موجودہ غیریقینی صورتحال کی ذمہ داربراہ راست حکومت ہے، سراج الحق

لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ حکومت کی خارجہ پالیسی بری طرح ناکام ہوگئی ہے ، حکومت افغانستان اور ایران سمیت اپنے ہمسایوں کے ساتھ صفحہ
تعلقات درست رکھنے میں ناکام رہی ہے ، اب صورتحال یہ ہے کہ جس امریکہ کی غلامی کرتے ہوئے حکمرانوں نے ہزاروں شہری مروائے اور ایک سو تیس ارب ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کیا ، وہ بھی پاکستان کو دھمکیاں دے رہاہے ،نوازشریف نے ملک کا مستقل وزیر خارجہ مقرر کرنے کی بجائے چار سال تک خارجہ امور کا قلمدان بھی اپنے پاس رکھا ۔ موجودہ غیر یقینی صورتحال کی ذمہ دار براہ راست حکومت ہے ۔ تعلیم ، صحت اور عدالتی نظام کی ناکامی کے اصل ذمہ دار نوازشریف ہیں جو بار بار اختیار ملنے کے باوجود کسی ایک ادارے کو ٹھیک نہیں کر سکے اور اب عدالتوں کو دھمکیاں دے رہے ہیں ۔ موجودہ حکومت جس کا چل چلاﺅ ہے اور جسے اپنے صبح و شام کا پتہ نہیں ، اسے پی آئی اے کی فروخت جیسے بڑے فیصلے کرنے کا کوئی اختیار نہیں ۔ حکومت اپنے معاملات درست کرے ۔ اپنے اعمال کا حساب دے اور الیکشن کرانے کی تیاری کرے۔ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے شہدا کو انصاف دلانے کے لیے طاہر القادری کے ساتھ ہیں اور جماعت اسلامی کا اعلیٰ سطحی وفد کل کے احتجاج میں شریک ہوگا ۔ زینب زیادتی و قتل کیس کے مجرم تلاش کرنے میں ناکامی پر عوام کا حکومت پولیس اور سیکورٹی اداروں پر اعتماد اٹھ گیاہے ۔ شہبازشریف اگر مضبوط اعصاب کے مالک ہوتے تو رات کے اندھیرے کے بجائے دن کی روشنی میں زینب کے والد سے جاکر تعزیت کرتے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے منصورہ میں مرکزی شوریٰ کے سہ روزہ اجلاس سے افتتاحی خطاب  کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی میاں محمد اسلم ، قومی اسمبلی میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر صاحبزادہ طارق اللہ ، خیبر پختونخوا کے سینئر وزیر عنایت اللہ خان اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات امیر العظیم بھی موجود تھے´سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ملک کو غیر یقینی صورتحال سے نکالنے اور موجودہ مسائل کا واحد حل ملک میں آئین کے مطابق بروقت انتخابات کا انعقاد ہے ۔ ماضی کی طرح جھرلو اور جانبدارانہ انتخابات کو کوئی تسلیم نہیں کرے گا ۔ انتخابات کو حرام دولت کے بل بوتے پر اغوا کرنے اور انتخابی عملے اور نظام کو یرغمال بنانے کی اب کوئی سازش کامیاب نہیں ہوگی ۔عوام اچھی اور پائیدار جمہوریت کے لیے بے لاگ اور بے رحم احتساب چاہتے ہیں ۔ ماضی میں حرام خور حرام کی دولت خرچ کر کے پولنگ عملے اور الیکشن کے نتائج بدلتے رہے ۔ انہوں نے کہاکہ جمہوریت سیاست اور معیشت پر جن سیاسی و معاشی دہشتگردوں نے قبضہ کر رکھاہے ، وہ مسلح دہشتگردوں سے بھی زیادہ خطرناک ہیں مگر اب ان کے دن گنے جاچکے ہیں ۔ اب انہیں دولت اور بدمعاشی کے زور پر اقتدار کے ایوانوں اور قومی اداروں پر قبضے کا موقع نہیں ملے گا ۔ انہوںنے کہاکہ ملک میں جمہوریت کو مضبوط و مستحکم کرنے کے لیے ان چوروں اور لٹیروں سے نجات ضروری ہے جنہوں نے قومی دولت لوٹ کر بیرون ملک جمع کی اور عوام کو تعلیم ، صحت ، روزگار اور بنیادی ضروریات سے محروم رکھا ۔ جمہوریت کے حوالے سے لوگ شکوک و شبہات کا شکار ہیں ۔ ملک کو آئین اور میرٹ پر چلانے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ۔انہوںنے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ انتخابات کے ساتھ ساتھ احتساب بھی ہو ۔ سراج الحق نے کہاکہ ہم نے عدالت عظمیٰ میں پانامہ لیکس کے دیگر کرداروں کے احتساب کے لیے پٹیشن دائر کر رکھی ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ محض نوازشریف کی نااہلی سے احتساب کا عمل پورا نہیں ہوسکتا ۔ جب تک لو ٹی ہوئی دولت واپس نہیں ملتی ، قوم کو کوئی ریلیف ملے گا نہ ہم آئی ایم ایف او ر ورلڈ بنک کی غلامی سے آزاد ہوں گے ۔انہوں نے کہاکہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے حوالے سے ہمارا موقف بالکل واضح ہے ۔ شرم کی بات ہے کہ اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود چودہ شہدا کے قاتل پکڑے گئے نہ مجرموں کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی ۔ ایک ایف آئی آر درج کروانے کے لیے اسلام آباد تک لانگ مارچ کرنا اور دھرنے دینا پڑے ،جمہوری دامن پر بدنما داغ اور عدالتوں کے لیے سوالیہ نشان ہے ۔ ہماری پولیس اور سیکورٹی ادارے عوام کو کیڑے مکوڑے سمجھتے ہیں اس لیے وہ حکمرانوں اور اشرافیہ کی حفاظت کو ہی اپنا فرض سمجھتے ہوئے حکمرانوں اور ان کے خاندان کے پروٹوکول میں مصروف رہتے ہیں اس لیے عوام کو اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے کوئی ددسرا انتظام کرنا پڑے گا ۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ جماعت اسلامی کی دیانتدار قیادت ہی ملک کو مسائل
کی دلدل سے نکال سکتی ہے ۔ حکومت اپنے منشور پر عمل درآمد نہیں کرسکی ۔ انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی 2018 ءکے انتخابات میں ایک بڑی عوامی قوت بن کر ابھرے گی اور ہم پہلا کام ظالم جاگیرداروں ، وڈیروں اور سرمایہ داروں کا احتساب کریں گے ۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.