مسئلہ کشمیرجنوبی ایشیاءمیں تنازعات کا بنیادی سبب رہا ہے, ایاز صادق

اسلام آباد : سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ پاکستان اور انڈو نیشیاءکی اقوام گہرے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتوں کی لڑی میں پروئی ہوئی ہیں،برادرانہ تعلقات  دونوں ممالک کے معرض وجود میں آنے سے قبل بھی موجود تھے ،مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیاءمیں تنازعات کا بنیادی سبب رہا ہے۔ خطے کے دیرپا امن کےلئے کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق اور اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں اس حل طلب مسئلہ کا منصفانہ اور پُرامن حل درکار ہے،حالیہ برسوںمیں دونوں ممالک کے عوام کے درمیان رابطوں میں اضافے سے اعلیٰ تعلیمی، ثقافتی تبادلوں، دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقعوں میں تعاون کی نئی راہیں کھلی ہیں۔سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق یہ بات جمعہ کو انڈونیشین صد ر کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے موقع پر کہی ۔سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ جمہوریہ انڈونیشیا کے جمہوری طور پر منتخب ساتویں صدر جوکوویڈوڈو کا خیر مقدم کرنا میرے لئے منفردمسرت و انبساط کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا کے صدر کا دورہ پاکستان اور پارلیمنٹ سے خطاب ہمارے لئے انتہائی تاریخی اہمیت کا حامل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا کے پہلے صدر ڈاکٹر احمد سوئیکارنونے 26جون 1963ءمیں پاکستان کی قومی اسمبلی سے خطاب کیا تھا اور اب پچپن سال بعد یہ ایوان دنیا کے سب سے بڑی مسلمان آبادی والے ملک کے جمہوری طور پر منتخب صدر کی اپنے مابین موجودگی پر شاداں و فرحاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بیس کروڑ عوام کے نمائندہ کی حیثیت سے یہ پارلیمنٹ آپ کی موجودگی پر فخر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری دونوں اقوام گہرے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتوں کی لڑی میں پروئی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے برادرانہ تعلقات دونوں ممالک کے معرض وجود میں آنے سے قبل بھی موجود تھے کیونکہ ہم اپنی اپنی جدوجہد آزادی کے دوران بھی ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے تھے۔ انہوں نے کہا کہ 17اگست 1945ءمیںجب انڈونیشیا کے بابائے قوم ڈاکٹر احمد سوئیکارنو نے ولندیزیوں سے اپنی قوم کی آزادی کا اعلان کیااس وقت قائد اعظم محمد علی جناحؒ جو اس وقت آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے دوممالک کا درخشاں باب رہا ہے کہ برصغیر پاک و ہندسے تقریباً 600 مسلمان فوجیوں نے انڈونیشیائی جنگ آزادی میں حصہ لیاجن میں سے 500نے جام شہادت نوش کیا۔ یہ 600خوش نصیب اشخاص ہم دونوں اقوام کے مشترکہ ہیروز ہیں اور ہم مشترکہ طور پر انہیں سلام پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی انڈونیشیائی جدوجہد آزادی کےساتھ ذاتی وابستگی اس حقیقت سے مزید عیاں ہوتی ہے کہ انہوں نے کراچی کے ہوائی اڈہ پر ولندیزی طیاروں کو روکنے کا حکم دیاتھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس حقیقت پر فخر ہے کہ جب 1995ءمیں انڈونیشیا نے اپنی گولڈن جوبلی منائی تو اس نے اپنے پاکستانی ساتھیوں کو نہیں بھولا اور قائد اعظم محمد علی جناحؒ کو سب سے بڑے سول ایوارڈ ’ادی۔پورا‘ سے نوازا۔سردار ایاز صادق نے کہا کہ یہ اظہر من الشمس ہے کہ مسئلہ کشمیر ہی جنوبی ایشیاءمیں ۸۴۹۱ئ، ۵۶۹۱ئ، ۱۷۹۱ءاور بعد ازاں کے تنازعات کا بنیادی سبب رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیاءمیں دیرپا امن کےلئے کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق اور اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں اس حل طلب مسئلہ کا منصفانہ اور پُرامن حل درکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امید کرتا ہے کہ انڈونیشیا جیسے دوست ممالک اس ضمن میں پاکستان کی مدد کر تے رہیں گے۔ سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام کے تاریخی تعاون میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تنوع واقع ہوا ہے جس سے ہماری دونوں ممالک کی حکومتوں کو تمام شعبوں میں تعاون کا ایک مضبوط نظام وضع کرنے میں مدد ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوںمیں دونوں ممالک کے عوام کے مابین رابطوں میں اضافہ ہوا ہے جس سے دونوں طرف اعلیٰ تعلیمی، ثقافتی تبادلوں، دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقعوں میں تعاون کی نئی راہیں کھلی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی پارلیمان نمو پذیر اور پائیدار شراکت داری کے حصول کےلئے مشترکہ طور پر کام کر کے ایک بامعنی کردار ادا کر سکتی ہےں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی دہشتگردی کےخلاف جنگ ہمارا بہت بڑا چیلنج رہا ہے جس میں پاکستان نے 65ہزار جانوں کے نذرانے اور اپنی معیشت کے ایک سو بیس ارب امریکی ڈالرزکے نقصان کے ساتھ، بھاری قیمت ادا کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ درحقیقت ہماری دو قومیں، دو سب سے بڑے مسلم ممالک ایک ہی جیسی پیچیدہ صورتحال سے دوچار ہیںچاہے وہ 2006ءکے بالی بم دھماکے ہوں یا 2009ءاور2012ءکے جکارتہ حملے یا پھرپشاور میں 2016ءمیں آرمی پبلک سکول پر بھیانک حملہ ہو۔انہوں نے کہا کہ دہشتگردی اور انتہاپسندی ہمارے مشترکہ دشمن ہیں۔آپ حقیقی معنوں میں ایک مصلح اور بصیرت رکھنے والے صدر کے طور پر جانے جاتے ہیں جو عوام کا نبض شناس ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.