سینٹ انتخابات میں چابی والے کھلونے ایک ہی جگہ سجدہ ریزہوگئے، نوازشریف

اسلام آباد:  پاکستان مسلم لیگ (ن)کے قائد سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ سینٹ انتخابات میں چابی والے کھلونے ایک ہی جگہ سجد ہ ریز ہوگئے ¾ کس کے آگے جھکے ہو ؟ اس کی ملک کےلئے کیا خدمات ہیں ؟ اس کا قد کاٹھ کیا ہے ؟ہم پاکستان پر لڑ مر نے والے لوگ ہیں ¾یہ لوگ آپ کوبیچ کر اپنا مفاد حاصل کرینگے ¾ہم کسی اور کی بارگاہ میں جھکنے والے نہیں ”ووٹ کو عزت دو “ہماری پارٹی کے منشور کا عنوان ہوگا ¾ جو مشن چن لیا ہے اس کی تکمیل سے تک کبھی پیچھے نہیں ہٹونگا ¾ اگلے ستر سال بہتر بنانے کےلئے آپ کے قدم سے قدم ملا کر چلونگا ¾ میری ذات کی کوئی حیثیت نہیں ¾اگر اب کسی کی حیثیت ہے تو قوم ملک اور آنے والی نسلوں کی ہے؟سب کو گواہ بنا کر کہتا ہوں مجھے کوئی ذاتی مفاد یا لالچ نہیں ¾ پاکستان کےلئے جدو جہد کر ناچاہتا ہوں ¾مجھے اپنی جان کی پرواہ نہیں قوم کی آن کی پرواہ ہے ¾ ملک کو ترقی کی طرف گامزن کر نے کی مجھے سزا دی جارہی ہے ¾قوم مخالفین کی ساری حرکت کو بری نگاہ سے دیکھتی ہے ¾تم جھوٹے ہو ¾ منافق ہے ¾ تمہارے قول و فعل میں تضاد ہے ¾تمہارے دل میں کچھ اور زبان پر کچھ ہے ¾عوام نے 2018کا الیکشن ریفرنڈم بنا دینا ہے ۔ منگل کو مرکزی جنرل کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن)کے قائد ¾سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف نے کہا کہ آپ سب یہاں شہباز شریف کو پارٹی کا نیا منتخب صدر کر نے کےلئے آئے ہیں ¾ یہ صورتحال ہمارے لئے پیدا کر دی گئی ہے جس کے تحت ہمیں یہ فیصلہ کر نا پڑتا ۔انہوںنے کہاکہ 2013میں آپ نے مجھے وزیر اعظم بنایا ¾ یہ چار کیسے گزرے ؟مجھے سمجھ نہیں آتی کہ آناً فاناً ایک اچھے بھلے وزیر اعظم کو ہٹا دیا گیا آپ نے کروڑوں ووٹ دیکر وزارت عظمیٰ کی کرسی پر بٹھایا تھا ۔ نوازشریف نے کہاکہ پچھلے چار سال کی طرف مڑ کر دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ میری اس قوم کو اندھیروں میں ڈبو دیا گیا ¾ میر ی قوم کو آج دہشتگردی کا سامنا ہے ¾ میری قوم ترقی کی بجائے تنزلی کی طرف جارہی ہے ¾ قوم دنیا میں پستی کی طرف جارہی ہے ۔نواز شریف نے کہاکہ ہم نے چارسال نہ صرف سوچا بلکہ اس کا ساتھ ساتھ علاج بھی کیا۔ انہوںنے کہاکہ جب ملک کے اندر لوڈشیڈنگ کا دور شروع ہو جائے تو اس کو ختم کر نا آسان نہیں ہوتا ¾ آپ چار سالوں میں ختم کر دینگے دنیا میں ایسا ممکن نہیں لیکن ہم نے اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے دن رات ایک کر کے لوڈشیڈنگ کو ختم کر نے کی کوشش کی ¾ہم نے اس کام کےلئے چین کا سانس نہیں لیا ¾ہم بھاگے پھرتے رہے ۔ نوازشریف نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی کہتے ہیں کہ نوازشریف آپ نے اتنے منصوبے لگا دیئے کہ میں اس کا افتتاح کرکے تھک گیا ہوں ¾میں روز نئے نئے منصوبوں کا افتتاح کرتا ہوں ¾ کہیں سڑکوں ¾ کہیں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے منصوبے اور ترقی کے منصوبے شروع کئے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ کہتے شہباز شریف نے دس سال میں کیا کیا ہے میں کہتا ہوں شہباز شریف نے پنجاب میں ایسا کام کیا ہے جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی ۔نواز شریف نے کہا کہ مجھے کوئی صوبہ بتائیں جس میں پنجاب کی طرح کام ہوئے ہوں ۔ نواز شریف نے کہا کہ اگر کہیں ترقی ہورہی ہے تو اس کو صدق دل سے تسلیم کریں ¾ اس کو مانیں یہاںترقی ہورہی ہے ؟انہوںنے کہاکہ 2013کا نقشہ ذہن میں لیکر آئیں ¾ 2013میں پاکستان کس حال میں تھا ¾ اندھیرے ہی اندھیرے تھے ¾ گھروں میں اندھیرے ¾ تھے فیکٹروں میں بجلی بند تھی ¾ پاکستان ترقی کی بجائے تیزی سے پیچھے جارہا تھا ¾ خود پاکستانی بڑے افسردہ تھے انہوںنے کہا کہ آج 2018ہے ¾ صرف چار سال پہلے کی بات کررہا ہوں ¾ اس دوران پاکستان کے اندر روز دھماکے ہوتے تھے ¾ پاکستان کے اندر روز خون بہتا تھا ¾ پاکستان کے اندر ترقی کے کوئی آثار نہیں تھے ¾ پاکستان پستی والے ممالک میں شامل ہو چکا ہے ¾ اس وقت ہمارے لئے حکومت سنبھالنا چیلنج تھا ¾ہم نے اسے چیلنج سمجھ کر قبول کیا ¾ خزانہ خالی تھا ¾ ایک منصوبہ لگانے کےلئے پیسے نہیں تھے ۔ نواز شریف نے کہا کہ میں تاریخ بتا رہا ہوں ¾ بینکوں کے پاس اتنا پیسہ نہیں تھا کہ ہم بجلی کا ایک منصوبہ لگا سکیں ¾آج درجنوں منصوبہ لگ چکے ہیں ¾ بہت سارے بجلی پیدا کررہے ہیں اور بہت سارے بجلی پیدا کرنے والے ہیں یہ کہاں سے ہوا ؟یہ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے نیک نیتی کا نتیجہ ہے ہم نے ارادہ کیا ¾محنت کی ¾ اللہ نے مدد کی ہے ۔ نوازشریف نے کہا کہ آج اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے کہاں بیس سے بائیس گھنٹے کی لوڈشیڈنگ تھی ¾آج ہم سکھ اور سکون میں زندگی گزار رہے ہیں ہم نے دن رات کام کر کے دکھایا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان کے اندر سڑکوں کا جال بچھایا گیا ہے ¾ پشاور سے لاہور ¾ ملتان سے کراچی موٹر وے بن رہی ہے اور یہ اگلے دو تین ماہ میں مکمل ہو جائیگی اس کا افتتاح انشاءاللہ شاہد خاقان عباسی کرینگے ۔انہوںنے کہاکہ شاہد خاقان عباسی مجھے کہتے ہیں کہ آپ بھی میرے ساتھ آیا کریں ¾ میں نے جواب دیا میں نے جو کر نا تھا وہ کرلیا جو میرے ساتھ ہوا اس کے بعد کسی جگہ پر جاکر افتتاح کر نے کا میرا دل نہیں چاہ رہا ¾ میں بھی ایک انسان ہوں۔اس موقع پر نوازشریف نے شعر پڑھا ”ہمارا خون بھی شامل ہے تزئین گلستان میں ¾ہمیں بھی یاد کرلینا چمن میں جب بہار آئے“۔انہوںنے کہاکہ میرا بڑا دل چاہتا تھا ¾ مجھے منصوبوں کے ساتھ محبت تھی ¾ کئی ایسے منصوبے ہیں جن میں میرا پسینہ گرا ہوا ہے ¾ میں وہاں نہیں گیا ۔