Daily Taqat

پاکستان ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاﺅ پرعزم ہے، تہمینہ جنجوعہ

اسلام آباد: سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے کہا ہے کہ پاکستان ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاﺅ اور تخفیف اسلحہ کے مقاصد کیلئے پوری طرح پرعزم ،نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے،پاکستان ایٹمی دہشت گردی سے نمٹنے کی غرض سے عالمی اقدامات میں فعال شرکت کر رہا ہے،پاکستان کو در پیش توانائی کے سنگین بحران پر قابو پانے ،پائیدار اقتصادی گروتھ اور صنعتی ترقی کیلئے سول ایٹمی توانائی پر انحصار ناگزیر ہے، پاکستان کا ایکسپورٹ کنٹرول سسٹم انتہائی مستحکم ،این ایس جی،ایم ٹی سی آر اور آسٹریلیا گروپ کے معیارات سے مطابقت رکھتا ہے۔ بدھ کو سٹریٹجک ایکسپورٹ کنٹرول ڈویژن کے زیر اہتمام بین الاقوامی سیمینار کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے کہا کہ پاکستان کی نیوکلیئر سکیورٹی ، نیشنل کمانڈ اتھارٹی(این سی اے)کی قیادت میں مضبوط کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم ،ریگولیٹری نظام،جامع ایکسپورٹ کنٹرولز اور بین الاقوامی تعاون پر مشتمل ہے جبکہ عالمی ادارہ برائے جوہری توانائی کے تعاون سے نیوکلیئر سیکیورٹی سے متعلق جدید ترین سنٹر آف ایکسی لینس (پی سی ای این ایس)قائم کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا پھیلاﺅ بین الاقوامی امن و استحکام کیلئے خطرہ ہے، پاکستان ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاو اور تخفیف اسلحہ کے مقاصد کیلئے پوری طرح پرعزم ہے، بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پھیلاﺅ سے متعلق عالمی برادری اور پاکستان کے مشترکہ خدشات ہیں جو بین الاقوامی امن و استحکام کیلئے خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم حساس ٹیکنالوجی اور مصنوعات کی منتقلی اور ان کے غلط استعمال کی موثر روک تھام کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہیں لیکن بیک وقت سماجی و اقتصادی ترقی کی ضروریات کیلئے تمام ممالک ٹیکنالوجیز کے دہرے استعمال تک رسائی میں جائز مفاد رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان عدم پھیلاو سے متعلق بین الاقوامی معاہدوں پر سختی سے کاربند ہے اورسٹیٹ پارٹی کی حیثیت سے اپنی زمہ داریاں احسن طریقے سے نبھا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایٹمی دہشت گردی سے نمٹنے کی غرض سے عالمی اقدامات میں فعال شرکت کر رہا ہے۔ سیکرٹریر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کا ایکسپورٹ کنٹرول سسٹم انتہائی مستحکم اور این ایس جی،ایم ٹی سی آر اور آسٹریلیا گروپ کے معیارات سے مطابقت رکھتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نیوکلیئر سیکیورٹی کے عناصر نیشنل کمانڈ اتھارٹی(این سی اے)کی قیادت میں مضبوط کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم ،ریگولیٹری نظام،جامع ایکسپورٹ کنٹرولز اور بین الاقوامی تعاون پر مشتمل ہیں جبکہ پاکستان نے عالمی ادارہ برائے جوہری توانائی کے تعاون سے نیوکلیئر سیکیورٹی سے متعلق جدید ترین سنٹر آف ایکسلینس (پی سی ای این ایس)قائم کر رکھا ہے۔تہمینہ جنجوعہ نے کہا کہ پاکستان نے نیوکلیئر سپلائرز گروپ(این ایس جی) کے گائیڈلائنز پر رضاکارانہ عملدرآمد کرتے ہوئے گروپ کی رکنیت کیلئے درخواست دی ہے جو میرٹ اور ٹیکنیکل صلاحیتوں کی بنیاد پر ہے۔ پاکستان این ایس جی کی رکنیت کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام خالصتا پر امن مقاصد کیلئے ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان انٹر نیشنل سائنٹفک اشتراک کی طویل روایات کا حامل ملک ہے اور خطے میں سرن کی ایسوسی ایٹ رکنیت حاصل کرنے والا پہلا ملک ہے۔ تہمینہ جنجوعہ نے کہا کہ پاکستان کی رکنیت سے این ایس جی کے مقاصد کو مزید آگے لیجانے میں معاون ثابت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو توانائی کی قلت کا سامنا ہے، پاکستان کو در پیش توانائی کے سنگین بحران پر قابو پانے ،پائیدار اقتصادی گروتھ اور صنعتی ترقی کیلئے سول ایٹمی توانائی پر انحصار ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ اگلی دو دہائیوں میں توانائی کی ضروریات میں سات گنا اضافہ متوقع ہے۔اس لئے ہمارا قومی مفاد 2050ءتک ایٹمی توانائی کی صلاحیت پچاس ہزار میگاواٹ تک بڑھانے پر زور دیتا ہے کیونکہ ایٹمی توانائی شفاف اور فوصل فیول کے متبادل کم لاگت کی حامل ہے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »