اوورسیزپاکستانیوں کو ووٹ کا حق،ایساحکم نہیں دیناچاہتے جوالجھن پیداکرے

اسلام آباد:  سپریم کورٹ میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ایساحکم نہیں دینا چاہتے جو بہتری کی بجائے الجھن پیدا کرے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کی سہولت دینے سے متعلق کیس کی سماعت کی، سماعت کے دوران ڈائریکٹر جنرل ( ڈی جی ) پراجیکٹس نادرا، سیکریٹری الیکشن کمیشن پاکستان ( ای سی پی) بابر یعقوب فتح محمد اور پاکستان تحریک انصاف کے وکیل انور منصور پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران وکیل انور منصور نے کہا کہ سمندر پار پاکستانیوں کو موبائل اور کمپیوٹر کے ذریعے ووٹ کی سہولت دی جاسکتی ہے۔ جس پر سیکریٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کی سہولت دینا ہی ہمارے لیے خوشی کی بات ہے،دسمبر 2017 میں ہمارے پاس یہ تجاویز ائیں تھی، نادرا نے ان تجاویز پر عمل کے لیے 4 ماہ کا وقت مانگا تھا،۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ لودھراں کے ضمنی ا نتخابات آنے والے ہیں، ان انتخابات میں اس طریقہ کار کو کیوں نہیں اپناتے۔انہوں نے کہا کہ ضمنی الیکشن میں طریقہ کار کے استعمال کا مقصد نتائج کا جائزہ لینا ہے۔چیف جسٹس نے ڈی جی پراجیکٹس نادرا سے استفسار کیا کہ بتائیں گھر بیٹھ کر ووٹ دینا کس حد تک محفوظ ہوگا۔ جس پر ڈی جی پراجیکٹس نادر نے عدالت کو بتایا کہ اس کے لیے باقائدہ سسٹم بنانا ہوگا جبکہ الیکشن کمیشن سے اجازت کے بعد 4 ماہ کا وقت درکار ہوگا، فوری طور پر ضمنی انتخابات میں سسٹم کا استعمال ممکن نہیں ہے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہی تو ٹیسٹ ہے جہاں نادرا نے اپنی کارکردگی دکھانی ہے، اگر سافٹ ویئر بنانے میں 4 ماہ لگتے ہیں تو پھر میں نہ سمجھوں۔ جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ اوور سیز پاکستانیوں کے ووٹ کے حق پر کوئی شبہ نہیں، نادرا کو ڈیمو دینے کے بجائے سافٹ ویئر بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت میں بڑے بڑے لوگ بیٹھے ہیں، ان کے فرائض میں بھی یہ شامل تھا، میرے خیال میں اس پراجیکٹ کےلئے 100 کروڑ روپے کا خرچہ ہوگا۔ جس پر ڈی جی پراجیکٹس نادرا کا کہنا تھا کہ سافٹ ویئر تشکیل دینے پر 150 کروڑ روپے کا خرچہ ہوگا۔ بعد ازاں عدالت نے بدھ 24 جنوری کو نادرا کو پریزنٹیشن دینے کا حکم دیتے ہوئے پی ٹی آئی کی درخواست پر بھی فریقین کو نوٹس جاری کردئیے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.