پاکستان کے درمیان تعلقات دوستی اورہم آہنگی سے بڑھ کرہیں, , انڈونیشیا کےصدر

اسلام آباد : انڈونیشیا کے صدر جوکو ودودو نے کہا ہے کہ پاکستان کے درمیان تعلقات دوستی اور ہم آہنگی سے بڑھ کر ہیں پاکستان کی طرح انڈونیشیا بھی فلسطین کی جدو جہد آزادی کی مکمل حامی ہے آسیان فورم کے ذریعے خطے کی ترقی کے لیے انتھک محنت کر رہے ہیں معاشی ترقی کےلئے سیاسی استحکام ناگزیر ہے سیاسی استحکام اور سلامتی ہو تو ایک ملک ایک خطہ کی معیشت پروان چڑھ سکتی ہے جنگ اور تنازعات کسی کے مفاد میں نہیں ہیں  عالمی امن کو برقرار رکھنا انڈونیشیا کا عزم ہے اتحاد اور مرکزیت کے ذریعے انڈونیشیا ایشیا بحرالکاہل خطے کو مستحکم
اور ترقی یافتہ بنانے کی جدوجہد جاری رکھے گاامید ہے ہم میں سے ہر ایک دنیا کی آسودگی کے لئے انسانیت کے نام پر انصاف کے نام پر کوششوں کے لئے اپنا کردار ادا کرے گا ۔جمعہ کو اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہونے والے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنا میرے لیے اعزاز ہے ¾۳۶۹۱ءمیں انڈونیشیا کے پہلے صدر، سوئیکارنو نے اس معزز پارلیمنٹ سے خطاب کیا تھا۔اس موقع پرصدر سوئیکارنو نے استعماریت کے خلاف نبرد آزما ہونے کےلئے نیز نوزائیدہ آزاد ملکوں کے مابین تعاون کی روح پھونکی انہوں نے کہاکہ پچپن سال بعد صدرجمہوریہ انڈونیشیا کو پارلیمنٹ پاکستان سے خطاب کی ایک بار پھر عزت بخشی گئی انہوںنے کہاکہ میں اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دنیا کے امن اور خوشحالی کے لیے تعاون کی روح پھونکنا چاہوں گا۔انہوںنے کہاکہ انڈونیشیا اور پاکستان کے مابین دوستی کوئی نئی تشکیل دوستی نہیں ہے۔انہوںنے کہاکہ انڈونیشیا آزادی کے لئے انڈونیشیا کی جدوجہد میں پاکستانی عوام کی حمایت کو ہمیشہ یاد رکھے گا۔ انہوں نے کہاکہ سات اگست، ۵۹۹۱ءمیں، انڈونیشیا کی آزادی کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر تحسین کی علامت کے طور پرجمہوریہ انڈونیشیا نے پاکستان کے بابائے قوم محمد علی جناح کو انڈونیشیا کی آزادی کی حمایت میں اس کے کردار پر پہلا اعلیٰ ادی پورنا سٹار عطا کیا۔انہوںنے کہاکہ دوستی کے علاوہ ہمارے دونوں ممالک میں بہت سی چیزیں مشترک ہیں۔ صد رنے کہاکہ انڈونیشیا اور پاکستان دو ایسے ممالک ہیں جن کی کثیر آبادی مسلمان ہے انہوںنے کہاکہ ہم ڈی ایٹ کے رکن ممالک ہیں ہم او آئی سی اور غیر جانبدار تحریک کے رکن ممالک ہیں ہم ایشیا افریقہ کانفرنس کے بانی ہیںاورسب سے اہم یہ ہے ¾ ہم دونوں جمہوری ممالک ہیں۔انہوںنے کہاکہ ہم دو ممالک ہیں جو فلسطین کی آزادی کی مسلسل حمایت کر رہے ہیں۔اس فورم میں میں ایک دفعہ پھر آپ کو بتانا چاہوں گا کہ ہم اپنے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کی مدد جاری رکھیں ہمیں فلسطین کو ان کی جدوجہد میں مسلسل مدد کرنی چاہیے۔ انہوںنے کہاکہ انڈونیشیا دنیا میں آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا مسلمان ملک ہے ¾انڈونیشیا میں ۰۶۲ ملین لوگوں میں سے تقریباً ۷۸ فیصد ۲،۶۲۲ملین کے مساوی آبادی مسلمانوں کی ہے جیسا کہ پاکستان میں مسلمانوں کا گھر ہونے کے علاوہ، انڈونیشیا ہندو، کیتھولک، پروٹسٹنٹس، بدھ مت اور دیگر مذاہب کا بھی گھر ہے ۔