تحریک انصاف سے سیاسی اتحاد کافیصلہ حالات کودیکھ کرکریں گے، خورشید شاہ

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ نگران حکومت کی تشکیل کے لئے مشاورت کا عمل ابھی جاری ہے اور اس وقت تک کوئی نام سامنے نہیں آیا جوتا بازی کی سیاست کی مذمت کرتے ہیں سینٹ میں جس کو اکثریت حاصل ہوگی لیڈر آف اپوزیشن وہی بنائے گا تحریک انصاف سے سیاسی اتحاد کا فیصلہ حالات کو دیکھ کر کریں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو اپنے چیمبر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ قائد حزب اختلاف نے کہا کہ قائد حزب اختلاف کے معاملے پر کوئی جھگڑا نہیں ہے اور نہ ہم جھگڑا چاہتے ہیں۔ ہمارے پاس اپنے 21 ممبر ہیں اس کے علاوہ اتحادیوں کو  ملا کر ہمیں اکثریت حاصل ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ سینٹ الیکشن کے بعد آگے کی سیاست کس طرف جارہی ہے وہ حالات کو دیکھتے ہوئے ہم فیصلہ کریں گے۔سید خورشید شاہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی جوتا بازی کی سیاست کی مذمت کرتی ہے ہمارا معاشرہ اس رجحان کی اجازت نہیں دیتا۔ یہ ہماری اقدار اور روایات کے خلاف ہے۔ جو لوگ سیاسی طور پر میدان میں نہیں آتے وہ اس طرح کی کارروائیاں کرتے ہیں۔ ان چیزوں سے ہم ڈرنے والے نہیں ہیں۔ ہم گولیوں سے نہیں ڈرتے۔ نگران حکومت سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے بات چیت کا عمل جاری ہے۔حکومت بھی اس معاملے پر مشاورت کر رہی ہے اور ابھی تک انہوں نے بھی کوئی نام نہیں دیا ہے۔ ہم بھی اپنے اتحادیوں کے ساتھ مشاورتی عمل میں مصروف ہیں۔ جب کوئی نام وہ بتائیں گے میں پارٹی میں جاﺅں گا۔ ابھی تک حکومت نے کوئی نام نہیں دیا۔ حالانکہ ابتدائی گفت و شنید ہوئی ہے۔ لاہور میں ایک روز قبل ہونے والے بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے سید خورشید شاہ نے کہا کہ کل کا دھماکہ فکر کی بات ہے۔ ایک طرف دہشتگردوں کی کمر توڑنے کی بات ہو رہی ہے اور دوسری طرف اس طرح کے دھماکے ہو رہے ہیں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.