انہوںنے کہاکہ مجھے یقین ہے شاہد خاقان عباسی مجھے یاد کرتے ہونگے ¾وزیر اعلیٰ پنجاب بھی یاد کرتے ہونگے ¾ کبھی کبھی انسان کا دل ٹوٹ جاتا ہے لیکن میں نے جو مشن چن لیا ہے اس کی تکمیل کےلئے کبھی پیچھے نہیں ہٹوں گا ¾وہ میرے ایمان کا حصہ ہے انہوںنے کہاکہ جس طرح ہمارے ستر سال گزر ے ہیں اگلے ستر سال ویسے نہیں گزر نے چاہئیں اور اس بات کو یقینی بنانے کےلئے آپ کے قدم سے قدم ملا کر چلونگا ¾ آپ کو مجبور کرونگا کہ آپ بھی میرے قدم سے قدم ملا کر چلیں ¾ آپ کو بھی چین سے نہیں بیٹھنے دونگا ¾ میں اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے منشور کے عنوان صرف چار الفاظ ہونگے کہ ووٹ کو عزت دو ¾ لاکھوں کے مجمعے یہی نعرہ لگا رہے ہیں ¾ ووٹ کو عزت دینے کا مطلب کیا ہے کہ عوام کو عزت دو ¾عوام کے مینڈیٹ کا احترام کرو ¾ ان کے مینڈیٹ کو عزت دو ¾ان کے حق حکمرانی کو عزت دو ¾ آپ کی آنے والی نسلوں کےلئے نعرہ لگا رہا ہوں ۔ نوازشریف نے کہاکہ میری ذات کی کوئی حیثیت نہیں ہے ¾ میرے سامنے کسی کی حیثیت ہے تو وہ آپ ہیں ¾ آنے والی نسلوں کی ہے ¾اس ملک کی ہے ¾انہوںنے کہاکہ آپ کے علاوہ مجھے آج کروڑوں لوگ دیکھ رہے ہیں ¾ آپ سب کو گواہ بنا کر کہتا ہوں مجھے کوئی ذاتی مفاد اور لالچ نہیں ہے میں اپنے ملک اور عوام کی بات کررہا ہوں ¾ آنے والی نسلوں کی بات کررہا ہوں ¾ پاکستان کےلئے جدو جہد کرناچاہتا ہوں وہ اس قوم اور آپ کی عزت کےلئے کرنا چاہتا ہوں ¾ ووٹ کی عزت ہوگی تو آپ کی بھی عزت ہوگی ¾ آپ کی نسلوں کی عزت ہوگی ¾ غیر ملکی لوگوں میں آپ کی عزت ہوگی ۔ نوازشریف نے کہ اکہ 2018ءکے الیکشن کو ایک ریفرنڈم بنا دینا ہے ¾ اس کو ریفرنڈم بناﺅ گے ؟ نوازشریف نے کہا کہ میں آج اپنے کئے کی سزا نہیں بھگت رہا ہوں ¾ روز نیب کی عدالتوں کے چکر کاٹ رہا ہوں ¾ کوئی مجھے بتا دے نوازشریف آپ نے فلاں جگہ پر کرپشن کی ہے ؟آپ اس بات کی گواہی دیتے ہو ¾ کس چیز کے مقدمے مجھ پر ہیں ¾ میں ووٹ کے احترام کی بات کرتا ہوں ¾ پاکستانیوں کی عزت کی بات کرتا ہوں ¾ ان کےلئے اچھے روز گار کی بات کرتا ہوں ¾ پاکستانی قوم کو آگے بڑھتے ہوا دیکھنا چاہتا ہوں ¾ ترقی کر تے ہوئے دیکھناچاہتا ہوں ¾پاکستان کی ترقی میرا ایجنڈا ہے ¾ میں نے جو کہا وہ کر کے دکھایا ہے ¾آج بجلی آگئی ہے ¾دہشتگردی ختم ہوگئی ہے ¾ سی پیک چل رہا ہے ¾ لاکھوں کو روز گار مل رہا ہے ¾ پاکستان ترقی کی طرف جارہاہے ¾ دنیا کے اندر پاکستان کی عزت ہورہی ہے ¾ مہنگائی کا خاتمہ ہورہا ہے ¾ لوگ خوشحال ہورہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ ہسپتال بن رہے تھے اورنج ٹرین بن رہی ہے ¾موٹر وے بن رہے ہیں ¾ میٹرو بس بن رہی ہے ¾ اس کی چیز کی سزا دی جارہی ہے ¾ پاکستانی ترقی کی بات کررہا ہوں آج اسی وجہ سے سب سے زیادہ مجھے نشانہ بنایا جارہا ہے ¾ مجھے اپنی جان کی پرواہ نہیں ہے مجھے اپنی قوم کی آن کی پرواہ ہے ۔