وزیراعظم تعلیمی ریفارم پروگرام کے تیسرے مرحلے کا پی سی ون منظوری کیلئے پلاننگ کمیشن بھجوادیاگیا, طارق فضل چوہدری

اسلام آباد : وزیر مملکت برائے کیڈ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ وزیر اعظم تعلیمی ریفارم پروگرام کے تیسرے مرحلے کا پی سی ون منظوری کیلئے پلاننگ کمیشن بھجوا دیا گیا ہے ¾ اس مرحلے میں قریباًتین ارب روپے کی لاگت سے دو سو تعلیمی اداروں میں ترقیاتی کام مکمل کیا جائےگا، اس  مرحلے کے اختتام پر اسلام آباد میں فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کے تمام 422 میں سول ورکس اور دیگر تعلیمی سہولیات کی فراہمی کا کام مکمل ہو جائے گا۔شہر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اسلام آباد کے سرکاری تعلیمی اداروں میںترقیاتی کام کیا جار ہا ہے ، اس کا تمام تر سہرا سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف ، مریم نواز اور موجودہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے سر ہے جنھوں نے اسلام آباد کے سوشل سیکٹرز خصوصاًتعلیم اور صحت پر خاص توجہ دی ہے ۔ وہ اسلام آباد ماڈل سکول برائے طالبات کھنہ ڈاک کی نئی تعمیر شدہ عمارت کے افتتاح کے موقع پر خطاب کررہے تھے ۔ اس منصوبے پر 4کروڑ 63لاکھ روپے لاگت آئے گی ۔ اس سے قبل یہ سکول کرائے کی عمارت میں تھا جس میں تعلیمی سہولیات کا فقدان تھا اور طالبات کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔تعمیر کے بعد سکول میں 670طالبات پہلی جماعت سے آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کرسکیں گی۔سکول کی عمارت وزیر اعظم تعلیمی ریفارم پروگرام کے ذریعے وزیر اعظم کی خصوصی گرانٹ کے ذریعے تعمیر کی جارہی ہے ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت نے کہا کہ ملک کو بند کرنے والے پاکستان کے خیر خواہ نہیں ، سیاسی حربوں کے ذریعے ترقیاتی کام میں رکاوٹ ڈالی جارہی ہے ،ملکی ترقی میں تمام سٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں ۔ وفاق کی اپوزیشن جماعتیں اپنے اپنے صوبوں میں ترقیاتی کاموں کا وفاقی حکومت کی کارکردگی سے موازنہ کر لیں ، موجودہ وفاقی حکومت کے ترقیاتی کاموں کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ انھوں نے کہا کہ عوام سے کیے گئے تمام وعدوں پر عملدرآمد کیا گیا ، ملک سے اندھیروں کا خاتمہ ہوا جو اس حکومت کا تاریخی کارنامہ ہے ، توانائی کی لوڈشیڈنگ حقیقتاً معیشت کی لوڈ شیڈنگ تھی جو اب ماضی کا حصہ ہے ۔وزیر مملکت نے کہا کہ وزیر اعظم تعلیمی پروگرام کے تحت اسلام آباد کے تمام سکولوں میں نئے کمروں کی تعمیر، لیبارٹریوں اور لائبریریوں کا قیام ، واش رومز کی تعمیر ،طا لب علموں اور اساتذہ کیلئے نئے فر نیچر کی فراہمی، بیرونی دیواروں کی اونچائی میں اضافہ ،سکیورٹی انتظامات کی فراہمی اور دوسرے تعمیراتی کام شامل ہیں۔پراجیکٹ میں تعمیراتی کاموں اور دیگر امور کی مانیٹرنگ وزیر کیڈ کی سربراہی میں قائم سٹئیرنگ کمیٹی کے ذریعے کی جا رہی ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.