Daily Taqat

نوازشریف کوکسی حب الوطنی سرٹیفکیٹ لینےکی ضرورت نہیں، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ نواز شریف نے ملک کےخلاف کچھ نہیں کہا،قومی سلامتی کے معاملے پر سیاست نہ کی جائے،اخباری بیان میں ایک جملہ مس رپورٹ ہواجسے بھارتی میڈیا نے اپنے مقاصد کے لئے اچھالا،ہمیں بھارت کا آلہ کار نہیں بننا چاہیے،نواز شریف نے ممبئی حملوں کےلئے پاکستان سے لوگ بھیجنے کی بات نہیں کی ،وثوق سے کہہ سکتا ہوں تنقید کرنے والوں نے خبر پڑھی ہی نہیں ہے،بدقسمتی ہے بھارتی میڈیا نے جو کچھ چلایا اس پر سارا معاملہ کھڑا کر دیا گیا۔قومی اسمبلی میں اجلاس کے دوران اپوزیشن اراکین کی تقاریر کا جواب دیتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ دھواں دھار تقریریں کی گئیں لیکن میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کو جو لوگ تنقید کر رہے ہیں ان لوگوں نے اصل خبر پڑھی ہی نہیں ۔ بھارتی میڈیا نے جو کچھ چلایا بدقسمتی سے اسی پر سارا معاملہ کھڑا  کر دیا گیا۔ جس نے ملک کو ناقابل تسخیر بنایا اس کیلئے غداری کی باتیں ہو رہی ہیں، غلط باتوں اور بدتمیزی کرنے سے پہلے سوچنا چاہیئے۔ خبرپڑھی ہوتی تواپوزیشن والے ایسی باتیں نہ کرتے۔ غیرریاستی عناصر کے حوالے سے بیان غلط رپورٹ ہوا۔بیان کا ایک جملہ غلط رپورٹ ہوا جسے بھارتی میڈیا نے اپنے مقاصد کےلئے اچھالا اور ہم اسے لے کر چل پڑے۔اپنے آپ کو بھارت کا آلہ کار نہیں بنانا چاہیے۔وزیراعظم نے کہا کہ ہماری بدقسمی ہے کہ ہم بھارت کی تشریح لے کر چل رہے ہیں، کیا ہم اپنے آپ کو بھارتی مقاصد کے لیے استعمال ہونے دینا چاہتے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ 12 مئی کو خبر شائع ہوئی اور ہفتے کو مقامی کسی اخبار میں یہ معاملہ نہیں تھا، وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ کسی ایک فرد نے بھی خبر نہیں پڑھی ہوگی، اگر پڑھی ہوتی تو کبھی غداری اور اس قسم کی باتیں نہ کرتے۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اخبار منگوالیں جو باتیں اپوزیشن ارکان کر رہے ہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے، نان اسٹیٹ ایکٹرز کے حوالے سے جو ایک جملہ ہے وہ غلط رپورٹ ہوا، نواز شریف نے یہ نہیں کہا کہ وہ لوگ جنہوں نے ممبئی میں حملہ کیا انہیں پاکستان سے جان بوجھ کر بھیجا گیا، اگر یہ تاثر قائم ہوا ہے تو بھارتی میڈیا نے کیا، اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان کی پالیسی ہے کہ ہم اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک پر حملے کے لیے استعمال ہونے نہیں دیں گے، یہ پالیسی جب نواز شریف وزیراعظم تھے، اس وقت بھی تھی اور آج بھی اس پر قائم ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جو ایشو تھا وہ ایسا نہیں کہ اس پر صرف نواز شریف نے بات کی ہو، اس سے قبل ممبئی حملوں سے متعلق پرویز مشرف، سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل (ر)پاشا، عمران خان اور رحمان ملک نے بھی باتیں کیں۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اگر اس معاملہ کو بڑھانا ہے تو پارلیمنٹ ‘نیشنل ٹرتھ اینڈ ری کنسلیشن کمیشن’ بنائے مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ جس نے اس ملک نا قابل تسخیر بنایا آج یہاں غداری کی باتیں ہورہی ہیں یہ قابل قبول نہیں، کسی کو حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ دینے کا اختیار ہے اور نہ ضرورت، اور جو لوگ قومی سلامتی کے معاملے پر سیاست کر رہے ہیں وہ بھارت کے آلہ کار بن رہے ہیں۔وزیراعظم نے ایوان میں موجود اپوزیشن رہنماو¿ں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں تو کریں، اس سے ملک کے مفاد کو نقصان ہی پہنچے گا فائدہ نہیں ہوگا۔وزیراعظم شاہد خاقان کا کہنا تھا کہ کوئی کمیشن اور کوئی غداری کا مقدمہ درج کرانے کا کہتا ہے، پارٹی لیڈرز کو حقائق پرمبنی باتیں کرنی چاہئیں۔ سیاسی مقاصد کے لیے ہم نے نیشنل سیکیورٹی کودا و¿پر لگادیا، اس معاملے پر پارلیمنٹ کمیشن بنائے ، ماضی میں جانا ہے تو پارلیمنٹ کمیشن بنا دے۔وزیراعظم نے کہا کہ قومی سلامتی میٹنگ میں اس تاثر کو مسترد کیا گیا کہ حملہ آوروں کو پاکستان سے بھیجا گیا، نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کی میٹنگ بلاناضروری تھا، معاملے کوسیاسی ایشو بنانے سے ملک کو نقصان پہنچے گا۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »