فلسطینی ڈاکٹرکاکمال، بغیرسرجری دل میں والوڈال کرسب کوحیران کردیا

الخلیل :  انسانی جسم میں دل جیسے انتہائی حساس اور نازک عضو کا علاج بھی انتہائی احتیاط کا متقاضی ہے۔ امرض دل کے بہت سے کیسز میں سرجری کے بغیر علاج ممکن نہیں، مگر ایک فلسطینی ڈاکٹر نے دل کے اسقفی صمام [Mital Valve] یعنی تاج دار والو کی پیوند کاری بغیر سرجری کر کے حیران کردیا۔ اسقفی صِمام (mitral valve) اصل میں قلب میں پایا جانے والا ایک صمام [valve] ہوتا ہے جو بائیں اذن اور بائیں بطین کے درمیانی راستے پر ایک یک رخی دروازے یا کواڑ کی صورت موجود ہوتا ہے اور دوران خون کو الٹا بہنے سے روکتا ہے۔ اسقفی صمام کو — اسقفی — دراصل اسکی شکل کو تاجِ اِسقف (bishop’s crown یعنی miter) سے تشبیہ دینے کی وجہ سے کہا جاتا ہے یعنی اسکے کواڑ کا آپس میں ملاپ یوں ہوتا ہے کہ جیسے کسی پادری (اسقف) کے سر پر موجود تاج کی پٹیاں 45 کے زاویئے پر مل رہی ہوں۔ اس کو دو کواڑ ہونے کی وجہ سے — دوگوشہ صمام (bicuspid valve)— بھی کہتے ہیں ، جبکہ بعض اوقات اسی کو — بائیاں اذنی بطنی صمام (left atriobentricular valve) — بھی کہا جاتا ہے۔اردن کے دارالحکومت عمان میں قائم امراض قلب کے اسپتال میں کنسلٹنٹ ڈاکٹر عماد عبدالحفیظ الحداد نے سعودی مریض کا بغیر آپریشن علاج کیا۔ڈاکٹر الحداد نے بغیر سرجری سعودی مریض کے دل میں تاج دار والو ڈال کر طب کے میدان میں اپنی کمال مہارت کا ثبوت دیا ہے۔یہاں یہ واضح رہے کہ تاج دار صمام دل کا انتہائی پیچیدہ اور سب سے مشکل حصہ ہوتا ہے۔ ایک انسان کے دل میں چار تاج دار صمام پائے جاتے ہیں۔ یہ پہلا کیس ہے جس میں ڈاکٹر نے ایک مریض کے دل کا آپریشن کیے بغیر محض نلکی یعنی قاسطیری عمل کے ذریعے مریض کے دل میں تاج دار والو کی پیوند کاری کی ہے۔خیال رہے کہ ڈاکٹر الحداد فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے الخلیل سے تعلق رکھتے ہیں انہویں نے ابتدائی تعلیم الخلیل شہر کے حسین بن علی اسکول سے حاصل کی۔ اس کے بعد عمان میں جامعہ الاردن میں داخلہ کیا جب کہ ایم بی بی ایس اور پی ایج ڈی نیوکاری یونیورسٹی سے کی۔ وک اب اردن میں امراض قلب کے معالج کے طور پر خدمات انجام دیتے ہیں۔انہوں نے پہلی بار سنہ 2009 میں قساطیری طریقہ علاج سے ایک مریض کے دل میں والو ڈالا تھا۔ چند روز قبل انہوں نے دو گھنٹے کے عمل کے دوران ایک سعودی مریض کے دل میں تاج دار صمام ڈال کر دنیا کے بڑے بڑے معالجین کو حیران کردیا۔ڈاکٹر الحداد نے قسطرہ یعنی نکلے کیلئے 2008 کے بعد دسیوں مریضوں کے دلوں میں والو ڈالے۔ بعض لوگ ان کے اس طریقہ علاج کو جنونیت قرار دیتے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ کئی سال سے کامیابی کے ساتھ دل کے امراض کا علاج کرتے چلے آ رہے ہیں۔اب تک تاج دار والو کی پیوندکاری محض سرجری کے ذریعے کی جاتی رہی ہے، مگرانہوں نے قساطیری عمل کے ذریعے بغیر سرجری کے یہ والو ڈالا ہے۔علاج کے چوبیس گھنٹے کے بعد سعودی عرب کا وہ مریض ڈسچارج کردیا گیا جس کے دل میں تاج دار والو ڈالا گیا تھا۔ڈاکٹرالحداد نے کہا کہ وہ دل کے امراض کا بغیر سرجری علاج کے حوالے سے ان تھک محنت کررہے ہیں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.