پاکستان ٹیک آف پوزیشن میں ہے مایوسی کی باتیں نہیں کرنی چاہیے، احسن اقبال

اسلام آباد : وزیر داخلہ پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ حکومت نے دہشت گردی، توانائی اور معیشت کے بحرانوں سے نمٹنے کےساتھ ٹیکنالوجی اور علم کے شعبہ میں بھی بنیادی اقدامات کئے ہیں جن کے آنے والے وقت میں اثرات سامنے آئیں گے، پاکستان اب ٹیک آف پوزیشن میں ہے، مایوسی کی باتیں نہیں کرنی چاہئیں ¾پسماندہ علاقوں میں بھی یونیورسٹیاں اور کیمپسز کھولے، ہر نوجوان کو لیپ ٹاپ دیا جائےگا ۔ جمعہ کو نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) میں نیشنل سینٹر آف آرٹیفشل انٹیلیجنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو دوسری قوموں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کی ضرورت ہے، یہ تغیّر اور جدت کا دور ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے آنکھ کھولی تو سلیٹ اور تختی کا زمانہ تھا جو اب ختم ہو گیا، اب ٹیبلٹ اور فور جی نے اس کی جگہ لے لی ہے، پین لٹریسی کی جگہ کمپیوٹر لٹریسی آ گئی ہے، یہ بہت بڑا انقلابی تغیّر ہے، بیس تیس سال پہلے یونیورسٹیوں میں جو معلومات لائبریریوں تک محدود تھیں، اب سمارٹ فونز کی شکل میں یہ ہماری جیب میں ہیں، انسانی معیشت اور معاشرت پر اس تغیّر اور جدت کے گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں، ہمیں آنے والے وقت کے تقاضوں کو سمجھ کر خود کو اس کیلئے تیار کرنا چاہئے اور خود کو تبدیلی اور حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑنا چاہئے، ہم نے آنے والے وقت کے چیلنجوں کیلئے خود کو تیار نہ کیا تو مٹ جائیں گے، بدقسمتی سے سائنسی ایجادات میں ہم بہت پیچھے رہ گئے ہیں، حالانکہ ہمیں سب سے آگے ہونا چاہئے تھا، آج مسلمان سائنسدان کہیں نظر نہیں آتے، ہمارے معاشرے میں جہاد کرنے والوں کی کمی نہیں لیکن نوبل انعام جیتنے والے سائنسدان ناپید ہیں، اگر ہم سائنس و ٹیکنالوجی پر دسترس حاصل کریں تو دنیا میں کسی کو ہماری توہین کرنے کی جرات نہیں ہوگی، سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں جو قومیں قیادت کر رہی ہیں انہیں کی دنیا میں عزت اور طاقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابن خلدون، بو علی سینا، رازی، ابن الہیشم جیسے مسلمان سائنسدان آج مسلمانوں میں پیدا نہیں ہو رہے ہیں، جو تمام سائنسی و معاشرتی علوم کے م¶جد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2013ءمیں ہم نے اقتدار سنبھالا تو ہماری حکومت کی توجہ جہاں ایک طرف دہشت گردی، توانائی اور معیشت جیسے فوری مسائل حل کرنے پر تھی، وہیں دوسری جانب دنیا میں ہونے والی تبدیلیوں سے خود کو ہم آہنگ کرنا بھی ہمارے پیش نظر تھا تاکہ مستقبل کے تقاضوں سے خود کو ہم آہنگ کرتے ہوئے ہم آگے بڑھ سکیں، اسی لئے وژن 2025ءتشکیل دیا جو مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے روڈ میپ فراہم کرتا ہے، ہم نے نالج اکانومی کی بنیاد رکھی، اس ریسرچ سینٹر کا قیام اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا نے ہم سے سائنس سیکھی لیکن آج ہمارا رویہ یہ ہے کہ ہم ہر نئی ایجاد کی مخالفت کرتے ہیں، قرآن میں اللہ تعالیٰ نے جگہ جگہ سائنس کی مثالوں پر غور کا حکم دیا اور بتایا کہ اس میں ہمارے لئے نشانیاں ہیں، اللہ تعالیٰ نے ہمیں مشاہدے اور تدبر و تفکر کی دعوت دی کیونکہ کائنات کے نظام کی سمجھ اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے سائیکل، لا¶ڈ سپیکر، ریڈیو، ٹی وی، وی سی آر، کیبل اور سیٹلائٹ سمیت ہر نئی ایجاد کو مسلمانوں نے مسترد کیا اور اس کے خلاف فتوے دیئے اور انہیں شیطانی آلات قرار دیا، آج تبلیغ اور دعوت کیلئے انہی ایجادات کا استعمال ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرف دور میں جب مجھے مدینہ منورہ میں کام کرنے کا موقع ملا تو دیکھا کہ حرم میں موبائل فون سے تصویر لینے کی کوشش کرنے والے کا فون ضبط کر لیا جاتا تھا، آج ایسا نہیں ہوتا، ہم نے ہر ٹیکنالوجی کو مسترد کیا لیکن جب وہ حقیقت بن گئی تو چاروناچار اسے قبول کر