احتجاج کاحق شہریوں کےبنیادی حقوق کےتحفظ کےساتھ مشروط ہے، لاہورہائیکورٹ

لاہور: لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ نے صوبائی دارالحکومت کے علاقے مال روڈ پر سیاسی جماعتوں کو جلسے کی مشروط اجازت دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ احتجاج کا حق شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے ساتھ مشروط ہے، عدالت نے حکومت پنجاب، آئی جی پنجاب، ڈی سی لاہور کو عملدرآمد کی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی مزید
سماعت 21جنوری تک ملتوی کر دی۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس امین الدین خان، جسٹس شاہد جمیل اور جسٹس شاہد کریم پر مشتمل تین رکنی فل بینچ نے مال روڈ کا دھرنا روکنے کے لیے اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ سمیت تاجروں کی طرف سے دائر درخواستوں پر فیصلہ سنایا۔ عدالت نے حزبِ اختلاف کی جماعتوں کو مال روڈ پر رات بارہ بجے تک احتجاجی جلسے کی مشروط اجازت دے دی اور رات بارہ بجے کے بعد میڈیا کو اس جلسے کی کوریج کرنے سے بھی روک دیا ہے۔عدالت نے حکومت پنجاب، آئی جی پنجاب، ڈی سی لاہور کو عمل درآمد کی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت اکتیس جنوری تک ملتوی کر دی۔ عدالت نے دھرنوں کے خلاف قانونی نکات کی وضاحت کے لئے فریقین کے وکلا کو آئندہ سماعت پر طلب بھی کیا ہے۔قبل ازیں کیس کی سماعت کے دوران عوامی تحریک کی جانب سے ایڈووکیٹ اظہر صدیق، پیپلزپارٹی کے لطیف کھوسہ، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شکیل الرحمن اور درخواست گزار کے وکیل اے کے ڈوگر ایڈڈوکیٹ پیش ہوئے۔عدالتی حکم کے باوجود ہوم سیکریٹری کے پیش نہ ہونے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔جسٹس شاہد کریم نے ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ ہوم سیکریٹری عدالت میں پیش کیوں نہیں ہوئے، وہ ذمہ دار ہیں انہیں عدالت میں پیش ہونا چاہیے تھا۔ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کی جانب سے صوبائی حکومت کی جانب سے دھرنا اور احتجاج سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی۔عدالت نے کہا کہ آپ نے دھرنے کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے؟ کیا آپ کو معلوم ہے کہ دھرنے کے باعث ہم عدالت کیسے پہنچے؟۔عدالت نے کہا کہ حکومت کی جانب سے جو نوٹیفکیشن جاری کیا گیا اس میں کسی قانون کا ذکر نہیں کیا گیا۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ ڈپٹی کمشنر کے خط سے لگتا ہے کہ ا انہوں نے دھرنا روکنے کے بجائے اجازت دے دی۔ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ دھرنا انتظامیہ کو دھرنے سے متعلق مسائل اور سکیورٹی خدشات سے آگاہ کیا گیا۔عدالت نے عوامی تحریک کے وکیل سے استفسار کیا کہ عوامی تحریک کا کیا منصوبہ ہے؟ عوامی تحریک دھرنا دے گی یا جلسے کے بعد مال سے چلے جائیں گے؟ ۔اس پر عوامی تحریک کے وکیل اظہر صدیق نے آگاہ کیا کہ رات گئے تک جلسہ ختم کیا جا سکتا ہے تاہم اگر حکومت نے تشدد کا رستہ اختیار کیا تو پھر دھرنا ختم کرنے کا کوئی وقت نہیں دے سکتے۔پیپلز پارٹی کے رہنما لطیف کھوسہ نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے عدالتی فیصلے کو ردی کی ٹوکری میں پھینکنے کی باتیں کی جارہی ہیں۔ متحدہ اپوزیشن کا جلسہ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی کے لئے دھرنا دے رہی ہیں۔ عدالت کو یقین دلاتے ہیں کہ رات گئے دھرنا ختم کر دیا جائے گا، پرامن رہنے کی مکمل ضمانت دیتے ہیں۔ احتجاج کرنا ہمارا آئینی اور قانونی حق ہے۔جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ جمہوریت کا یہ مطلب نہیں کہ عام آدمی کے حقوق سلب ہوں، ان درخواستوں کا تعلق آپ کی اس بات سے نہیں ہے بلکہ ان کے حقوق اہم ہیں جو اسکولوں اور ہسپتالوں میں نہیں پہنچ پا رہے۔درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دہیے کہ سیاسی جماعتیں عوام کی منتخب حکومت کے خلاف دھرنا دینے جارہی ہیں اور مال روڈ پر اس دھرنے سے تاجر برادری متاثر ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کا دھرنا پی پی سی 124 کی خلاف ورزی ہے اور اس دھرنے سے عوام کے حقوق مجروح ہوں گے۔درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ریاست عوام کے حقوق کی حفاظت کی ذمہ دار ہے، سیای جماعتوں کے دھرنے سے مال روڈ اور ارد گرد مارکیٹیں بند ہونے سے ملکی معیشت کو نقصان ہوگا۔اے کے ڈوگر نے کہا کہ رات کو ڈاکٹر طاہرالقادری کو کہتے ہوئے سنا کہ شہباز شریف اور رانا ثنا اللہ کے استعفیٰ تک دھرنا جاری رہے گا۔اب تو بات استعفوں سے بھی آگے نکل گئی ہے، عوامی تحریک والے (ن) لیگ کی حکومت کے خاتمے کا کہتے ہیں۔اے کے ڈوگر نے کہا کہ ماضی میں بھی دھرنے اور احتجاج ہوتے رہے ہیں لیکن حکومت سوئی رہی، اگر حکومت قانون پر عمل نہیں کرواسکتی تو اسے حکومت کرنے کا حق حاصل نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ واٹر کینن، آنسو گیس اور ربڑ کی گولیوں سے حکومت دھرنا روک سکتی ہے، حکومت خوفزدہ ہے کہ کہیں مزاحمت پر خون نہ بہہ جائے۔ درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیے کہ 2014ءمیں آزادی مارچ کے نام سے لانگ مارچ کیا گیا، اس دھرنے میں بھی حکومت کو گرانے کی کوشش کی گئی۔درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر کی جانب سے دھرنے سے روکنے کا نوٹیفکیشن اجازت دینے کے مترادف ہے، اگر پیمرا میڈیا ہاﺅسز کو دھرنوں کی کوریج سے روک دے تو یہ احتجاج ختم ہوجائیں گے۔اس موقع پر درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ اگر اپوزیشن سیاسی جماعتوں کو دھرنا دینا ہی ہے تو باغ جناح یا ایسی کسی جگہ پر دیں، جس سے معمولات زندگی متاثر نہ ہوں۔جس پر عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا جسے بعد ازاں سناتے ہوئے جلسے کی مشروط اجازت دی گئی ۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.