آئین میں ٹیکنوکریٹ حکومت کی کوئی گنجائش نہیں ہے، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی

اسلام آباد : وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ آئین میں ٹیکنو کریٹ حکومت کی کوئی گنجائش نہیں ہے، آج بھی اسمبلیاں تحلیل ہو جائیں تو قبل از وقت انتخابات کا انعقادممکن نہیں ہے ، کچھ لوگوں نے شیروانیاں سلوا کر رکھی تھیں مگر انہیں موقع نہیں ملا ، انہیں پیغام دیتا ہوں کہ وہ شیروانیاں اتار کر الماریوں میں رکھ دیں کیوں کہ عام انتخابات گرمیوں میں ہوں گے۔ نجی ٹی وی کے پروگرام ”ہو کیا رہا ہے “ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ نواز شریف اور ضیا الحق کے درمیان تعلق پر تاریخی جھوٹ بولا جا رہا ہے۔ نواز شریف کا ضیا  الحق سے تعلق تو صرف 29مئی سے17اگست1988 تک تھا۔ اس تعلق پر لوگ تاثر دے رہے ہیں کہ نواز شریف ضیا  کی آمریت کے دور میں سیاسی افق پر ابھرے۔ صدر اور وزیر اعلیٰ کا تعلق عموما محدود سا ہوتا ہے ، ضیا  دور میں کئی لوگ بہت بڑے بڑے عہدوں پر پہنچے اور آج ان لوگوں کی سیاسی حیثیت کیا ہے؟ سب لوگ اس سے واقف ہیں۔جو تجربہ نواز شریف کے پاس ہے وہ بہت کم لوگوں کے پاس ہے،انہوں نے اپنے دور اقتدار میں ملک میںترقی کی بنیاد رکھی اور جمہوریت کو فروغ دیا ، ان پر آمریت سے قربت کا تعلق الزام بالکل بے بنیاد ہے۔ وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان کے ممبران اسمبلی کو ٹیلی فون کالز موصول ہوئیں جبکہ ان کی نگرانی کے حوالے سے بھی خبریں سامنے آئیں ، میں نے وزیر داخلہ احسن اقبال کو اس بات کی تحقیقات کے لئے کہہ دیا ہے۔ ماضی میں اس قسم کے کام ملکی سیاست میں ہوتے رہے ہیں اور ہمیں ان سے سبق لینا چاہیے۔ ممبران اسمبلی اگر اس حوالے سے بیانات دیتے ہیں تو وہ ان کی ذاتی رائے ہو سکتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ اب اس قسم کے معاملات سیاست میں نہیں ہو رہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.