نوازشریف نے کہا کہ کل آپ نے یہاں ایک تماشا دیکھا ہے ¾ آپ نے دیکھا ہے یا نہیں دیکھا ؟ انہوںنے عمرا ن خان کا نام لئے بغیر کہا کہ بڑی بڑی بات کرتے ہیں ¾ ہم بڑے اصول والے ہیں ¾ ہم نیا پاکستان بنائیں گے ¾ کہتے ہیںہم پاکستان میں کوئی کمپروز کر نے والی سیاست نہیں کرینگے ¾دیانتداری کی سیاست کرینگے ¾ ایک ہی بار گاہ میں سب جا کر جھک گئے ؟بنی گالا بھی اسی جگہ جا کر جھک گیا ¾ بلاول ہاﺅس والے بھی کوئٹہ والی جگہ میں جھک گئے ¾ کے پی کے سے چلنے والے قافلے بھی وہیں جا کر جھک گئے ¾ ایک ہی جگہ سجدہ کر دیا ¾ کس کے آگے جھکے ہو ¾ اس کی کیا خدمات ہیں ¾ اس کا قد کاٹھ کیا ہے ¾ کسی کو کوئی پتہ نہیں ہے ¾ یہ چابی والے کھلونے ہیں انہوں نے پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف پر تنقید کرےت ہوئے کہا کہ کس طرح سے تم لوگوں کو بتاﺅ گے ؟ ہم نے کیوں جا کر سلام پیش کیا ¾ کیوں جا کر جھکے ¾ کیسے جاکر سجدہ ریز ہوگئے ہیں ¾ کونسے نئے پاکستان کی بات کرتے ہو ¾ قوم تمہاری ساری حرکت کو بری نگاہ سے دیکھتی ہے ¾تم جھوٹے ہو ¾ منافق ہے ¾ تمہارے قول و فعل میں تضاد ہے ¾تمہارے دل میں کچھ اور زبان پر کچھ ہے ۔نوازشریف نے سوال کیا کہ کیا اس طرح کے لیڈر ہوتے ہیں ؟ یہ پاکستانی قوم کے لیڈر ہیں ؟ یہ پاکستانی قوم کی شرمندگی ہے ¾ ایسا پاکستانی تاریخ میں نہیں ہوا ¾ تم جیت کر بھی ہار گئے ہو ہم ہار کر بھی جیت گئے ہیں ۔اس موقع پر نوازشریف نے شعر پڑھا ”جو میں سربسجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا ¾تیرا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں۔انہوںنے کہاکہ دل میں کھوٹ ہو تو کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتے ۔نوازشریف نے کہا کہ ہم کمپرومائز کر نے والے لوگ نہیں ہیں ¾ پاکستانی قوم کو بیچنے و الے لوگ نہیں ہیں ¾ ہم جو ہیں آپ کے سامنے ہیں اور وہ بھی آپ کے سامنے ہیں ۔نوازشریف نے کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ کی رسوائی ہمیں منظور نہیں ہے ¾ یہ لوگ اپنے مفادات کےلئے آپ کو بیچ دیں گے ¾ ان لوگوں کو بھی دیکھ لیا ہمیں بھی دیکھ لیا ۔نوازشریف نے کہا کہ ہم کھڑے ہیں ¾ہم اللہ کے سوال کسی کے سامنے نہیں جھکتے ¾ کسی اور کی بارگاہ میں جھکنے والے نہیں ہے ¾ انہوںنے کہاکہ ہم لڑ مر نے والے لوگ ہیں لیکن یہ لوگ آپ کو بیچ کر مفاد حاصل کرینگے ۔انہوںنے کہاکہ آپ بھی فیصلہ کرو ¾ آپ بھی اللہ کی بار گاہ میں جھکو گے ¾ آپ بھی میرے سامنے وعدہ کریں ¾ ہم کبھی کسی انسان کے سامنے نہیں جھکیں گے ¾ پاکستان کو سنواریں گے ¾ ان کو ریفرنڈم بنائیں گے ¾ پاکستان کی تقدیر بنائیں گے ۔ اس موقع پر نوازشریف نے کہاکہ وعدہ کریں پاکستان کی تقدیر کو بدلو گے جس پر شرکاءنے نوازشریف کے حق میں نعرے لگائیں ۔ تقریر کے آخر میں نواز شریف نے ووٹ کو عزت دو کے نعرے لگوائے ۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.