Daily Taqat

پاکستان کودرپیش چیلنجزسے نمٹنے کیلئے اور وقارمیں اضافہ کیلئے ملکرکوشش کرنے کی ضرورت ہے، خواجہ محمد آ صف

اسلام آباد:  ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کے اجلاس میں وزیر خارجہ خواجہ محمد آ صف نے کہاکہ پاکستان کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لئے اور وقار میں اضافہ کے لئے ملکر کو شش کرنے کی ضرورت ہے، حکومت نے تمام تر مشکلات  اور چیلنجز کے باوجود مسائل پر قابو پانے کی کوشش کی ہے،سینیٹ سے تمام تر معاملات پر بھرپور تعاون کیاگیاجس پر شکر گزار ہیں،سینٹ ارکان کے تجربات اور گائیڈ لائنز کے مطابق آگے بڑھیں گے، ارکان کمیٹی نے تلور سمیت نایاب پرندوں اور جانوروں کے شکار پر پانچ برس کی پابندی کی تجویز دی اورعرب شہزادوں کو شکار کی اجازت دینے پر ارکان نے تحفظات کا اظہار کیا جبکہ سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے کمیٹی کو آ گاہ کیاکہ اٹھارھویں ترمیم کے تحت وزارت خارجہ سفارشات سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتی،صوبے علاقے مختص کرنے اور قواعد پر عمل کرانے کے پابند ہیں، کھوکھرا پار مونا بھاﺅ ریل لنک کو 3 سال تک مزید کھلا رکھنے پر اتفاق رائے ہوا ہے،اس راستے کو 2021ءتک اب استعمال کیاجاسکے گا، پی ایس ڈی پی منصوبے کے تحت مارگلہ کنونشن سینٹر بنارہے ہیں،یہ کنونشن سینٹر خالصتا” بین الاقوامی کانفرنسوں کیلئے ہوگا،وزارت خارجہ کا غیر ملکی مشنز کیلئے 12.7 ارب روپے کے بجٹ اخراجات ہیں۔ بدھ کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی براے خارجہ امور کا اجلاس چئیرپرسن نزہت صادق کی زیر صدارت ہوا۔اجلاس میںتلور اور دیگر نایاب پرندوں و جانوروں کے شکار کے معاملہ پر غور کیا گیا۔اجلاس میںوزیر خارجہ خواجہ آصف نے بھی شرکت کی۔وزیر خارجہ خواجہ محمد آ صف نے کہاکہ تمام تر مشکلات اور چیلنجز کے باوجود مسائل پر قابو پانے کی کوشش کی ہے۔سینٹ سے تمام تر معاملات پر بھرپور تعاون کیاگیاجس پر شکر گزار ہیں۔اطلاعات تک رسائی کے حامی ہیں، ان کیمرہ اجلاسوں کی حوصلہ شکنی کرتے رہے ہیں۔آئندہ ماہ سینٹ انتخابات کے بعد نئے ارکان آئیں گے اور نیا ہاﺅس ہوگا۔سینٹ ارکان کے تجربات اور گائیڈ لائنز کے مطابق آگے بڑھیں گے۔پاکستان کو درپیش چیلنجز کا مل کرسامنا کرنا ہے اور پاکستان کا وقار بڑھانا ہے۔پاکستان کے وقار میں اضافہ کے لئے ملکر کو ششوں کی ضرورت ہے۔ کمیٹی کو آ گاہ کیا گیا کہ رواں برس آٹھ مہمان شکار کے لیے آئے تاہم انہوں نے کی کوئی فیس ادا نہیں کی۔معاملہ پر تمام متعلقہ اداروں اور وزیر اعظم ہاوس کو بھی خط لکھا۔جب ان غیر ملکی مہمانوں سے بات کرنے کی کوشش کی تو منع کر دیا گیا۔کہا گیا کہ آپ ان غیر ملکی مہمانوں سے بات نہ کریں بلکہ ان کے سفارت خانوں سے رابطہ کریں۔