ٹرمپ کے دباو کا نتیجہ، ایران، یورپ کیساتھ مذاکرات پر راضی ہوگیا

برسلز: مغربی ذرائع نے بتایا ہے کہ ایران اپنے متنازع بیلسٹک میزائل پروگرام اور مشرق وسطی میں علاقائی توسیع کے سلسلے میں اپنی تخریبی پالیسیوں کے حوالے سے یورپی یونین کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ ہو گیا ہے۔برطانوی اخبارنے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرپ کے دباو¿ اور جوہری معاہدے کی اصلاح کے مطالبے کے نتیجے میں تہران یورپ کے ساتھ مذکورہ امور کو زیر بحث لانے پر راضی ہو گیا۔ذرائع کے مطابق وہ معاہدے میں بعض ترامیم چاہتے ہیں جن میں میزائل پروگرام کا خاتمہ اور ایران کے جوہری ہتھیاروں کا عدم حصول شامل ہے۔ ٹرمپ بارہا یہ دھمکی بھی دے چکے ہیں کہ ایران کی جانب سے ان شرائط پر عدم موافقت کی صورت میں امریکا معاہدے سے نکل جائے گا جب کہ یہ موقف یورپ کے نزدیک پسندیدہ نہیں۔
ذرائع نے جرمن وزارت خارجہ کے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ جرمنی ، فرانس اور برطانیہ کے وزرائے اعظم کے علاوہ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی رابطہ کار فیڈریکا موگرینی تہران کے ساتھ اس امر پر متفق ہو گئے ہیں کہ ایران کے میزائل پروگرام اور خطے میں دیگر ممالک کے معاملات میں مداخلت کے حوالے سے بھرپور اور سنجیدہ بات چیت شروع کی جائے۔رپورٹ کے مطابق جرمن وزیر خارجہ زیگمار گابریئل نے امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کو ایران کے ساتھ اس موافقت کے نتائج سے آگاہ کیا۔ یہ پیش رفت گزشتہ ہفتے زیگمار کی فرانس اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کے بعد سامنے آئی۔ اسی طرح فیڈریکا موگرینی نے بھی ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد سے ملاقات کی تھی۔اخبار کے مطابق یورپی سفارت کار تیزی کے ساتھ وہائٹ ہاو¿س کے ذمّے داران سے معلومات حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں تا کہ ٹرمپ کے ا±ن مطالبات کا تعین کیا جا سکے جو وہ یورپی یونین کو دی گئی 120 روز کی مہلت کے دوران جوہری معاہدے میں ترامیم کے واسطے کریں گے۔ایک یورپی سفارت کار نے بتایا کہ ٹرمپ کی یورپی یونین کو دیے گئے اس انتباہ کا حاصل یہ ہے کہ اگر آئندہ چار ماہ کے دوران آپ لوگوں نے عمل نہیں کیا تو معاہدہ اختتام پذیر ہو جائے گا۔ اس طرح آپ لوگ ہمارے شانہ بشانہ نہیں بلکہ ایران کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تہران نے یورپ کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی تا کہ اپنی علاقائی پالیسیوں کے سبب اپنے خلاف ایک بڑے بین الاقوامی محاذ کی تشکیل کو روک سکے۔ تاہم ایرانی تجزیہ کار خبردار کر رہے ہیں کہ جوہری معاہدہ امریکا کے بغیر ہر گز جاری نہیں رہ سکے گا۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.