انہوںنے کہاکہ انڈونیشیا ایک کثر تیت ملک ہے۔انہوںنے کہاکہ میں مشکور ہوں کثرتیت رکھنے کے باوجود کثیر آبادی کے ساتھاورسترہ ہزار جزائرسے زیادہ اور ۰۴۳ئ۱ نسلوں کے ساتھ اورانڈونیشیا اپنے اتحاد کو محفوظ رکھنے میں کامیاب ہوا ہے۔انہوںنے کہاکہ تنوع میں وحدت بحیثیت قوم ہماری زندگی میں ہمارا نعرہ ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم برابر کے شکر گزار ہیں  ہم بطور قوم اپنی زندگیاں جمہوری انداز سے بسر کرنے کے قابل ہوں گے۔انہوںنے کہاکہ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ تنوع کا انتظام کرنا آسان کام نہیں ہے نہ ہی جمہوریت کا انتظام کرنا۔انہوںنے کہاکہ ہمارے لیے عزم کی ضرورت ہے ¾ہر قوم کا پختہ عزم عناصر کثرتیت کو برقرار رکھنے کےلئے برداشت کا عزم باہمی احترام کا عزم ضرور ہے تاکہ جمہوریت بہتر طریقے سے کام کر سکے۔انہوںنے کہاکہ بطور صدر میں مضبوط یقین رکھتا ہوں کہ جمہوریت ہمارے لوگوں کے مفادات کو پورا کرنے کا بہترین عمل ہے جمہوریت لوگوں کو فیصلہ کرنے کے عمل میں مدد فراہم کرتی ہے ¾جمہوریت سے انڈونیشیا میں سیاسی استحکام کو برقرار رکھا جاسکتا ہے ¾جمہوریت سے، کافی مضبوط معاشی ترقی ہوتی ہے جو کہ ہر سال ۵ فیصد سے زیادہ تک پہنچ جاتی ہے ¾جمہوریت سے انڈونیشیا دنیا کی بیسویں بڑی معیشت ہو رہی ہے۔انہوںنے کہاکہ میں اس بات کو یقینی بنانا چاہوں گا کہ انڈونیشیا کے تمام لوگ معاشی ترقی کا فائدہ اٹھاسکیں تاکہ منصفانہ ترقی کو ترجیح ملے۔انہوںنے کہاکہ اگر سیاسی استحکام اور سلامتی ہو تو ایک ملک ایک خطہ کی معیشت پروان چڑھ سکتی ہے حتی کہ جنگ ہونے کی صورت میں معاشی سرگرمیاں کبھی واقع نہیں ہوں گی۔انہوںنے کہاکہ تنازعات اور جنگیں کسی کے مفاد میں نہ ہوں گی میں دہراتا ہوں تنازعات اور جنگیں کسی کے مفاد میں نہ ہوں گی۔انہوںنے کہاکہ عوام خصوصاً عورتیں اور بچے تنازعات اور جنگوں میں ہمیشہ سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔نازعات اور جنگیں انسانیت کی اعلیٰ اقدار اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے عطاکردہ فضائل کو بگاڑتے ہیں۔لہٰذا امن کے واحد معاون کے طور پر عالمی امن کو برقرار رکھنا انڈونیشیا کا عزم ہے۔انہوںنے کہاکہ آسیان کے ساتھ، گزشتہ پچاس سے زائد برسوں سے جنوب مشرقی ایشیا کے خطہ میں استحکام اور خوشحالی کا ارضیاتی نظام پیدا کرنے کے لئے انڈونیشیا ان تھک محنت کررہا ہے ¾آسیان اتحاد اور مرکزیت کے ذریعے انڈونیشیا ایشیا بحرالکاہل خطے کو مستحکم اور ترقی یافتہ بنانے کی جدوجہد جاری رکھے گا۔انڈونیشین کے صدر نے کہاکہ ایک بڑے خطے میں انڈونیشیا بحرہند کے خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے بنیادی اکائی کا خواہاں ہے جس سےبحرہند کے خطے کو دنیا کے لیے ترقی کا نمونہ بنانا ہے۔ انہوںنے کہاکہ عالمی سطح پر پاکستان کی طرح انڈونیشیا عالمی قیام امن افواج میں بڑے شراکت داروں میں سے ایک ہے۔انڈونیشیا”عالمی امن کے لئے سچے ساتھی“ ہونے پر یقین رکھتا ہے۔انہوںنے کہاکہ گزشتہ دو سالوں میں انڈونیشیا نے ممالک کے مابین تنازعات کو حل کرنے ¾جنگ سے متاثرہ علاقوں کے بشمول۔۔۔ انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی خطے میں سیکورٹی کے تحفظ میں مدد ¾سرحد کے اطراف ڈرگز اور نشہ آور اشیائ، انسانی اسمگلنگ اور دہشت گردی کے بشمول گھناﺅنے جرائم کو ختم کرنے میں مدد فراہم کی ہے ۔انہوںنے کہاکہ انقلابی سیاست اور دہشت گردی قابو سے باہر ہے ¾ایک بھی ملک دہشت گردی سے محفوظ نہیں ہے ¾انڈونیشیا اور پاکستان سمیت تقریباً تمام ممالک میں دہشت گردانہ حملے ہوئے ¾تنازعات، جنگوں اور دہشت گردی کے متاثرین میں سے مسلمانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ اس انتہائی پریشان کن اعدادوشمار کو دیکھو ¾دہشت گردی کے ۶۷ فیصد حملے مسلمان ممالک میں ہوئے ¾ مسلح تنازعات مسلمان ممالک کو درپیش ہوئے ¾مزید برآں، ہمارے لاکھوں بھائیوں اور بہنوں کو بہتر زندگی کی خاطر اپنے ممالک چھوڑنا پڑے 67 فیصد مہاجرین مسلمان ممالک سے آئے ¾لاکھوں نوجوان مستقبل کے لئے اپنی امید کھو بیٹھے۔ انہوںنے کہاکہ یہ خطرناک صورتحال جزوی طور پر اندرونی کمزوری کی وجہ سے ہے اگرچہ اس کے بہت سارے بیرونی عوامل بھی ہیں۔انہوںنے کہاکہ کیا ہم ان تشویشناک حالات کو بار بار ہونے دیں گے؟اگر آپ مجھ سے پوچھیں گے تو میں کہوں گا نہیں۔انہوںنے کہاکہ تنازعات کو ہم اپنے ممالک میں واقع نہیں ہونے دیں گے ¾ہم تنازعات کو دنیامیں واقع نہیں ہونے دیں گے۔ انہوںنے کہاکہ انسانیت کے حوالے سے احترام انسانیت ہی ہمارا مقصد ہونا چاہیے ¾بحیثیت قوم ہماری زندگیوں میںمیں پھر اعادہ کروں گا کہ احترام انسانیت کو ملحوظ رکھا جائے۔انہوںنے کہاکہ تاریخ نے ہمیں سکھایا ہے کہ ہتھیار اور فوجی طاقت کبھی بھی تنازعات کا حل نہیں ہو سکتے ¾صرف ہتھیار اور فوجی طاقتیں ہی کبھی دنیا میں امن نہیں لا سکتی اور اسے برقرار نہیں رکھ سکتیں ¾مسابقت، اسلحہ کی دوڑ کے واقعات جاری رہیں گے اور تضادات وقوع پذیر ہوتے رہیں گے ¾انڈونیشیا ایسا ملک ہے جو کہ تنازعات سے گزرا۔آچے(ACEH) میں تنازعات، مثال کے طور پر۔۔۔ ۰۳ سال سے زائد عرصہ سے وقوع پذیر ہو رہے ہیں ¾صرف فوجی نقطہ نظر سے ہی آچے(ACEH) میں تنازعات کو حل نہیں کیا گیا انہوںنے کہاکہ تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے بات چیت کے ذریعے حل کیا گیا ہے انہوں نے کہاکہ اس وجہ سے مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانا چاہیے۔مذاکرات کی یہ بھی طریق ہے جو کہ آسیان کو بناتی ہے ¾ جنوب مشرقی ایشیا میں دس ممالک کی ایسوسی ایشن کو جنوب مشرقی ایشیا میںاستحکام اور خوشحالی کے آلہ حرب کے قابل ہیں۔انہوںنے کہاکہ میں امید کرتا ہوں کہ ہم میں سے ہر ایک ہم میں سے ہر ایک عالمی امن میں اپنا کردار ادا کرے گا ¾ ہم میں سے ہر ایک دنیا کی آسودگی کے لئے انسانیت کے نام پر انصاف کے نام پر کوششوں کے لئے اپنا کردار ادا کرے گاانہوںنے کہاکہ ہمیں ”مسائل کے حل“ کے لئے فریق ہونا چاہیے نہ کہ ہم مسائل پیدا کرنے کے حامی ہوں۔ انہوںنے کہاکہ آئیں اس دنیا میں رہنے والے تمام انسانوں کے نام پر اس دنیا میں امن اور خوشحالی پیدا کرنے کے لئے مل جل کر کام کریں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.