ان غیر ملکی مہمانوں کو شادی میں شرکت کے بہانے کی آڑ میں نایاب پرندوں اور جانوروں کا شکار کھیلایا گیا۔ سینیٹر طاہر مشہدی نے کہاکہ تمام متعلقہ قوانین و ضوابط صوبائی حکومت اور محکمہ جنگلی حیات کو مل کر تیارکرنا چائیں۔ہم نے ماضی میں کافی کمزوری کا مظاہرہ کیا۔ہمیں ملکی مفاد اور اس کیس میں نایاب پرندوں کے مفاد کو مدنظر رکھنا ہو گا۔ہمیں غیر ملکی مہمانوں کو باور کرانا ہوگا جہاں ہمارے قوانین اجازت نہ دیں۔اراکین کمیٹی نے نایاب پرندوں اور جانوروں کے شکار پر پانچ برس کی پابندی کی تجویز دی اورعرب شہزادوں کو شکار کی اجازت دینے سے متعلق امور پر ارکان نے تحفظات کا اظہار کیا۔سیکرٹری وائلڈ لائف نے کمیٹی کو آ گاہ کیا کہ شکار کی اجازت محدود اور مخصوص ہوتی ہے۔پرندوں کے شکار کی مدت کا لائسنس اور علاقہ پہلے سے نصف کم کردیا گیا۔نایاب نسل کے جانوروں اور پرندوں کے شکار کی اجازت نہیں دی جاتی۔تلور کے شکار کی شکار گاہوں کا تعین وائلڈ لائف تاہم اجازت وزارت خارجہ دیتی ہے۔اجازت نامے کے تحت ایک ہفتہ پہلے اطلاع دینے سمیت آنے والوں کی تمام تفصیلات فراہم کرناہوتی ہیں۔تاہم قواعد پر عمل نہیں ہورہا، آنے کے چند گھنٹے پہلے بتایا جاتاہے۔پھر سکیورٹی کی وجہ سے نہ چیک کیاجاسکتاہے اورنہ ہی دیکھ سکتے ہیں کیا اور کتنا شکار کیا گیا۔ہمارے وسائل نہیں اور ایجنسیوں اور سیکورٹی کے باعث ہمارا اختیار محدود ہوجاتاہے۔یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ قیمتی شکار غیر قانونی طور پر مہمان ساتھ لے گئے۔ ایڈیشنل سیکرٹری بلوچستان نے کمیٹی کو آ گاہ کیاکہ اجازت نامے کے حامل افراد اپنے ساتھ کئی مہمان بھی لے آتے ہیں۔چیک اینڈ بیلنس کا نظام وضع ہے مگر عملدرامد نہیں ہوپاتا۔بعض اوقات بااثر افراد بالا ہی مہمانوں کو شکار گاہ لے جاتے ہیں، جس سے چیک نہیں کرپاتے۔ہوبارا نسل شکار کے علاوہ بارشیں نہ ہونے سے بھی کم ہورہی ہے۔عوامی مہم سے بھی نایاب جانوروں اور پرندوں کی نسل محفوظ بنانے کے اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔ سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے کمیٹی کو آ گاہ کیاکہ اٹھارھویں ترمیم کے تحت وزارت خارجہ سفارشات سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتی۔صوبے علاقے مختص کرنے اور قواعد پر عمل کرانے کے پابند ہیں۔غیر ملکی مہمانوں کی آمد کے اچانک آنے اور انتظامات کا مسئلہ وزارت خارجہ کو بھی درپیش ہے۔چیف پروٹوکول وزارت خارجہ نے کہاکہ قواعد پر عملدرامد نہ ہونے پر صوبائی حکومتیں سخت اقدامات کرچکی ہیں۔کے پی حکومت نے نایاب نسل کے تحفظ کیلئے 2 سال سے شکار کی اجازت نہیں دی۔بلوچستان حکومت بھی گذشتہ سال شکار روک کر قواعد پر عملدرامد کے اقدامات کرچکی ہے۔غیرملکیوں کو علاقے کے ترقیاتی کاموں میں حصہ ڈالنے کاپابند کرنے پر بھی غور ہورہاہے۔