شکست کاڈر،شیخ رشید کا 30جنوری سے قبل مستعفی نہ ہونےکا فیصلہ

دبئی،اسلام آباد:  ”ضمنی الیکشن اور شکست کا ڈر،شیخ رشید کا 30جنوری سے قبل مستعفی نہ  ہونے کا فیصلہ “۔تفصیلات کے مطابق  شیخ رشید احمد نے کہاکہ میرا استعفیٰ آٹھ 10 دن میں سپیکر کو مل جائےگا ، میر استعفیٰ اور شریف خاندان کی سیاست ایک ساتھ جائیں گے، ہم بھاگنے والے نہیں ہیں اگربھاگیں گے تو بھگا کر چھوڑیں گے، استعفیٰ دیں گے تو استعفیٰ لیکر بھی رہیں گے۔ انہوں نے کہاکہ عدلیہ اور فوج کو گالیاں دینے والے کرپٹ اورجھوٹے لوگوں کی سیاست کا جلد خاتمہ ہوگا، فوج اورعدلیہ کا صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے اب کوئی گنجائش نہیں بچی،فوج گالیاں سننے کیلئے نہیں آئی اور عدلیہ بھی اپنا مذاق اڑانے کیلئے نہیں آئی۔ شیخ رشید نے کہاکہ میں حکومت جانے کیلئے مارچ کا وقت دیا کرتاتھا لیکن اب یہ فروری میں ہی جائیں گے اور”30فروری“ تک شریف خاندان کے سیاسی تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی جائے گی۔واضح رہے کہ آئین پاکستان کے تحت کسی بھی قومی یا صوبائی اسمبلی کے رکن کے استعفے کی صور ت میں 60روز کے اندر ضمنی الیکشن کرائے جاتے ہیں تاہم آئین کے آرٹیکل 224کے تحت اگر اسمبلی کی مدت اور ہونے والے ضمنی الیکشن کے نتائج میں 40دن یا اس سے کم باقی رہتے ہوں تو ضمنی الیکشن نہیں ہو سکتے۔30جنوری سے پہلے استعفے کی صورت میں شیخ رشید کو اپنے حلقے میں ضمنی الیکشن کا سامنا ہوگا اور اس صورت میں این اے 55کی سیٹ یقینی طور پر مسلم لیگ(ن) جیت سکتی ہے۔قومی اسمبلی 6جون کو اپنی مدت پوری کر رہی ہے ۔شیخ رشید 30جنوری یا اس کے بعد استعفیٰ سپیکر قومی اسمبلی کو بھیجیں تو ضمنی الیکشن نہیں ہو سکیں گے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.