سابق صدر نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے جو سب کو ماننا پڑتا ہے ،عدلیہ اچھا کام کر رہی ہے ، احتساب کا عمل مزید تیز ہونا چاہیے، میں جلد پاکستان واپس آوں گا ،ا ب پاکستان کے حالات 1999سے بھی بدتر ہیں۔پرویز مشرف نے کہا کہ میرے خلاف تمام مقدمات سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے ،بینظیر بھٹو قتل کیس میں بھی میرا نام سیاسی بنیادوں پر ڈالا گیا ، بینظیر قتل کیس کے ٹھوس شواہد چھوڑ کر میرے خلاف کیس بنایا گیا ،بینظیر قتل کیس کے بعد زرداری اور رحمان ملک سے ملاقاتیں ہوئیں ،آصف زرداری سے کبھی بینظیر قتل کیس پر بات نہیں ہوئی ، آصف زرداری خود بینظیر قتل کیس کی تحقیقات میں سنجیدہ نہیں ، بینظیر کے قتل بعد خالد شہنشاہ کا قتل ہوا۔انہوں نے کہا کہ ختم نبوت? کا معاملہ انتہائی حساس ہے اس معاملے پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا ، زاہد حامد کو دھرنے سے پہلے استفعیٰ دے دینا چاہیے تھا ،پانامہ کیس کے معاملے پر تمام کریڈٹ پی ٹی آئی کو جاتا ہے ، تحریک انصاف آئندہ الیکشن میں حکومت بنا سکتی ہے، تحریک انصاف کا پاکستان کی سیاست میں بہت اہم رول ہے۔انہوں نے پاکستانی عوام کو جگایا ہے۔سابق صدر نے کہا کہ کراچی کے لوگ مجھے مہاجر ہونے کی وجہ سے اپنا سمجھتے ہیں مگر میں خود کو پاکستانی سمجھتا ہوں ، علاقائی تقسیم کو ختم کرنا چاہتا ہوں ، ایم کیو ایم کا نام ختم ہوجانا چاہیے اور مہاجر نام پر مزید سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فیض آباد میں دھرنا دینے والوں کے ساتھ بالکل صحیح معاہدہ ہوا ہے ، پاکستان میں لوکل اور بین الاقوامی سطح پر اصل دہشت گردی سنی مسلمان کر رہے ہیں ، القاعدہ ،لشکر جھنگوی اور ٹی ٹی پی والے سب سنی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اکبر بگٹی ، لال مسجد ، افتخار چوہدری کے معاملے پر کوئی ریگریٹ نہیں ہے ، این آر او پر ریگریٹ محسوس کرتا ہوں۔