Daily Taqat

ٹی وی پرایسے شوزدکھائے جارہے ہیں جوناقا بل قبول ہیں، چیف جسٹس

کراچی:  چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ٹی وی چینلز پر بھارتی مواد نشر کرنے پر پابندی عائد کرنے کے لیے فنکاروں سے درخواست طلب کرلی۔ہفتہ کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں مختلف کیسز کی سماعت ہوئی ۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں پاکستانی فنکار عدالت کے باہر جمع ہوگئے اور ٹی وی چینلز پر بھارتی مواد نشر کرنے پر پابندی کے لیے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے چیف جسٹس سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ چیف جسٹس نے احتجاج کا نوٹس لیتے ہوئے فنکاروں کو عدالت کے اندر بلا لیا اور ان کی بات سنی۔ فنکاروں نے کہا کہ پاکستانی ڈراموں میں بھارتی مواد غیر قانونی طور پر نشر کیا جا رہا ہے، بھارتی مواد نشر کرنے کے باعث پاکستانی فنکار بے روز گار ہو رہے ہیں اور پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری متاثر ہو رہی ہے۔معروف فنکارہ ثمینہ آپا نے مطالبہ کیا کہ بھارتی مواد کو نشر کرنے سے روکا جائے۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا آپ نے میرے منہ کی بات چھین لی ہے، ٹی وی پر ایسے ایوارڈ شوز دکھائے جارہے ہیں جو مسلم معاشرے کے لیے ناقابلِ قبول ہیں، ہم سب لبرل ہیں مگر غیر مناسب لباس پر ماڈلنگ کی اجازت نہیں دے سکتے، اگر آپ برقعے کی حمایت نہیں کرتے تو اخلاق باختہ لباس کی بھی اجازت نہیں دے سکتے۔چیف جسٹس نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کیا ہماری بہن، بیٹیاں یہ لباس پہن سکتی ہیں، کیا آپ کے ملک کا کلچر ختم ہو گیا، سندھ، بلوچی ودیگر کلچر کو فروغ کیوں نہیں دیتے۔ چیف جسٹس نے کہا سب سے زیادہ غیر اخلاقی پروگرام ایک نجی ٹی وی چلا رہا ہے، یہ ٹی وی کس کا ہے؟، اس چینل پر اخلاق باختہ پروگرام دکھائے جارہے ہیں۔چیف جسٹس نے عدنان صدیقی، فیصل قریشی کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آپ تو خود مارننگ شو کرتے ہیں، ان مارننگ شوز میں خواتین کو کون سا لباس پہنواتے ہیں، یہ کون سے مارننگ شوز ہیں، کون سا کلچر دینا چاہ رہے ہیں، میں نہیں کہہ رہا کہ برقعہ پہن کر آجائیں مگر بے حیائی بھی برداشت نہیں کریں گے۔ فنکاروں نے کہا کہ یہ سب بھارت کی مہربانی ہے۔چیف جسٹس نے کہا ہمیں طے کرنا ہوگا کہ کتنا غیر ملکی مواد نشر کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں، آپ کوئی تحریری درخواست دیں، عدالت کارروائی کرے گی۔ سپریم کورٹ نے فنکاروں سے 3 بجے تک تحریری درخواست طلب کرلی۔بعدازاں سپریم کورٹ کے باہر فنکاروں نےذرائع  سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی مواد کے باعث ہمارا کام کم ہورہا ہے اور ٹیکنیکل لوگوں کو بھی بے روزگاری کا سامنا ہے، ہماری لڑائی کسی چینل کے ساتھ نہیں ہم ان سے اور وہ ہم سے ہیں، ہمارا مواد اپنا ہونا چاہیئے، لیکن ہمارے مواد کو مسترد کردیا جاتا ہے جب کہ بھارتی مواد نشر کردیا جاتا ہے، عدالت میں درخواست کی ہے کہ بھارتی مواد کو بند کیا جائے، بھارتی مواد کے باعث کئی نوجوانوں پر برے اثرات بھی مرتب ہورہے ہیں۔اداکارہ ثمینہ احمد نے کہا کہ چیف جسٹس نے ہماری درخواست پر ایکشن لینے کا کہا ہے، جب کہ اداکار فیصل قریشی کا کہنا تھا کہ ہمارے فوجی اور شہری سرحد پر جانیں دے رہے ہیں اور بھارت سے لڑ رہے ہیں، دوسری طرف ہم اسی بھارت کے ڈرامے اپنے چینلز پر دکھا رہے ہیں۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »