حکومت ملک بھرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں روکنے کیلئے اقدامات کررہی ہیں قومی اسمبلی وقفہ سوالات

اسلام آباد : قومی اسمبلی کو بتایاگیا ہے کہ حکومت ملک بھر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ر وکنے کےلئے اقدامات کررہی ہے ¾ قومی کمیشن برائے حقوق اطفال ایکٹ 2017ءکا نفاذ کردیا گیا ہے‘ قائم کمیشن بچوں سے متعلق موجودہ قوانین کا جائزہ لے کر نئی قانون سازی تجویز کرے گا ¾بجلی کے بقایا جات آسان شرائط پر ماہانہ اقساط پر ادا کرنے کی سہولت دی جاسکتی ہے ¾ بقایا جات معاف نہیں ہو سکتے ¾تاپی گیس پائپ لائن ترکمانستان سے بھارت تک جائے گی۔ جمعہ کو سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے انسانی حقوق کے قومی کمیشن سے گزشتہ ایک سال کی ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے رپورٹ طلب کرلی۔ جمعہ کو وقفہ پارلیمانی سیکرٹری راجہ جاوید اخلاص نے بتایا کہ حکومت ملک بھر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں روکنے کے لئے اقدامات کر رہی ہے ¾ انسانی حقوق کا علاقائی دفتر کوئٹہ نے جون 2013ءسے دسمبر 2017ءتک میڈیا مانیٹرنگ کے ذریعے 3297 معاملات پر کارروائی کی ہے۔ 41 آگاہی سیمینارز و ورکشاپس منعقد کی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انسانی حقوق کے لائحہ عمل پر عملدرآمد کی نگرانی کے لئے قومی ٹاسک فورس نوٹیفائی کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب اور ملائیشیا میں بہت سے پاکستانی بے روزگار ہوئے۔ سابق وزیراعظم نے اس پر کمیٹی بنائی اور تین ہزار لوگوں کو مفت وطن واپس لایا ¾دو ہزار کے اقامہ جات کی تجدید کرا کے انہیں ملازمت دلائی۔ ان کے خاندانوں کو پچاس پچاس ہزار روپے روزمرہ ضرورت پوری کرنے کے لئے دیئے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کے ایکشن پلان کے تحت ہیومن رائٹس کمیشن اور تمام صوبوں میں چیف سیکرٹریوں کو فوکل پرسن بنایا گیا اور ایکشن پلان پر عملدرآمد ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انسانی حقوق کے قومی کمیشن نے اپنے قیام سے اب تک ایک ہزار 241 مختلف شکایات نمٹائی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کمیشن کے لوگ قصور میں گئے اور زینب کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کے بارے میں بیانات لئے۔ سپیکر نے کہا کہ اس بارے میں کمیشن سے رپورٹ لے کر ایوان میں پیش کی جائے۔ سپیکر نے کہا کہ انسانی حقوق کے قومی کمیشن کے قیام سے اب تک کی رپورٹ ایوان میں پیش کی جائے۔ وزیر مملکت برائے پٹرولیم و قدرتی وسائل جام کمال نے بتایا کہ ایم ڈی پی ایس او کا تجربہ 38 سال کا ہے۔ موجودہ ایم ڈی کی تقرری خالصتاً میرٹ پر کی گئی ہے۔ اس کے لئے چھ امیدواروں کی حتمی شارٹ لسٹ وزارت کو بھجوائی گئی۔ ان کی تقرری ایل این جی ٹرمینل کی نیلامی کے بعد کی گئی ہے۔ وزیر مملکت برائے توانائی ڈویژن عابد شیر علی نے بتایا کہ جس فیڈر پر دس فیصد سے زائد لاسز ہوں گے وہاں پر لوڈشیڈنگ ہوگی۔ بلوچستان میں سمارٹ میٹرنگ میں کچھ مسائل ہیں۔ حکومت بجلی کی چوری روکنے اور نقصانات کو کم کرنے‘ بقایا جات کی وصولی میں تیزی لانے‘ بجلی میں کمی لانے کو یقینی بنانے کےلئے اقدامات کرتے ہوئے صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن کے ذمہ بقایا جات ہیں ان کو آسان شرائط پر قسطیں کرکے دیں گے تاہم بقایا جات معاف نہیں ہو سکتے یہ ادا کرنے پڑیں گے۔ جام کمال نے بتایا کہ تاپی گیس پائپ لائن ترکمانستان سے بھارت تک جائے گی۔ یہ پراجیکٹ بجلی پیدا کرنے میں معاونت کرے گا جس سے مستقبل کی بجلی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی۔ پائپ لائن کی سیکیورٹی کے لئے مقامی لوگوں کی خدمات لی جائیں گی۔ تاپی کے تحت گیس کی لاگت بہت زیادہ نہیں ہے۔ منصوبے کی تعمیر سے ملک میں درکار توانائی پوری کرنے میں مدد ملے گی۔ جی ڈی پی کی شرح بہتر ہوگی۔ وزیر مملکت جام کمال خان نے بتایا کہ ایسا ممکن نہیں کہ کوئی ملازم یا افسر اپنے دفتر میں مستقل نہ بیٹھے اگر ایسا کوئی افسر ہے تو بتایا جائے انضباطی کارروائی کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ کوئی افسر اتنی ہمت نہیں کر سکتا کہ ایم این اے کی بات نہ مانے۔ انہوں نے بتایا کہ میٹر لگانے کا ساڑھے چار سال سے سسٹم یہ ہے‘ 2003ءسے التواءمیں پڑی تمام درخواستیں نمٹائی جارہی ہیں اور یہ کیس بہت کم ہیں کہ کسی نے بعد میں درخواست کی ہو اور میٹر لگ گیا ہو۔وزیر مملکت جام کمال نے بتایا کہ این اے 7 چارسدہ میں ترقی یافتہ علاقوں کو گیس کی فراہمی کی منظوری 12 اپریل 2017ءکو دی گئی ہے۔ اس پر کام جلد شروع کردیا جائے گا۔ گیس پریشر کی وجہ سے پائپ لائن کے آخری علاقوں میں مسئلہ ہوتا ہے۔ اسلام آباد میں بھی ہے۔ اس سے نمٹنے کے لئے اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جن علاقوں میں کوئی کمپنی تیل و گیس تلاش کرتی ہے وہاں پر ترقیاتی کام بھی وہ خود کرتی ہے ¾ اگر کسی جگہ پر فنڈنگ درکار ہے تو پھر بھی 65 فیصد فنڈنگ وہی کمیٹی کرے گی۔ سپیکر نے کہا کہ بہت سے علاقوں میں گیس میٹروں میں سے پائپ کھولنے پر پانی نکلتا ہے ¾ شاید لائنیں پرانی ہیں ان کو تبدیل کرنا ہوگا۔ عابد شیر علی‘ مولانا گوہر شاہ اور سید علی احمد گیلانی نے بھی ہمیں شکایت کی۔راجہ جاوید اخلاص نے بتایا کہ قومی کمیشن برائے بہود و ترقی اطفال کو وزارت قانون کے ماتحت کردیا گیا ہے۔ بچوں کے حقوق بارے موثر رابطے ‘ نگرانی اور فروغ کے سلسلے میں قومی کمیشن برائے حقوق اطفال ایکٹ 2017ءکا نفاذ عمل میں لایا گیا ہے۔ کمیشن بچوں سے متعلق موجودہ قوانین کا جائزہ لے گا اور بچوں کے حقوق سے متعلق نئی قانون سازی تجویز کرے گا۔وقفہ سوالات کے دوران نعیمہ کشور نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں فرانزک لیب نہیں ہے۔ چائلڈ پروٹیکشن مراکز سارے بند ہیں۔ جس پنجاب کو ہم دن رات گالیاں دیتے ہیں مردان واقعہ کی فرانزک رپورٹ اس پنجاب کی لیبارٹری میں ٹیسٹ کے لئے بھیجی ہے۔ سپیکر نے کہا کہ آئندہ ہفتہ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کی ایک سال کی رپورٹ پیش کی جائے۔ راجہ جاوید اخلاص نے کہا کہ کراچی میں ماورائے عدالت قتل ہونے والے نوجوان کے حوالے سے بھی رپورٹ اس کے ساتھ پیش کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف انسانی حقوق کو حکومت نے فنڈز فراہم کئے ہیں۔ متاثرین کو مفت قانونی امداد فراہم کرنے کے لئے بھی فنڈ قائم کیا گیا ہے۔ سپیکر نے وزارت کے حکام کو آگاہ کیا کہ وہ لاپتہ افراد سمیت تمام اہم نکات جو ممبران اٹھا رہے ہیں نوٹ کرلیں اور تفصیلی جواب دیں۔ سپیکر نے کہا کہ قانون بنا ہے تو عملدآمد نہیں ہوتا۔ عدالتوں سے بھی فیصلوں میں تاخیر ہوتی ہے۔ ہم حکومتی اور اپوزیشن اراکین پر مشتمل دس رکنی کمیٹی بناتے ہیں جس سے ایک ماہ میں رپورٹ لیں گے۔ راجہ جاوید اخلاص نے کہا کہ ہم نے انسانی حقوق کی پامالی روکنی ہے‘ بچوں سے زیادتی کے واقعات سے عالمی سطح پر بھی پاکستان کی بدنامی ہوتی ہے۔ جمال الدین نے کہا کہ میرے حلقہ میں ایک نوجوان نقیب اللہ کا کراچی میں ماورائے عدالت قتل ہوا ہے اس کی تحقیقات کرائی جائیں۔ نوید قمر نے کہا کہ اس پر تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے کل تک اس کی رپورٹ آجائے گی۔ اس کا انتظار کیا جائے۔ وزیر مملکت جام کمال نے بتایا کہ تین چار برسوں میں گیس کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔ 105 دریافتیں ہوئی ہیں ¾ہماری ضروریات بہت زیادہ ہیں ¾ اس وقت چار ارب پیداوار ہے اور اڑھائی بلین کیوبک فٹ کی ضرورت ہے ¾ حکومت نے اس ضمن میں اقدامات کئے ہیں۔ اس وقت ایل این جی 1200 ملین کیوبک فٹ ہے۔ گیس کے ذخائر کی ایک عمر ہوتی ہے اس لئے ہم نے ایل این جی کو انرجی مکس میں شامل کیا ہے ¾بلوچستان ‘ سندھ اور خیبر پختونخوا میں تیل و گیس کی پیداوار پر بہت کام ہو رہا ہے۔ پنجاب میں جنڈ کے قریب دریافت ہوئی ہے۔ دس پندرہ سال سے کام نہ کرنے والی کئی کمپنیوں کے لائسنس معطل کئے گئے۔ آسیہ ناصر کے بلوچستان میں آئل ریفائنریوں کے قیام سے متعلق سوال پر انہوں نے بتایا کہ خاران‘ لسبیلہ‘ خضدار‘ کلات اور دیگر علاقوں میں کام ہو رہا ہے۔ 2 ڈی سروے ابھی تک نہیں ہو سکا۔ ٹوڈی سروے پر کام ہو رہا ہے اور کئی علاقے ایسے ہیں جہاں ہم اب ایکسپلوریشن پر جارہے ہیں۔ گوادر اور کوسٹل بیلٹ میں دو ریفائنریوں پر کام ہو رہا ہے۔ گوادر کے لئے بھی کئی تجاویز ہیں اس میں چین نے بھی دلچسپی ظاہر کی ہے۔ خیال زمان کے سوال پر انہوں نے کہا کہ تجویز مناسب ہے ¾ گیس پیدا کرنے والے علاقوں کو گیس کی فراہمی سے متعلق ایشو مشترکہ مفادات کونسل میں بھی آیا ہے اور اس کے فیصلے پر عملدرآمد ہوگا۔ مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے کے مطابق اب متعلقہ کمپنی پانچ کلو میٹر پر محیط علاقے میں گیس فراہمی کے اخراجات برداشت کرے گی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ کسی بھی کنسیشن والے علاقے میں پیداوار کا انحصار وہاں پر موجود کنوﺅں سے ہوتا ہے اگر کنویں زیادہ ہوں گے تو پیداوار کی عمر‘ مدت کم ہو جائے گی۔

 


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.