لیا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم نے 10 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی، معیشت کو بہت آگے لے گئے، اس کے ساتھ ساتھ ہم نے علم اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے بھی بہت سارے اقدامات کئے ہیں، ہر ضلع میں یونیورسٹی کیمپس قائم کیا جائے گا، ہمارے معاشرے میں کچھ ایسے ارسطو، سقراط اور بقراط ہیں جو ہر چیز میں منفی پہلو تلاش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نئی یونیورسٹیاں کھولنے کی بجائے پہلے سے موجود یونیورسٹیوں کا معیار بہتر بنایا جائے، نئی یونیورسٹیاں اس لئے بنائی جا رہی ہیں تاکہ پسماندہ اور دوردراز علاقوں میں رہنے والے نوجوانوں کو بھی اعلیٰ تعلیم کے مواقع میسر آئیں، فاٹا، ژوب، قلعہ عبداللہ، پشین، خضدار، وڈ، نوشکی، گوادر، قلات، گلگت بلتستان سمیت ملک بھر میں بچیوں کیلئے بھی یونیورسٹیاں اور کیمپسز بنائے جا رہے ہیں تاکہ انہیں اپنے گھروں کے قریب تعلیم کے مواقع میسر آئیں، ان دو تین سالوں میں ہم نے اس سلسلے میں بہت کوشش کی ہے، اس کے ساتھ ساتھ یونیورسٹیوں کا معیار بہتر بنانے کیلئے بھی اقدامات کر رہے ہیں تاکہ ہماری یونیورسٹیاں دنیا کی ٹاپ 100 یونیورسٹیوں میں شمار ہوں، انجینئرنگ یونیورسٹیوں اور پی ایچ ڈیز پر خصوصی توجہ دی ہے، امریکہ کی یونیورسٹیوں میں چین کے 3 لاکھ اور بھارت کے ڈیڑھ لاکھ سے زائد طلباءتعلیم حاصل کر رہے ہیں جبکہ پاکستان کے صرف پانچ چھ ہزار ہیں، ہم ہر سال ایک ہزار طلباءکو امریکہ میں پی ایچ ڈی کیلئے بھجوائیں گے اور اس کیلئے خود سے فنڈز دیں گے، یہ کام 60ءکی دہائی بالخصوص نائن الیون کے بعد ہونا چاہئے تھا کیونکہ اس وقت جو صورتحال تھی اس سے فائدہ اٹھایا جا سکتا تھا لیکن ہم نے صرف دفاعی سودوں پر توجہ دی۔ انہوں نے کہا کہ 10 ہزار پی ایچ ڈیز کو ہم نے فنڈز دیئے تاکہ وہ بیرون ملک جا کر پڑھیں اور واپس آ کر ملک کی خدمت کریں کیونکہ پاکستان میں تربیت یافتہ ہیومن ریسورس کی کمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین سے پاکستان تک انفارمیشن ہائی وے بنائی جا رہی ہے، گلگت بلتستان کو بھی عالمی معیار کی کنکٹیویٹی ملے گی، اس سال پانچ سینٹر آف ایکسیلنس قائم کر رہے ہیں جن میں سے یہ پہلا سینٹر ہے، یہ سینٹر پاکستان کو فورتھ انڈسٹریل ریوولوشن کی اکانومی کیلئے بنیاد فراہم کریں گے، ہمیں پیور ریسرچ نہیں اپلائیڈ ریسرچ کی ضرورت ہے، اس سینٹر کے قیام سے آرٹیفشل انٹیلیجنس کے شعبہ میں پاکستان بہت آگے جائے گا، ہمیں ٹیکنالوجی کے نئے شعبوں میں مواقع سے استفادہ کرنا ہے اور نوجوانوں کو اس کیلئے مواقع بھی فراہم کرنا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دس سال پہلے ہم نے نوجوانوں کو لیپ ٹاپ دینے شروع کئے تو مذاق اڑایا گیا اور اسے سیاسی رشوت قرار دیا گیا، اعلیٰ تعلیم کیلئے لیپ ٹاپ اب ناگزیر ہے، انہی لیپ ٹاپ سے نوجوانوں نے ایپس بنائیں اور اسی کی بدولت ای لانسنگ ممالک میں پاکستان کا شمار ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب آسان شرائط پر یونیورسٹی کے ہر طالب علم کو لیپ ٹاپ ملے گا، ہمارے اقدامات کے آنے والے وقت میں اچھے اثرات مرتب ہوں گے، ایک لاکھ نوجوانوں کو آئی ٹی سیکٹر کی تربیت دی جائے گی، پاکستان اب ٹیک آف کی پوزیشن میں ہے، ہمیں مایوسی کی باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ 2013ءمیں جو پاکستان دنیا کا خطرناک ملک تھا آج ایشیا کی ابھرتی ہوئی معیشت قرار دیا جا رہا ہے، جس ملک میں بیس سے بائیس گھنٹے بجلی نہیں آتی تھی آج بیس سے بائیس گھنٹے بجلی آتی ہے، کوئی دن نہیں گذرتا تھا کہ جب ڈبل ڈیجٹ میں ہلاکتیں نہ ہوں، آج الحمداللہ ہفتوں اور مہینوں دہشت گردی کا کوئی واقعہ نہیں ہوتا، پہلے دہشت گردوں نے ہمیں محاصرے میں لے رکھا تھا آج دہشت گردوں کو ریاست نے محاصرے میں لے رکھا ہے، دنیا ہمارے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہاں ہے، ہمیں معاشی قوم بننے کی ضرورت ہے کیونکہ قوموں کا دفاع کلاس روموں، لیبارٹریوں اور مضبوط معیشت سے ہی ممکن ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.