سینیٹ کے الیکشن میں ووٹ خریدنے اوربیچنے والوں کومنظرعام پرلایا جائے، سراج الحق

تیمرگرہ: امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیاہے کہ سینیٹ کے الیکشن میں ووٹ خریدنے اور بیچنے والوں کو منظر عام پر لایا جائے ۔ ایم ایم اے بحال ہو چکی ہے ،مرکزی کابینہ تشکیل دینے کے بعد بڑے شہروں کے دوروں کا شیڈول دیں گے ۔ ایم ایم اے کی تنظیم سازی کے حوالے سے فیصلہ 20 مارچ کو کراچی اجلاس میں ہوگا ۔ ایم ایم اے کی مکمل فعالیت کے بعد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا ۔ کوشش ہے کہ اسلام اور نظریہ پاکستان پر یقین رکھنے والی جماعتیں تقسیم نہ ہوں ۔ عوام نے ستر سال میں مارشل لاﺅں اور نام نہاد جمہوری حکومتوں کو دیکھا اور بھگتا ہے ، ہر حکومت نے بر سراقتدار آنے سے قبل عوام کی خدمت کے بلند و بانگ دعوے اور وعدے تو کیے مگر عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے مسلسل اپنے مسائل حل کرتے اور مفادات سمیٹتے رہے ۔ لوگوں کے انفرادی مسائل حل ہوئے نہ اجتماعی پریشانیوں میں کوئی کمی آئی ۔ جب تک اسلامی حکومت اور شریعت کا نظام نہیں آتا ، عوام کے مسائل میں کمی آنے کی بجائے اضافہ ہوگا ۔ان خیالات کا اظہا ر انہوں نے مرکز اسلامی تیمر گرہ میں جمعہ کے بڑے اجتماع سے خطاب اور بعد ازاں ذرائع سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ملک میں سیاست اور جمہوریت جاگیرداروں ، وڈیروں اور سرمایہ داروں کے ہاتھوں یرغمال ہے ۔ بر سراقتدار طبقہ کوعام آدمی کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں ۔ دشمن نے ہم پر تہذیبی جنگ مسلط کر رکھی ہے اور ہماری سیاست ،معیشت اور تعلیمی نظام کو اپنی مٹھی میں لے کر دین بے زار ، سیکولر اور لبرل ازم کے پرچاروں کی سرپرستی کی جا رہی ہے ۔ اس کی کوشش ہے کہ پاکستان کو اس کی اصل شناخت سے محروم کر دیا جائے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ پاکستان کے اسلامی تشخص کی حفاظت اور ملک و قوم کو مسائل کی دلدل سے نکالنے کے لیے محب وطن اور سنجیدہ قوتو ںکو آگے بڑھ کر اس صورتحال کو تبدیل کرنا ہوگا ۔ انہو ں نے کہاکہ جماعت اسلامی سیاست کو عبادت سمجھتی ہے ہم نبوی سیاست پر یقین رکھتے ہیں اور ہماری تمام تر جدوجہد کا مقصد ملک میں خیر کی قوتوں کی حوصلہ افزائی اور منکر کی حوصلہ شکنی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ اس وقت اصل متبادل قوت صرف جماعت اسلامی ہے ہم مذہبی قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ ملک میں دین کی سربلندی کے لیے جدوجہد کرنے والوں کو متحد کر کے اسلام مخالف لابی کا مقابلہ کیا جاسکے ۔ عوام بے چارے ووٹ دینے کے بعد بل اورٹیکس دیتے ہیں اور بر سر اقتدار کرپٹ ٹولہ غریب کے خون پسینے کی کمائی کو اپنے عیش و عشرت پر خرچ کر دیتاہے ۔ یہ طبقہ بیرونی اداروں اور بنکوں سے قرض لے کر قوم کے بچے بچے کو مقروض کر کے بیرون ملک اپنی جائیدادیں اور بینک بیلنس میں اضافہ کرتاہے۔ انہوںنے کہاکہ آج تک کسی نے آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک سے لیے گئے قرضوں کا کوئی آڈٹ نہیں کیا اور نہ کسی نے ان سے پوچھا کہ یہ قرضے کہاں خرچ ہورہے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ آئندہ انتخابات میں عوام کو عالمی اسٹیبلشمنٹ کے ان آلہ کاروں کو اپنے ووٹ کی طاقت سے اقتدار میں آنے سے روکنا ہوگا۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.