ٹرمپ افغانستان کے لیے نرم اور پاکستان کےلئے سخت گیرثابت

کابل: عالمی امور کے ماہرین نے کہاہے کہ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کا منصب صدارت پر اولین برس یقینی طور پر افغانستان کے لیے مثبت رہا ہے۔ اس کے مقابلے میں ان کی  انتظامیہ کی ناراضی و برہمی پاکستان کو سمیٹنا پڑی ہے۔ صدر ٹرمپ کے دور میں پاک امریکی تعلقات کا گراف بلند ہونے کے بجائے مسلسل نیچے جا رہا ہے اور اب امریکی امداد کی بندش نے صورت حال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔رپورٹس کے مطابق ماہرین نے کہاکہ سابق صدر باراک اوباما کے دور میں افغانستان کی جنگ ختم کرنے کی کوششیں ضرور کی گئی لیکن ان کے حوصلہ افزاءنتائج سامنے نہیں آئے تھے۔ حالانکہ اوباما کی جانب سے کہا گیا تھا کہ افغانستان کی جنگ امریکی تاریخ کی سب سے طویل جنگ بن چکی ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ ساری امریکی فوج واپس بلا لی جائے، لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینگ ووڈرو ولسن سینٹر کے جنوب مشرقی ایشیائی امور کے ماہر مائیکل کوگلمین کا کہنا تھا کہ ٹرمپ اور ان کے مشیروں کو موجودہ پالیسی اور حکمت عملی مرتب کرنے میں ایک برس سے زائد کا عرصہ لگا اور مستقبل کے حالات ہی طے کر سکیں گے کہ ٹرمپ کی افغان پالیسی خطے میں کیسے نتائج کی حامل ہو سکے گی۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.