امریکااورمتعدد یورپی ممالک کی اجارہ داری،روس آزادانٹرنیٹ بنائیگا

ماسکو:  روس اپنا ایک آزاد انٹرنیٹ بنانے کے منصوبے پر کام کر رہا ہے، جس کا انحصار مغربی ممالک پرنہیں ہو گا، کم از کم سائبر اسپیس کی حد تک نہیں۔ رپورٹس  کے مطابق روس میں انٹرنیٹ کے حوالے سے حالیہ کچھ برسوں میں کئی طرح کی تبدیلیاں آئی ہیں۔ کئی افراد کو سماجی ویب سائٹس پر کچھ شیئر کرنے پر جیل تک جانا پڑا، جب کہ ملک میں وی پی این سروسز پر بھی پابندی عائد ہے۔ روسی حکومت اب اس سلسلے میں ایک قدم مزید آگے بڑھ رہی ہے۔روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے سن 2017ءمیں حکومت کو احکامات دیے تھے کہ وہ آزاد ’روٹ نیم سرورز‘ کی تیاری کے لیے برِکس ممالک کے ساتھ بات چیت شروع کرے۔ برکس ممالک میں روس کے علاوہ برازیل، بھارت، چین اورجنوبی افریقہ شامل ہیں۔ اس ڈومین کا نام ’ڈی این ایس‘ ہے اور اس کا آغاز رواں برس اگست تک ممکن ہے۔ ان سرورز پر صارفین کا ڈیٹابیس، آئی پی ایڈریسز اور ہوسٹ نیمز ہوں گے۔مبصرین کے مطابق اگر روس اپنے روٹ سرورز بنا لیتا ہے، تو یہ ایسا ہی ہو گا کہ وہ اپنا ایک علیحدہ انٹرنیٹ قائم کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ روسی حکام کے مطابق انٹرنیٹ پر امریکا اور متعدد یورپی ممالک کی اجارہ داری ہے اور وہی انٹرنیٹ کے ضوابط طے کرتے ہیں، جسے روس اپنی سلامتی کے لیے ایک ’سنجیدہ خطرہ‘ قرار دیتا ہے۔ اگر روس اپنے روٹ سرورز قائم کر لیتا ہے تو وہ انٹرنیشنل کوآپریشن فار اسائنڈ نیمز اور نمبرز سے آزادہو جائے گا۔ روس کے مطابق اس طرح ملک کے داخلی معاملات میں غیرملکی مداخلت کے خطرات کم کیے جا سکتے ہیں۔ پوٹن انٹرنیٹ کو سی آئی اے کا ایک آلہ قرار دیتے ہیں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.