سپریم کورٹ نے الائیڈ بینک کے صدرکی عدم حاضری پرجرمانہ عائد کردیا

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سماعت کے دوران الائیڈ بینک کے صدر کی عدم حاضری پر 2 لاکھ روپے نقد جرمانہ عائد کرتے ہوئے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر ملزم
عدالت میں جرمانہ ضرور جمع کروائے۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دئیے ہیں کہ یو بی ایل کے صدر نے اپنی تنخواہ اور مراعات درست نہیں بتائیں، کیوں نہ آئی بی اور ایف آئی اے سے ان کی تمام تفصیلات نکلوائی جائیں، اگر کسی نے عدالت میں جھوٹ بولا تو اس کے نتائج بھی بھگتنے کیلئے تیار رہے‘بزرگوں اور بیواو¿ں کو کیسے کہوں آئین میں آپ کیلئے کچھ نہیں‘’بیوہ کو 243 روپے دینا کہاں کی انسانیت ہے؟ خوشحال بی بی کو کیسے کہوں کہ ان ہی پیسوں میں خوش رہیں‘یہ کہاں کا انصاف ہے کہ بینکوں کے صدر خود بھاری تنخواہیں لیں اور پینشنرز کو گنی چنی رقم ادا کی جائے۔ بدھ کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے پینشنز کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ پینشنز لینے والے اب کمانے کے قابل نہیں، بزرگوں اور بیواوں کو کیسے کہوں کہ آئین میں آپ کے لیے کچھ نہیں کرسکتا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’بیوہ کو 243 روپے دینا کہاں کی انسانیت ہے؟ خوشحال بی بی کو کیسے کہوں کہ ان ہی پیسوں میں خوش رہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بزرگوں اور بیواو¿ں کو کیسے کہوں کہ آئین آپ کے لیے کچھ نہیں کرسکتا؟ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ بینکوں کے صدر خود بھاری تنخواہیں لیں اور پینشنرز کو گنی چنی رقم ادا کی جائے۔ جسٹس ثاقب نثار کی باتوں پر پینشنرز نے عدالت میں تالیاں بجائیں جس پر چیف جسٹس نے انہیں روکتے ہوئے ریمارکس دیے کہ انصاف کرتے ہیں اس کے عوض جو نتائج بھگتنا پڑا سامنا کرلیں گے۔ سماعت کے دوران الائیڈ بینک کے صدر کی عدم پیشی پر عدالت نے 2 لاکھ روپے نقد جرمانہ عائد کرتے ہوئے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر ملزم عدالت میں جرمانہ ضرور جمع کروائے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یو بی ایل کے صدر نے اپنی تنخواہ اور مراعات درست نہیں بتائیں، کیوں نہ آئی بی اور ایف آئی اے سے ان کی تمام تفصیلات نکلوائی جائیں، اگر کسی نے عدالت میں جھوٹ بولا تو اس کے نتائج بھی بھگتنے کے لیے تیار رہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.