سپریم کورٹ نے الیکشن سے قبل ارکان پارلیمنٹ کو ترقیاتی فنڈز دینے کا نوٹس لے لیا

اسلام آباد:  سپریم کورٹ نے الیکشن سے قبل ارکان پارلیمنٹ کو ترقیاتی فنڈز دینے کا نوٹس لے لیا۔ منگل کو چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سرکاری اشتہارات کے کیس کی سماعت کے دوران الیکشن سے قبل ارکان پارلیمنٹ کو ترقیاتی فنڈز دینے کا نوٹس لیا۔چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ یہ بات سامنے آرہی ہے کہ حکومت الیکشن سے پہلے اراکین کوترقیاتی فنڈز جاری کررہی ہے، کیا اراکین کو ترقیاتی فنڈز دینے کا عمل پری پول دھاندلی میں نہیں آتا؟۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ الیکشن سے پہلے کروڑوں کے فنڈز کس قانون کے تحت دیئے جاتے ہیں؟۔چیف جسٹس نے حکم دیا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل حکومت سے فنڈز کے اجرا کی قانونی حیثیت پوچھ کرعدالت کو آگاہ کریں۔ہو سکتا ہے انتخابات سے قبل ترقیاتی فنڈز کے اجرا پر پابندی لگا دیں، سرکاری فنڈز کو اراکین اسمبلی کی صوابدید پر چھوڑا جا سکتا۔ یہ گائیڈ لائن ہونی چاہئیں کہ سرکاری اشتہار کس کے لیے ہوناچاہیے، یہ کام اپنی ذمہ داری سمجھ کرکررہے ہیں، حکومتیں اپنی تشہیر کے لیے سرکاری خزانہ استعمال نہ کریں بلکہ سیاسی تشہیر کے لیے اپنا پارٹی فنڈ استعمال کریں، سرکاری پیسے سے اشتہار سے پری پول دھاندلی ہوتی ہے۔چیف جسٹس نے حکم دیا کہ پیپلز پارٹی نے سرکاری اشتہارات کے ذریعے جو اپنی سیاسی تشہیر کی وہ رقم قومی خزانے میں واپس جمع کرائے۔اے پی این ایس کے وکیل نے کہا کہ عدالت میں گائیڈ لائنز پیش کررہے ہیں، سرکاری اشتہار ووٹ مانگنے کے لیے استعمال نہیں ہوسکتا، اس سے سیاسی تشہیر نہیں ملنی چاہیے اور سیاسی شخصیات کی تصاویر نہیں ہونی چاہیے، سرکاری منصوبوں سے آگہی عوام کا حق ہے۔ چیف جسٹس نے کہا ہم چاہتے ہیں کہ سیاسی لیڈران کی تصاویر اشتہارات میں لگوانا بند کرادیں، جو تصاویر لگی ہیں پارٹی رہنماں سے پیسے واپس کرادیں ، یہ معاملہ ایک دو دن میں حل ہوجائیگا، اس پر کام کررہے ہیں۔سیکرٹری اطلاعات خیبرپختون خوا نے عدالت میں پیش ہوکر بتایا کہ گزشتہ تین ماہ میں صوبائی حکومت نے 24 کروڑ روپے اشتہارات پر خرچ کیے، تاہم ان 3 ماہ کےاشتہارات میں پرویز خٹک اور عمران خان کی تصاویرتلاش نہیں کرسکا۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے پنجاب حکومت کی جانب سے سرکاری اشتہارات سے متعلق گزشتہ تین ماہ کی رپورٹ جمع کراتے ہوئے بتایا کہ اشتہارات میں سیاسی رہنماو¿ں کی تصاویر شامل ہیں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.