جمعیت علما اسلام (ف) کے اراکین کا مائیک بند کرنے پرایوان سے واک آﺅٹ

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں جمعیت علماءاسلام (ف) کے اراکین نے نکتہ اعتراض پر مائیک بند کئے جانے کے خلاف ایوان سے واک آﺅٹ کیا جبکہ قائمقام سپیکر نے وزراءکو نمبر
ہدایت کی ہے کہ آئندہ وقفہ سوالات کے جوابات ای میل کے ذریعے اجلاس سے 48 گھنٹے قبل لازمی بھجوائیں ۔بدھ کو قومی اسمبلی میں کچھ دیر کارروائی معطل رہنے کے بعد اجلاس دوبارہ ڈپٹی سپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی کی زیر صدارت شروع ہوا۔ ایوان میں دوبارہ گنتی کے بعد ارکان کی مطلوبہ تعداد پوری ہونے پر وقفہ سوالات کی کارروائی شروع ہوئی۔اجلاس کے دوران قائم مقام سپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی نے محکموں اور وزارتوں کو ہدایت کی کہ 29 ستمبر کو تمام وزارتوں اور ڈویژنوں سے کہا گیا تھا کہ سوالات کے جوابات بذریعہ ای میل بھی قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کو بھجوائیں جس پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ وزیر پارلیمانی امور تمام وزارتوں اور ڈویژنوں کو اس حکم کی تعمیل یقینی بنانے کی ہدایت کریں۔ اجلاس کے دور ان نکتہ اعتراض پر محمد جمال الدین نے بھی محمود خان اچکزئی کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ وزارت خزانہ اور سیفران کے درمیان ہے۔ جنوبی وزیرستان میں 50 بم دھماکوں میں 72 افراد جاں بحق ہوئے اور سینکڑوں کی تعداد میں لوگ معذور ہیں۔ حکومت ان لوگوں کی مدد کرے ¾ ڈپٹی سپیکر کے حوالے سے کلمات کی بناءپر ان کا مائیک بند کردیا گیا جس پر جے یو آئی (ف) کے ارکان نے واک آﺅٹ کیا۔اجلاس کے دور ان قائم مقام سپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی نے ہدایت کی کہ جنوبی وزیرستان ایجنسی کے4 ہزار خاصہ داروں کو 6 ماہ کی تنخواہ کی ادائیگی یقینی بنائی جائے۔ نکتہ اعتراض پر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ جنوبی وزیرستان ایجنسی میں چار ہزار خاصہ داروں کی 6 ماہ سے تنخواہیں بند ہیں۔ 6 ماہ پہلے ان سے کسی نے فی کس کے حساب سے رشوت مانگی تھی جس کے بعد ان کی ادائیگی روک دی گئی۔ ڈپٹی سپیکر نے پارلیمانی سیکرٹری ڈاکٹر محمد افضل ڈھانڈلہ کو ہدایت کی کہ وہ یہ ادائیگی یقینی بنائیں۔ اجلا س کے دور ان آسیہ ناز تنولی کے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے سروے میں غریب اور نادار خواتین کو شامل نہ کرنے کے حوالے سے توجہ مبذول نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے خزانہ رانا محمد افضل خان نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا فنڈ ہم نے تین گنا کردیا ہے۔ 16 اضلاع میں جدید طریقہ کار کے تحت پائلٹ پراجیکٹ کے تحت سروے کیا جارہا ہے۔ جو لوگ اس میں کسی وجہ سے رہ جائیں گے وہ شکایت کا اندراج بھی کر سکیں گے۔ توجہ مبذول نوٹس پر آسیہ ناز تنولی‘ ثریا اصغر کے سوالات کے جواب میں وزیر مملکت نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے استفادہ کرنے والے افراد کی تعداد 18 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر دہلیز پر جاکر جدید ڈیوائس کے ذریعے سروے کیا جارہا ہے۔ فارم کے ذریعے سروے ختم کردیا گیا ہے۔ اس کے باوجود اگر کہیں کمی رہ جائے تو ہمارے علم میں لائی جائے وہ دور کی جائے گی۔ نکتہ اعتراض پر مخدوم سید علی حسن گیلانی نے کہا کہ وزیر مملکت برائے خزانہ کو اگلی نشستوں میں اسحاق ڈار والی نشست دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی کی رقم کی تقسیم میں کسی رکن پارلیمنٹ کی مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔ شاہ جی گل آفریدی نے نکتہ اعتراض پر بارودی سرنگوں سے متعلق واقعات کی نشاندہی کی اور کہا کہ علاقوں کو کلیئر کرانے کے بعد بھی اس طرح کے واقعات کیوں پیش آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی وزیرستان میں بارودی سرنگوں سے 72 افراد شہید اور مویشیوں کا نقصان ہوا ہے اس حوالے سے جامع اقدامات کرنے چاہئیں۔ ایک پہاڑی پر آٹھ ہزار بارودی سرنگوں کی موجودگی کی اطلاع ہے اگر اس کے تدارک کے لئے اقدامات نہ کئے گئے تو صورتحال بہت خراب ہو جائے گی۔ چند روز پہلے بھی تین بچے اس طرح کے ایک واقعہ میں شدید زخمی ہو چکے ہیں۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے وفاقی نظامت تعلیمات اسلام آباد میں اساتذہ اور غیر تدریسی عملہ کی ریگولرائزیشن نہ ہونے پر پائی جانے والی تشویش کے حوالے سے توجہ دلاﺅ نوٹس کے جواب میں وزیر مملکت ارشد لغاری نے بتایا کہ گزشتہ دور میں خورشید شاہ کی قیادت میں کمیٹی نے دستیاب پوسٹوں پر مستقل کیا تاہم کچھ رہ گئے تھے۔ 517 آسامیاں اب مشتہر کی گئی ہیں ¾ایسے ملازمین کو اس امتحان میں پانچ اضافی گریس مارکس دیئے جائیں گے۔ شیریں مزاری کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ عدالتوں کے احکامات ہیں کہ تحریری و زبانی امتحان لے کر آسامیاں پر کی جائیں ¾ڈیلی ویجز پر نان کوالیفائیڈ لوگوں کو بھی رکھا جاتا ہے تاہم ریگولر نہیں رکھا جاسکتا۔ قائم مقام سپیکر نے کہا کہ ایک ریکورٹمنٹ پالیسی ہے۔ ارشد لغاری نے کہا کہ یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اور جمعرات کو تاریخ بھی ہے۔ یہ گزشتہ دور میں بھرتی کئے گئے ہیں۔اجلاس کے دور ان نکتہ اعتراض پر فاٹا سے رکن قومی اسمبلی شاہ جی گل آفریدی نے کہا کہ دستور پاکستان کا آرٹیکل 247 حکومت کو یہ اجازت دیتا ہے کہ وہ جب چاہے فاٹا کو خیبر پختونخوا میں کلی یا جزوی طور پر ضم کردے۔ انہوںنے کہاکہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 247 میں درج ہے کہ حکومت جب چاہے تو فاٹا یا اس کے کسی علاقے کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کر سکتی ہے۔ جو لوگ اس پر اعتراض کر رہے ہیں انہی کی وجہ سے فاٹا میں خون خرابہ برپا ہوا۔ 2018ءکے انتخابات سے قبل صوبائی اسمبلی کا دائرہ کار فاٹا تک بڑھایا جائے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.