Daily Taqat

پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں 75 فیصد تک کمی دیکھی گئی، بلاول بھٹو

واشنگٹن: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں 75 فیصد تک کمی دیکھی گئی جو پاکستان کی فتح ہے جبکہ افغانستان میں دہشت گرد اب بھی75فیصد حصوں میں سرگرم ہیں، پوری نیٹو فورس اور افغان حکومت مل کر افغانستان میں دہشت گردی کا خاتمہ نہیں کرسکتے تو پاکستان سے ایسا اکیلے کرنے کی امید کیسے کی جاسکتی ہے؟ پاکستان افغانستان اور امریکا کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا،نئے سال پر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹویٹ سے دہشت گردی کی جنگ میںقربانیاں دینے والی پاکستانی عوام کو شدید تکلیف پہنچی۔امریکی میڈیا فوکس بزنس کے پروگرام”آفٹر دی بیل“کو انٹرویو دیتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں لگتا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی کوئی ایسی نیت ہوگی پر ان کے اس ٹویٹ نے پاکستانی عوام کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچائی۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ امریکی صدر نے اپنے بیان میں 33 ارب ڈالر کے امداد کی بات کی تاہم امداد پر امریکی عوام، امریکا کے ٹیکس دہندگان اور امریکی حکومت کا سوال کرنا ان کا حق ہے تاہم انہوں نے یاد دلایا کہ کولیشن سپورٹ فنڈ جس کے تحت امریکا نے 33 ارب ڈالر پاکستان کو دیے یہ پاکستان کی جانب سے شدت پسندی کے خلاف لڑنے کا معاوضہ تھا۔انہوں نے پاکستان کو طالبان کی حمایت کرنے کے الزامات پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں 75 فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے جبکہ افغانستان میں دہشت گرد اب بھی 75 فیصد حصوں میں سرگرم ہیں اور افغانستان کی 45 فیصد زمین حکومت کے قبضے میں ہی نہیں ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ اگر پوری نیٹو فورس اور افغان حکومت مل کر افغانستان میں دہشت گردی کا خاتمہ نہیں کرسکتے تو پاکستان سے ایسا اکیلے کرنے کی امید کیسے کی جاسکتی ہے؟ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں نے امریکیوں سے زیادہ پاکستانیوں کی جانیں لی ہیں اور ہم پاکستان اور افغانستان میں دہشت گردی کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے پاکستان کے خلاف کی جانے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے انہیں ماضی کی یاد دلائی اور کہا کہ امریکی حکومت نے افغان جنگ میں طالبان اور مجاہدین کی حمایت کی تھی اور پاکستان حکومت کو بھی ان کی حمایت کا کہا تھا۔انہوں نے بتایا کہ ان کی والدہ بینظیر بھٹو نے امریکا کے سابق صدر جارج بش کو افغانستان معاملے میں خبردار کیا تھا تاہم انہوں نے کہا کہ وہ ماضی کو نہیں دیکھنا چاہتے بلکہ مستقبل کا سوچتے ہیں۔اختتامی کلمات میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان اور امریکا کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »