمتی سے جو ووٹ خریدتے ہیں اور جو بکتے ہیں وہ دونوں اراکین اسمبلی ہیں۔بدھ کو چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں نے الیکشن کمیشن کے پانچ رکنی بینچ نے سینیٹ انتخابات میں مبینہ ہارس ٹریڈنگ سے متعلق خبروں پر لیے جانے والے نوٹس کی سماعت کی۔ الیکشن کمیشن نے ہارس ٹریڈنگ کا الزام لگانے والے 8 اراکین پارلیمنٹ کو طلب کیا تھا، الیکشن کمیشن کے طلب کیے جانے پر وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب، ایم پی اے عظمیٰ بخاری، امیرمقام ، چوہدری سرور اور دیگر پیش ہوئے۔چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی جانب سے وکیل شاہد گوندل اور ایم کیو ایم کے فاروق ستار کی جانب سے اقبال قادری پیش ہوئے۔سماعت شروع ہوئی تو چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اخبارات اور ٹی وی پر سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے معاملات آئے اور تحریری طور پر بھی سیاستدانوں کے بیانات ہارس ٹریڈنگ سے متعلق آئے، ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہماری مدد کریں۔وکیل عمران خان نے کہا کہ ہم نے اپنی تحقیقاتی کمیٹی بنا دی ہے، جس کی تحقیقات کے بعد اپنی ایک تحریری درخواست دیں گے۔ایم کیو ایم کے وکیل نے کہا کہ ان کے موکل کی جماعت نے دھاندلی پر تحریری دستاویزات جمع کرا دی ہے۔مسلم لیگ (ن) کی رکن اسمبلی عظمی بخاری نے سوال کیا کہ ‘کیا الیکشن کمیشن کچھ کر سکتا ہے’ جس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آپ کی معاونت سے الیکشن کمیشن جو کر سکتا ہے ضرور کرے گا۔عظمی بخاری نے سماعت کے دوران کہا کہ چوہدری سرور نے خود کہا ہے کہ مسلم لیگ(ن) کے 6 ایم پی ایز نے ان کا ساتھ دیا لیکن ان کا نام نہیں بتاوں گا، کیا آپ چوہدری سرور کو نوٹس کر سکتے ہیں، جس پر چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیئے کہ جی اسی لئے آپ کی معاونت چاہتے ہیں ان کو بھی بلا لیں گے۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ووٹ خریدنا اور بیچنا جرم ہے، بدقسمتی سے جو ووٹ خریدتے ہیں اور جو بکتے ہیں وہ دونوں اراکین اسمبلی ہیں۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ الیکشن کمیشن آرٹیکل 220 کے تحت تحقیقات کرسکتا ہے اور یہ آرٹیکل الیکشن کمیشن کو تحقیقاتی ایجنسیوں کی خدمات حاصل کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ جس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ معذرت کے ساتھ کہتا ہوں کہ جو خریدتے اور بکتے ہیں وہ بھی پارلیمنٹرینز ہی ہیں، ہارس ٹریڈنگ کی تحقیقات کے لئے تمام اختیارات استعمال کریں گے، ہم خفیہ اداروں ،ایف آئی اے اور دیگر اداروں کی مدد لیں گے۔ الیکشن کمیشن نے مختصر سماعت کے بعد مزید کارروائی 4 اپریل تک کے لئے ملتوی کرتے ہوئے ہارس ٹریڈنگ کے الزامات لگانے والے اراکین اور پارٹی سربراہان سے شواہد طلب کرلیے۔یاد رہے کہ سینیٹ الکیشن کے دوران حکمراں جماعت مسلم لیگ(ن) ، تحریک انصاف، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اور جماعت اسلامی کی جانب سے ہارس ٹریڈنگ کے الزامات لگائے گئے تھے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.