فوجی امداد کی بندش پاکستان کیلئے رویہ ٹھیک کرنے کا واضح پیغام ہے، نیکی ہیلی

واشنگٹن :  اقوام متحدہ میں امریکی سفیر، نکی ہیلی نے کہا ہے کہ فوجی امداد کی بندش پاکستان کے لیے واضح پیغام ہے کہ شاید وہ مذاکرات کی میز پر واپس آنے پر رضامند ہو جائے اور اپنا رویہ تبدیل کر لے، افغانستان جب بھی دہشت گردی کے خاتمے کیلئے قدم بڑھاتا ہے، پاکستان اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کی حمایت کے ذریعے یہ قدم روک دیتا ہے، افغان حکومت یہ دیکھ رہی ہے کہ طالبان نے ہتھیار ڈالنے کا آغاز کردیا ہے، وہ دیکھنے لگے ہیں کہ وہ بات چیت کی میز پر آنے پر تیار ہیں۔ امریکی نشریاتی ادارے سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے نکی ہیلی نے بتایا کہ کابل میں ہونے والی چار ملاقاتوں کے دوران مسلسل اس بات کا ذکر ہوتا رہا کہ افغانستان جب بھی دہشت گردی کے خاتمے کیلئے قدم بڑھاتا ہے، پاکستان اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کی حمایت کے ذریعے یہ قدم روک دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ سمجھتا ہے کہ افغانستان میں امن و استحکام قائم کرنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ اس خطرے کو ختم کیا جائے۔نکی ہیلی نے کہا کہ ہم نے بار بار پاکستان سے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ ملکر کام کرنا چاہتا ہے۔ لیکن پاکستان اس پر آمادہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان کو اربوں ڈالر کی فوجی امداد اس لئے نہیں دیتا کہ پاکستان ایسے دہشت گردوں کی پشت پناہی کرے جو پمارے فوجیوں کو ہلاک کرتے ہیں۔نکی ہیلی نے امید ظاہر کی کہ فوجی امداد روکنے سے پاکستان کو ایک واضح پیغام جائے گا اور وہ شاید مزاکرات کی میز پر واپس آنے پر رضامند ہو جائے اور اپنا رویہ تبدیل کر لے۔ہیلی نے کہا کہ افغان حکومت نے سلامتی کونسل سے کہا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف مزید بین الاقوامی دبا بڑھائے، تاکہ وہ مذاکرات کی میز پر آئے اور اپنا انداز تبدیل کرے۔بقول ان کے وہ 10 قدم آگے بڑھاتے ہیں، جب کہ پاکستان کے ساتھ انھیں یہ لگتا ہے جیسے وہ قدم روکنے پر مجبور ہیں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.