Daily Taqat

سپریم کورٹ کو اعتماد دلاتے ہیں کہ قوم آپ کے ساتھ کھڑی ہے، عمرا ن خان

لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمرا ن خان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کو اعتماد دلاتے ہیں کہ قوم آپ کے ساتھ کھڑی ہے ، انٹر پول کے ذریعے دبئی سے گرفتار ہونے والے پولیس کے سابق انسپکٹر عابد باکسر نے بیان دیا ہے کہ اس  نے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے کہنے پر ماورائے عدالت قتل کئے اور ہم اس معاملے پر عدالت جائیں گے ،نواز شریف کو چیلنج ہے ایک روز وہ جس مقام پر جلسہ کریں گے اس سے اگلے روز میں جلسہ کروں گا اور ان کے مقابلے میں تین گنا زیادہ عوام کوا کٹھا کر کے دکھاﺅں گا ، اسحاق ڈار کو سینیٹ ٹکٹ کے اجراءسے لگتا ہے کہ حکمران مجرموں کی سینیٹ بنانا چاہتے ہیں ، خیبر پختوانخواہ میں اگر کسی واقعہ میں پی ٹی آئی سے وابستگی رکھنے والا کوئی شخص ملوث ہے تو اسے کوئی تحفظ حاصل نہیں او ر واضح کہتا ہوں کہ اگر کوئی ہے تو پہلے اسے پکڑیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اولڈ ائیر پورٹ پر ذرائع سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر شیخ رشید ، فواد چوہدری سمیت دیگر بھی موجود تھے ۔ عمران خان نے کہا کہ میں عوام میں پھرتا ہوں سپریم کورٹ کی جانب سے قانون کی بالا دستی کےلئے جو اقدامات اٹھائے جارہے ہیں اسے سراہا جارہا ہے ۔ سپریم کورٹ طاقتور ،لوٹ مار اور جرم کرکے قانون سے اوپر بیٹھنے والوں کو قانون کے دائرے میں لے کر آرہی ہے ۔ سپریم کورٹ پرجس طرح حملے کئے جارہے ہیں یہ آئین کی خلاف ورزی ہے ۔ سپریم کورٹ کو اعتماد دلاتے ہیں کہ ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں ،قوم آپ کے ساتھ ہے ، قوم ان حکمرانوں سے تنگ آ چکی ہے ۔ یہاں دو قانون ہیں غریب کو انصاف نہیں ملتا جبکہ طاقتور خود کو قانون سے بالا تر سمجھتا ہے اور اسے این آر او مل جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف جو جلسے کر رہے ہیں میں انہیں چیلنج کر کے کہتا ہوں کہ وہ ملک کے جس کونے میں چاہیں ایک روز جلسہ کریں اور اس سے اگلے روز میں بھی اسی مقام پر جلسہ کروں گا اور ان سے تین گنا زیادہ عوام کو اکٹھا کر کے دکھاﺅں گا ۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کا سابق انسپکٹر عابد باکسر جسے انٹر پول کے ذریعے گرفتار کیا گیا ہے اس نے بیان دیا ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے کہنے پرماورائے عدالت قتل کرتا تھا اور جب اسے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا وہ یہاںسے بھاگ گیا ، ہم اس معاملے میں جائیں گے ۔ اس نے کہا ہے کہ جب تک ہمیں اوپر سے اجازت یا حکم نہ ملے تو ہم قتل نہیں کرتے ۔ قصور میں بچیوں سے زیادتی کے مقدمے میں بے گناہ قتل کئے گئے ، سبزہ زار میں پانچ نوجوانوں کا قتل کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ ایسا تو مافیا ز کرتے ہیں اور سپریم کورٹ نے انہیں صحیح مافیا کہا ہے ، سندھ میں ایس پی راﺅ انوار کے ذریعے قتل کرائے گئے او رراﺅ انوار بھی چار سو قتل کرنے کے بعد بھا گا ہوا ہے ،خیبر پختوانخواہ میںپولیس ماورائے عدالت قتل نہیں کرتی ۔ انہوں نے کہا کہ مشال خان ، اسماءکیس میں خیبر پختوانخواہ پولیس نے پروفیشنل اپروچ کے تحت کام کیا ۔میں نے ان کیسز کا کوئی نوٹس نہیں لیا تھا پولیس قانون کے مطابق خود حرکت میں آئی ۔ کمسن اسماءکے قاتل کو خون کے ایک قطرے سے ٹریس کر کے پکڑاگیا ۔ مشال پر توہین رسالت کا مرتکب ہونے کا جھوٹا الزام لگایا گیا ،کچھ سیاسی جماعتیں مجرموں کو ہیرو بنا رہی ہیں ،آپ کیا جنگل کا قانون لے کر آرہے ہیں ۔ مشال خان کیس میں اگر کوئی ملزم مفرور ہے تو میں یقین دلاتا ہوں کہ اسے کوئی تحفظ حاصل نہیں ، اگر کوئی پی ٹی آئی سے تعلق رکھتا ہے تو سب سے پہلے اسے پکڑیں ۔انہوں نے کہا کہ بلین ٹریز سونامی کے حوالے سے غلط پراپیگنڈا کیا گیا حالانکہ عالمی اداروںنے اس کا آڈٹ کیا ہے ہم نے پراپیگنڈا کرنے پر لیگل نوٹس دیا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ شریف خاندان کے لئے منی لانڈرنگ کرنے والے اور صحت کے بارے میں جھوٹ بول کر باہر بیٹھے اسحاق ڈار کو سینیٹ کا ٹکٹ دیدیا گیا ہے ،یہ ملک کو کدھر لے کر جارہے ہیں ،کیا یہ مجرموں کی سینیٹ بنانا چاہتے ہیں ،یہ سسٹم کو کریمنلائز کرنا چاہتے ہیں ، ہمارا مطالبہ ہے کہ اسحاق ڈا رکو پکڑا جائے او رجیل میں ڈالا جائے ۔ انہوںنے کہا کہ میں نے ایک فلیٹ کی ملکیت ثابت کرنے کے لئے ساٹھ دستاویزات جمع کرائیں اور تیس سے چالیس سال پرانے اپنے معاہدوں کی دستاویزات پیش کی ۔شریف خاندان نے اپنی دولت کے حوالے سے صرف ایک فراڈ قطری خط پیش کیا ہے ، انہیں بتانا ہوگا کہ تیس ہزار کروڑ روپے کیسے بیرون ملک گیا ، مریم نواز پہلے کہتی تھیں کہ انکی کوئی جائیداد نہیں اور اب بیرون ملک اکاﺅنٹس اور جائیدیں کہاں سے آ گئی ہیں ۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ شہباز شریف نے ماڈل ٹاﺅن میں پولیس کے ذریعے 14 معصوم لوگوں کا قتل عام کرایا ¾ خیبرپختونخواہ پولیس پروفیشنل ہے‘ وزیراعلیٰ پولیس کو قانون توڑنے کے احکامات نہیں دے سکتا۔ جمعرات کو عمران خان نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اپنے ٹویٹ میں کہا کہ خیبرپختونخواہ پولیس الگ اس لئے ہے کیونکہ وہ پروفیشنل ہے وزیراعلیٰ پولیس کو قانون توڑنے کے احکامات نہیں دے سکتا۔ کسی کو شک نہیں کہ کس نے ماڈل ٹاﺅن میں 14 معصوم شہریوں کا قتل عام کرایا یہ وجہ ہے کہ لوگ پنجاب پولیس سے خوفزدہ ہیں۔ سابق انکاﺅنٹر اسپیشلسٹ عابد باکسر کے مطابق شہباز شریف لوگوں کو ماورائے قانون قتل کرنے میں ملوث ہیں۔ سبزہ زار کیس میں پولیس نے شہباز شریف کے حکم پر پانچ جوانوں کو قتل کردیا اور قاتل کو پکڑا نہ جاسکا۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »