اہم خبرِیں
افغانستان میں تعینات جارجیا کے 28 فوجی کرونا وائرس میں مبتلا ملک میں کورونا وائرس کے 2751 نئے کیسزرپورٹ، 75 مریض جاں بحق بھارت اپنے دفاع پر بے پناہ وسائل خرچ کررہا ہے‘اکرام سہگل سندھ حکومت کی جانب سے پہلی بار باقاعدہ طور پر تھانوں کا بجٹ من... چینی اور کھانے کی دیگر اشیاء کی قیمتوں میں روز بروز اضافہ نیپال نے بھارتی پروپیگنڈا کے رد عمل میں ملک میں تمام بھارتی چی... امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاپان کو 23 ارب ڈالر کے 105 ایف ... ڈریکولا اصل میں کون تھا، حقیت یا آفسانہ؟ مولانا فضل الرحمان کی بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری سے ... سشانت سنگھ کے بعد اب ایک اور بھارتی اداکار کی خودکشی میڈیا کو پھانسی دینی چاہیے، نعمان اعجاز کا ڈرامہ انڈسٹری پر غص... معروف کامیڈین اور اداکارہ روبی انعم کو دل کا دورہ، اسپتال منتق... پی سی بی کا سلیم ملک اور سابق لیگ اسپنر دانش کنیریا پر عائد پا... کھلاڑیوں کوخود ہی ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کرنی ہو گی، مشتاق ... ویسٹ انڈیز کے مایہ ناز فاسٹ بولر مائیکل ہولڈنگ نسلی تعصب پر با... اعلیٰ ترک عدالت نے 'آیا صوفیہ' کی میوزیم کی حیثیت ختم کر دی 8 پولیس اہلکاروں کے قتل میں ملوث گینگسٹر انکاؤنٹر میں ہلاک چینی برانڈ 'شین' کی جائے نماز کو سجاوٹی قالین فروخت کرنے پر مع... الیکشن سے پہلے جھاڑو پھر جائے گا، شیخ رشید سینیٹر سرفراز بگٹی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

امریکا اب معاہدے توڑنے کے کارڈ کھیل رہا ہے

امریکا ابھی بھی اس سیڑھی سے نیچے نہیں اتر رہا جس پر وہ کھڑا ہو کر ساری سے دنیا اونچا ہو جاتا تھا ، گزشتہ کئی دہائیوں سے وہ دنیا پر اپنی معاشی ،دفاعی طاقت کے بل بوتے پر حکمرانی کرتا آیا ہے، لیکن موجودہ صورت حال یہ ہے کہ جس سیڑھی کو وہ بلند تصور کر رہا ہے وہ چھوٹی ہو گئی ہے اب امریکا کے برابر چین پہنچ چکا ہے، دوسری طرف روس دوبارہ اس قابل ہو چکا ہے کہ وہ امریکا کے سامنے دیوار بن سکتا ہے۔ امریکا کی معیشت کا تو ڈھول مسلسل بج رہا ہے کہ دن بدن خزانے کم ہو رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کو سمجھ نہیں آرہی کہ وہ کیسے معیشت کو اوپر لائے اور دنیا پر امریکا کی اجارہ داری کو بھی برقرار رکھے، اب امریکا ماضی میں ہونے والے معاہدوں کو توڑنے جیسے کارڈ کھیل رہا ہے۔ امریکا نے سب سے پہلے ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے کو توڑا اس کے بعد ایران پر مراحلہ وار پابندیاں عائد کیں، اب معاہدے توڑنے میں امریکا نے روس کا نمبر لگا دیا ہے۔ گزشتہ دنوں امریکی صدر ٹرمپ نے روس کے ساتھ ہونے والے ایک تاریخی معاہدے انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلئیر فورسز ٹریٹیINF سے دستبرداری کا اعلان کیا ، یہ معاہدہ طویل رینج کے کروز میزائل کے بنانے کے متعلق تھا یہ معاہدہ 1987 میں امریکا اور روس کے درمیان طے پایا تھا جس پر امریکی صدر رونلڈ ریگن اور سوویت رہنما میخائل گورباچوف نے دستخط کیے تھے۔اس معاہدے کی ر±و سے 500 سے 5,500 کلو میٹر تک کے ہدف کے کروز میزائل کے تجربات پر پابندی عائد کی گئی تھی۔
امریکا کو اب روس اور چین سے گھبراہٹ ہو رہی ہے ، روس تو پہلے ہی امریکا کا دشمن اول رہا ہے، روس امریکا کی طرح اپنے اسلحہ اور میزائل فروخت کے معاہدے بہت سارے ممالک سے کر چکا ہے۔ اس معاہدے سے امریکا کی دستبردار ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے جبکہ دوسری وجہ امریکا کے ہاتھ یہ بہانا بھی آگیا ہے کہ ایک روسی سیاستدان ولادیمیر زھرینووسکی نے ایک ٹی وی پروگرام میں کہا کہ اگر روس چاہے تو کرہ عرض پر دنیا کا کوئی بھی فوجی طیارہ اڑان نہیں بھرسکتا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنے خفیہ میزائل پروگرام کے بارے میں بھی انکشاف کر دیا۔ اس بیان کے اگلے روز ٹرمپ نے تاریخی معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کر دیا۔ آئی این ایف معاہدے سے دستبرداری کے بعد دونوں ممالک کے درمیان نئی اسلحہ کی دوڑ کا پیش خیمہ سبط ہو سکتا ہے۔ معاہدے سے دستبرداری کے بعد روس کی جانب سے ایک تازہ بیان جاری کیا گیا ہے کہ روس جوہری حملے میں پہل نہیں کرے گا، روسی صدارتی دفتر کریملن سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے جوہری ہتھیاروں سے متعلق سمجھوتے سے امریکی دستبرداری دنیا کو مزید خطرے سے دوچار کر دے گی۔ روس نے اپنے اعلامیہ میں یہ بھی کہا ہے کہ امریکہ خود اس سمجھوتے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
روسی صدراتی ترجمان نے گزشتہ روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ امریکہ کے سمجھوتے سے نکل جانے کی صورت میں روس جوہری طاقت کے توازن کو واپس لانے کے لیے اقدامات پر مجبور ہو جائے گا۔ ترجمان نے باور کرایا کہ روس کسی پر بھی حملے میں پہل ہر گز نہیں کرے گا۔بیسکوف نے مزید بتایا کہ اگر امریکا نے درمیانی مار کے جوہری ہتھیاروں سے متعلق سمجھوتے سے دستبردار ہونے کے بعد نئے میزائل تیار کرنا شروع کیے تو روس اسی طرح جواب دینے پر مجبور ہو جائے گا۔روس ایک طرف تو یہ کہے رہا کہ وہ کسی حملے میں پہل نہیں کرے گا، البتہ معاہدہ ختم ہونے سے دو دن قبل روسی صدر ولادیمیر پوتن نے سوچی میں ولادیائی کلب کے ایک اجلاس کے دوران کہا تھا اگر دنیا کا کوئی ملک روس پر جوہری ہتھیاروں کے ساتھ حملہ کرنے کا فیصلہ کرے تو اس ملک کا یہ اقدام زمین پر زندگی ختم کر دے گا.
روسی صدر نے مزید باور کرویا کہ کسی جارحانہ اقدام سے پہلے دشمن کو جاننا چاہئے کہ روس پر جوہری حملے کے نتیجہ میں ساری دنیا تباہ ہو جائے گی۔ روسی ایٹمی اصول کسی بھی روایتی تنازعے میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی اجازت دیتا ہے، لیکن اس وقت اگر روس کی سلامتی کو خطرہ ہوا تو ممکنہ طور پر روسی فوج کو بڑے پیمانے پر ہونے والے بیرونی حملے کے جواب میں ٹیکٹیکل ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال کرنے کی اجازت دی جائےگی۔ انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلئیر فورسز ٹریٹی یا آئی این ایف میں دونوں ممالک پھر سے معاہدہ بحال کر لیں گے۔ ؟ موجودہ حالات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ تلخی زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہے گی البتہ ٹرمپ مزید کڑی شرائط پر کوئی نیا معاہدہ کرنے کو تیار ہو جائیں گے۔ ٹرمپ کی روسی صدر سے ملاقات اسی سال آئندہ ماہ 11 نومبر کو ہونے جارہی ہے جو فرانس کے شہر پیرس میں ہوگی۔ اس قبل بھی امریکی صدر ٹرمپ اور روسی صدر پوٹن کی ملاقات رواں برس 16 جولائی کو فن لےنڈ کے دارالحکومت ہےلسنکی ہو چکی ہے۔
اگلے مہینے ہونے والی ملاقات کے بارے امریکہ کے نیشنل سیکیورٹی کے ایڈوائزر جان بولٹن نے کہا کہ گزشتہ روز امریکہ کی جانب سے نیوکلیائی ہتھیاروں کے معاہدہ کو ختم کرنے کے باوجود آئندہ ماہ امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات میں یہ مسئلہ ان کے ایجنڈے پر سرفہرست ہو گا۔ بعدازاں امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے کہا کہ روسی حکام سےجامع اور تعمیری بات چیت ہوئی ہے واضع رہے کہ
امریکہ کے نیشنل سیکیورٹی کے ایڈوائزر جان بولٹن آج کل روس کے دورے پرہیں۔ بولٹن روسی صدر کے علاوہ دیگر روسی حکام بشمول روسی وزیرخارجہ سے بھی ملاقات کی ہے۔بولٹن کے دورہ روس سے دونوں طرف کی گرما گرمی میں کمی ہونے کے امکانات واضع ہو گئے ہیں۔ آئندہ مہینے ٹرمپ اور پوٹن کی ملاقات میں معاہدے کے متعلق مثبت پیش رفت کے امکانات ہیں۔ دونوں ممالک میں مزید تلخی برقرار رہی تو یہ خطرناک ثابت ہوگی، جس سے خطرناک ہتھیار بنانے کی دوڑ پھر سے شروع ہو جائے گی جس سے کررہ ارض تباہی کے دہانے پر کھڑی ہو جائے گی۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.