Daily Taqat

سپریم کورٹ آف پاکستان نےبینکوں سےقرض معاف کروانےوالے 222 افراد کو8جون کوطلب کرلیا

اسلام آباد :  سپریم کورٹ آف پاکستان نے بینکوں سے قرض معاف کروانے والے 222 افراد کو8جون کو طلب کر لیا۔ چیف جسٹس ثاقب نثارنے کہا کہ کمیشن نے تمام 222 افراد کے خلاف انکوائری کے لئے سفارش کی ہے۔ کسی کی غیرحاضری قبول نہیں کی جائے گی، ان لوگوں نے 84 ارب روپے کے قرضے معاف کروا لئے۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس مشیر عالم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے اتوار کے روز بینکوں سے قرض معاف کرانے سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ نے کمیشن سمری جمع کروا دی ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ گورنر اسٹیٹ بینک خود کہاں ہیں؟ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ 222 افراد نے خلاف ضابطہ قرضے معاف کروائے۔عدالت نے قرضے معاف کروانے والے 222 افراد اور کمپنیوں کو نوٹس جاری کر دیا۔ عدالت نے تمام افراد کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ قرضے معاف کرنے والے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہو گی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کمیشن کے مطابق 222 افراد نے خلاف ضابطہ قرضے معاف کروائے ہیں اور ہم ان 222 افراد کو نوٹس جاری کرینگے جو کمیشن قرضہ معافی کے حوالے سے بتایا گیا تھا اس نے بھی 222 افراد کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت کی تھی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ تمام 222 افراد حاضر ہو جائیں کسی کی غیرحاضری قابل قبول نہیں ہو گی۔ ان لوگوں نے 84 ارب روپے کے قرضے معاف کروائے ہیں۔ عدالت نے 222 افراد سے8 جون کو تحریری جواب طلب کر لیا ہے اور ان کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کمیشن کے مطابق 84 ارب روپے کے قرضے معاف کئے گئے ہیں جبکہ 222 افراد اور کمپنیوں نے قرضے معاف کروائے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ 84 ارب روپے معاف کروا لئے گئے حد ہو گئی، آئندہ سماعت پر کسی کی بھی غیرحاضری قبول نہیں ہو گی۔ عدالتی حاضری کے لئے پریس ریلیز جاری کرنی پڑے تو کریں۔ واضح رہے کہ جسٹس (ر) جمشید علی پر مشتمل کمیشن نے 2011ءمیں رپورٹ تیار کر کے عدالت میں پیش کی تھی۔ کمیشن نے 620 اور کمپنیوں کی جانب سے 84 ارب روپے معاف کروانے کی نشاندہی کی تھی۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »