Latest news

کشمیر کو کسی نے بیچا ہے اور نہ ہی ایسا کرنے کی کسی میں ہمت ہے : مسعود خان

اسلام آباد:  آزاد جموں وکشمیرکے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ کشمیر کو کسی نے بیچا ہے اور نہ ہی ایسا کرنے کی کسی میں ہمت ہے۔ پہلی بار کراچی سے لے کر خیبر تک اور گوادر سے خنجراب تک پاکستانی قوم متحد ہو کر کشمیریوں کی پشت پر کھڑی ہے اور ریاست پاکستان پوری قوت اور مضبوطی سے کشمیری عوام کی آواز کو دنیا کے ہر فورم پر بھرپور اعتماد کے ساتھ پیش کر رہی ہے۔

یہ بات انہوں نے انسٹیٹیویٹ آف اسٹرٹیجک سٹڈیز اسلام آباد کے زیر اہتمام کشمیر کے حوالے سے گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

کانفرنس سے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ آغا عمر فاروق ، سابق وزیر دفاع لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ خالد نعیم لودھی اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ جموں وکشمیر کے عوام کی تحریک آزادی کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے ضروری ہے کہ قوم اپنے اندر اتحاد و اتفاق کی فضا کو برقرار رکھے اور بھارت کی طرف سے کشمیریوں اور پاکستان کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی سازش کو ناکام بنا دے۔

ہمیں ہر قسم کے اختلافات کو بھلا کر بھارت کے اس ناپاک منصوبے کو ناکام بنانا ہو گا۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان نے اپنے قیام فوراً بعدنہ صرف بھارت کے خلاف 1947-48میں دو جنگیں جیت کر آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کی صورت میں چوراسی ہزار مربع میل کا علاقہ آزاد کرایا تھابلکہ سفارتی محاذ پر کئی کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے ایک درجن کے قریب قراردادیں بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے منظور کرائی تھیں۔ آج پاکستان ایک ایٹمی طاقت اور خطہ کا اہم ملک ہے وہ بھارت کے مقابلے میں کیوں کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کی حمایت حاصل کرنے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ ہمیں بھارت کی سوس سوسائٹی تک بھی پہنچنا ہو گا اور اسے مودی کی امن دشمن پالیسیوں کے خلاف بولنے پر مجبور کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی ہم پورے عزم کے ساتھ جدوجہد کریں تو کامیابیاں ہمارے قدم چومیں گی۔

صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ یہ بھارت کا غلط پروپیگنڈہ ہے کہ شملہ معائدہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے عملدرآمد میں یا تنازعہ کشمیر کو حل کرنے کے لئے کسی بین الاقوامی ثالثی کی راہ میں رکاوٹ ہے حقیقت یہ ہے کہ شملہ معائدہ نہ تو ثالثی کی راہ میں رکاوٹ ہے اور نہ ہی اقوا م متحدہ کی قراردادوں پر برتری رکھتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے لوگ پاکستان کے ساتھ جذباتی وابستگی رکھتے ہیں اور پاکستان کے نام پر اپنی جانوں کی قربانی پیش کر رہے ہیں وہ جانتے ہیں کہ پاکستان نے بھی کشمیریوں کی آزادی کے لئے نہ صرف چھ جنگیں لڑیں بلکہ گزشتہ سات دہائیوں میں اپنی سلامتی کو داﺅ پر لگا کر مسئلہ کشمیر پر اپنے اصولی موقف سے دستبردار ہونے سے انکار کیا۔

صدر آزادکشمیر نے کہا کہ بھارت کی طرف سے آزادکشمیر اور پاکستان پر حملے کو خارج از امکان نہیں قرار دیا جا سکتا لیکن بھارت اور بین الاقوامی دنیا کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ دونوں ملکوں کے درمیان کوئی بھی محدود جنگ آسانی سے جوہری جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے اور اگر ایسا ہوا تو اس سے نہ صرف اربوں انسان اور حیوان متاثر ہونگے بلکہ پوری دنیا کے ماحول پر بھی منفی اثرات مرتب ہونگے۔

اس لئے یہ بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس خطہ میں جنگ کی تباہ کاریوں سے بچنے کے لئے تنازعہ کشمیر کا پرامن سیاسی و سفارتی حل ڈھونڈنے میں پاکستان اور کشمیری عوام کی مدد کریں۔ بھارتی حکمرانوں کی انتہاءپسندی کا تذکرہ کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ مودی اور ان کی حمایتی جماعتیں بھارت میں ہندوتوا کے نظریے پر گامزن ہیں جس کے تحت پاکستان کا قیام ایک گناہ تھا اور اس گناہ کی تلافی پاکستان کو ختم کر کے ہی کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں نہ صرف مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے مظالم میں تیزی آئے گی بلکہ مودی کی حکومت کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کر کے کشمیریوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے لئے کئی اقدامات بھی کرے گی جس کے آگے بند باندھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کو کشمیری عوام کی حمایت کی سزا دینے کے لئے پراکسی وار میں بھی تیزی لا سکتا ہے اور بھارت کے مسلمانوں کو نفسیاتی دباﺅ میں لانے کے لئے رام مندر کی تعمیر کا منصوبہ بھی شروع کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ممبران کو بار بار یہ باور کرانا ہو گا کہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی باب چھ کے تحت اقدامات کر کے تنازعہ کشمیر کا پرامن سیاسی حل نکالے اور اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب نہ ہو سکیں تو چارٹر کے باب سات کے تحت اضافی اقدامات کئے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت انٹرنیشنل میڈیا کشمیریوں کا بیانیہ بیان کر رہا ہے اس موقع سے ہمیں فائدہ اٹھا کر تنازعہ کشمیر کو اس کے حقیقی پس منظر میں اجاگر کرنا چاہیے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.