ملکی سرمایہ کاری میں بڑی رکاوٹ شوکت عزیز پالیسی ہے، قائمہ کمیٹی

اسلام آباد: سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے کامرس کے اجلاس میں وزارت خارجہ کے نمائندے نے انکشاف کیاہے کہ ملک میں سرمایہ کاری مین بڑی رکاوٹ سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کی پالیسی ہے جس کے مطابق ملک آنے والوں کے لئے ویزا رکاوٹ شامل ہیں ۔ جاپان سے سرمایہ کار پاکستان آنا
چاہتے ہیں لیکن پالیسی رکاوٹ ہے ۔ افغانستان سے فری ٹریڈ میں انڈیا رکاوٹ ہے ، افغانستان نے کہا ہے کہ اگر معاہدہ کرنا ہے تو پہلے انڈیا کو راضی کیا جائے۔ تفصیلات کے مطابق سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے کامرس کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر سید شبلی فراز کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاﺅس میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں2015سے 2017تک قائمہ کمیٹی کی طرف سے دی گئی سفارشات پر عمل درآمد کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ سیکرٹری کامرس یونس ڈھاگہ نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ قائمہ کمیٹی نے 2015سے 2017تک کل 63سفارشات دی تھیں جن میں سے 52پر عمل درآمد ہوچکا ہے اور 11پر عمل ہورہا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل ٹی ڈیپ نے قائمہ کمیٹی کی طرف سے دی گئی سفارشات پر عمل درآمد کے حوالے سے تفصیلی آگا ہ کرتے ہوئے بتایا کہ بلوچستان میں تجارت کے فروغ ، تاجروں کے مسائل کے حل اور بلوچستان کی پیداوار کو محفوظ کرنے اور دیگر ممالک بھیجنے کے حوالے سے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں ۔ تاجروں کی آگاہی کے لیے سیمینار منعقد کرائے گئے ہیں ۔ کھجور کو محفوظ کرنے اور سی پیک سے زیادہ سے زیادہ افادیت حاصل کرنے کے لیے آگاہی دی گئی ہے۔ جس پر سینیٹر روبینہ خالدنے کہا کہ صرف سیمینار سے فائدہ نہیں ہوگا ورکشاپس کا انعقاد کرایا جائے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پہلے 140ملین ڈالر کی کھجور ایکسپورٹ ہوتی تھی ۔ کمیٹی کی ہدایت کے مطابق 150ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے اور پورے ملک میں کھجورکی ترسیل کو بہتر بنانے کے لیے بھی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ خیرپور میں پروسسینگ پلانٹ لگے گا اور کھجور ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ پلانٹ بھی بنالیا ہے۔ چیئرمین کمیٹی شبلی فرازنے آم کی یورپی ممالک میں ایکسپورٹ بڑھانے کے لیے حکمت عملی اختیار کرنے کی ہدایت کی اور کھجور کے لیے خیبر پختونخوا میں پلانٹ قائم کرنے کی سفارش کی۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ فارماسیٹیکل کی ایکسپورٹ میں بہتری آئی ہے۔ 8سو کمپنیاں کام کررہی ہیں اور 2017میں 207ملین ڈالر کی ایکسپورٹ کی گئی۔ چیئرمین کمیٹی نے جدید دور کے مطابق حکمت عملی اختیارکرنے کی ہدایت کی۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ بلوچستان میں کرومائیٹ مائن اور منرلز کے لیے سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے لیبارٹری قائم کرنے کا کہا تھا تو کمیٹی کی ہدایت کے مطابق فارم ان کو بھجوا دیا تھا ان کی طرف سے ابھی تجاویز موصول نہیں ہوئی۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ ماربل انڈسٹر ی ڈویلپ کرنے سے بہتری آسکتی ہے۔ رامیٹیریل ایکسپورٹ کرنے کے بجائے تیار اشیاءایکسپورٹ کی جائے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ نئی پانچ سالہ ٹریڈ پالیسی تیار کی جارہی ہے۔ جس میں جنڈر بیس پالیسی، سروس پالیسی ، سرمایہ کاری اور ٹیرف کے اشو بھی شامل ہوں گے اور تمام متعلقہ اداروں کو پالیسی بنانے میں شامل کیا جائے گا۔ فوڈ کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے کمیٹی کی ہدایت کے مطابق وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی کو ساتھ رکھتے ہوئے 20اکتوبر کو ایس آر او جاری کردیا گیا تھا۔ نیشنل فوڈ سیکورٹی نے انسانی وسائل کی کمی ہے اور فوڈ کے مزید سٹینڈر ڈویلپ کیے جارہے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی شبلی فراز نے کہا کہ سرمایہ پالیسی پر خصوصی توجہ دی جائے۔کمیٹی کو بتایاگیا کہ پہلے توانائی سیکٹر اورتجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے زیادہ توجہ دی گئی تھی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ سی پیک کے حوالے سے جو سرمایہ کی جارہی ہے اس کی واپس ادائیگی اگلے چند سالوں میں شروع ہوجائے گی۔ سالانہ 3سے 4ارب روپے ادا کرنا ہوں گے۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ قائمہ کمیٹی کی ہدایت پر ایس ایم ایز کی طرف خصوصی ہدایت کردی۔5ملین میچنگ گرانٹ کے لیے رکھے گئے ہیں اور 3بڑے سیکٹر لیدر، فارماسیوٹیکل اور رائس ایس ایم ایز کے متعلق ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ برینڈنگ اینڈ پیکجنگ میں بہتر نظر نہیں آرہی۔ قائمہ کمیٹی کو ایف ٹی ون اور ایف ٹی ٹو بارے سفارشات پر عمل درآمد پر تفصیلی بتایا گیا۔ چین کے ساتھ فری ٹریڈ معاہدے کا دوبارہ جائزہ لیا جارہا ہے۔ اس حوالے سے بیجنگ میں چین کی حکومت کے مذاکرات بھی ہوئے ہیں کہ دیگر ممالک کی طرح ہمیں مراعات دی جائیں اور معاہدے کی تفصیلات ویب سائٹ پر موجود ہے۔ چین اور انڈونیشیا کے ساتھ ایف ٹی اے روائزڈ ہوگا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ آئل اور دالوں کی امپورٹ ملک میں 6ارب کی سالانہ ہوتی ہے۔ کمیٹی افغانستان کے ساتھ تجارتی خسارے کی وجوہات کے بارے تفصیلی آگاہ کیا اور نئی مارکیٹ کی تلاش بارے میں بھی بتایا گیا۔ قائمہ کمیٹی کوبتایا گیا کہ ای کامرس فروری تک فائنل ہوجائے گا۔۔ قائمہ کمیٹی نے اسٹیٹ لائف کے بل بورڈ کو ایک مقررکردہ طریقہ کار کے مطابق بنانے کی ہدایت کردی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ موجود ہ سال20سے 24ارب روپے ریفنڈ کردیئے گئے ہیں اور نان پر فارمنگ قرضے کے لیے ڈائریکٹر کو نامزد کردیا ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ بلوچستان میں کسٹم ونگ قائم کردی گئی ہے اور 9.5ارب کی اسمگلنگ روکی ہے اور تمام بارڈر پر وزارت داخلہ کے ساتھ سملنگ کنٹرول کرنے کی حکمت عملی اختیار کرلی ہے اور اس حوالے سے ایف پی ایس سی کے ذریعے 272افسران بھی بھرتی کیے گئے ہیں۔ قائمہ کمیٹی نے ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ اکٹھے کیے گئے ٹیکس کی تفصیلات ایف بی آر سے آئندہ اجلاس میں طلب کرلی۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میںسینیٹرز مفتی عبدالستار،نسیمہ احسان، روبینہ خالد اور حاجی سیف اللہ بنگش کے علاوہ سیکرٹری کامرس یونس ڈھاگہ ، ڈی جی ٹریڈ پالیسی نعمان اسلم ا ور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.