سخت اقدامات سے شکار کی حوصلہ شکنی ہوگی اور قواعد پر عملدرامد سے نایاب نسل کا تحفظ بھی ہوگا۔سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ پنجاب حکومت عدالتی فیصلے کے تحت پرندوں کی شماری اور افزائش بارے سروے کررہی ہے۔یہ تین سال کا عمل ہے، جس سے اندازہ ہوسکے گا کہ کون سی نسل نایاب ہورہی ہے۔جس پرسیکرٹری وائلڈ لائف سندھ نے تجویزپیش کی کہ پرندوں کے شکار کا اجازت نامہ بند کئے بغیر نایاب پرندوں کی شماری مکمن نہیں۔اگر پابندی نہیں لگائیں گے تو پیش رفت نہیں ہوسکے گی اور نایاب نسلیں بالاخر ناپید ہوجائیں گی۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری بلوچستان نے کہاکہ بلوچستان میں چند مقامات پر ٹرافی ہنٹنگ سے مارخور کی تعداد 150 سے 5 ہزار تک بڑھ گئی۔تلور کی بھی ٹرافی ہنٹنگ سے ان کی نسل کو تحفظ ہوسکے گا۔اجلاس میںسیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے کمیٹی کو کھوکھراپار مونابھاﺅ رابطے پر برفنگ دیتے ہوئے کہاکہ کھوکھرا پار مونا بھاﺅ ریل لنک کو 3 سال تک مزید کھلا رکھنے پر اتفاق رائے ہوا ہے۔اس راستے کو 2021ءتک اب استعمال کیاجاسکے گا۔ کمیٹی ارکان نے تجویز پیش کی کہ اس راستے سے تجارت بھی بڑھائی جانی چاہئے۔کھوکھراپار مناباو میں واہگہ کی طرز پر ایک پریڈ کا آغاز کیا جائے۔سیکرٹری خارجہ نے کہاکہ ٹرینوں کی تعداد اور تجارت شروع کرنے بارے متعلقہ وزارتیں اقدامات کریں گی۔اس سلسلے میں وزارت ریلوے اور تجارت سے بات چیت کیلئے ہم تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ دسمبر 2017 تک 47 فیصد بجٹ کا استعمال کیا۔دوران ملازمت 5 اموات ہونے پر معاوضہ دینے اور تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ کی وجہ سے اخراجات میں اضافہ ہوا۔بجٹ میں گزشتہ برس ہماری ضرورت 12.74 ارب روپے کی تھی۔جبکہ ہم نے 5.72 ارب روپے کا بجٹ استعمال کیا۔شنگھایی تعاون تنظیم میں ہماری شمولیت ہوئی ہے۔ایس سی او کا زیادہ تحریری رابطہ روسی و چینی زبانوں میں ہوتا ہے۔اس لیے روسی و چینی زبانوں کے لیے مترجموں کی خدمات حاصل کر رہے ہیں۔پی ایس ڈی پی میں ہمارا ایک کنوینشن سینٹر کی تعمیر کا ہ منصو بہ ہے ۔دنیا کے تمام ممالک میں ایک بڑا کنوینشن سینٹر ہوتا ہے۔پی ایس ڈی پی کے تحت 2015ءمیں مارگلہ کنونشن سینٹر بنارہے ہیں۔یہ کنونشن سینٹر خالصتا” بین الاقوامی کانفرنسوں کیلئے ہوگا۔دس ارب روپے کے اس منصوبے میں ایک سٹیٹ گیسٹ ہاﺅس بھی شامل ہے۔وزارت خارجہ کا غیر ملکی مشنز کیلئے 12.7 ارب روپے کے بجٹ اخراجات ہیں۔موجودہ سال کے بجٹ میں سے 5 ارب سے زائد استعمال کرچکے ہیں۔بیرون ملک مشنز میں 50 فیصد وزارت خارجہ جبکہ بقیہ کا دیگر وزارتوں اور اداروں سے تعلق ہوتاہے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »