بھارتی فوج کی دوسرے روزبھی سیالکوٹ میں ورکنگ باونڈری اورکنٹرول لائن پربلااشتعال فائرنگ،دوافراد شہید

سیالکوٹ،سرینگر: بھارتی فوج نے دوسرے روز بھی سیالکوٹ میں ورکنگ باو¿نڈری اور کنٹرول لائن پر پھر بلا اشتعال فائرنگ،دو افراد شہید، 10طالبات سمیت12زخمی ہوگئے جبکہ پاک فوج نے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا ہے جس کے نتیجے میں بی ایس ایف کے دو اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہو ئے ہیں ،پاکستان نے بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو ایک بار پھر دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاج کیا ہے ۔رپورٹس کے مطابق جمعہ کو بھارتی فوج نے ایک بار پھر سیالکوٹ ورکنگ باو¿نڈری پر بلا اشتعال فائرنگ کی او ر ہڑپال ،سجیت گڑھ اور چپراڑ سیکٹر کے متعدد دیہاتوں میں سول آبادی کو نشانہ بنایا،بھارتی فوج نے سماہنی سکیٹر میں فائرنگ کی ۔ بھارتی فوج کی فائرنگ اور گولہ باری سے ایک خاتون سمیت دو افراد کے جاں بحق اور دو کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں ۔بی ایس ایف کی جانب سے مارٹر گولے بھی فائر کئے گئے جس کے نتیجے میں متعدد گھروں اور گاو¿ خانوں کو نقصان پہنچا ہے ۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق بھارتی اشتعال انگیزی سے زخمی ہونے والے افراد کو سی ایم ایچ ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے ۔بھارتی فائرنگ سے 24گھنٹوں کے دوران شہید ہونے والے افراد کی تعداد 5ہو گئی ہے جبکہ 9افراد زخمی ہو ئے ہیں ۔آخری اطلاعات تک علاقے میں وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری تھا۔دوسری جانب پاک فوج نے بھارتی فائرنگ کا منہ توڑ جواب دیا ہے جس کے بعد دشمن کی گنیں خاموش ہو گئی ہیں ۔پاکستان رینجرز نے دشمن کی ان چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا جہاں سے پاکستانی آبادی پر فائرنگ ہو رہی تھی۔جوابی کارروائی میں بھارتی کے دو فوجی ہلاک اور چار زخمی ہو ئے ہیں تاہم بھارت نے فائرنگ میں پہل کرنے کا روایتی الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مارے جانے والے افراد عام شہری تھے۔ بھارتی کے دفاعی ترجمان کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے سامبا ضلع کے آر ایس پورہ سیکٹر،ارنیا اور رام گڑھ سیکٹر میں بھارتی سرحدی پوسٹوں کو نشانہ بنایا۔جس کے نتیجے میں دو عام شہری ہلاک اور چار زخمی ہوئے ہیں ۔زخمیوں کو فوجی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے ۔فائرنگ میں بھاری اسلحے کا استعمال کیا گیا ہے ۔ترجمان کے مطابق بھارت کی 40سرحدی پوسٹوں کو مارٹر گولوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ ادھر ورکنگ باو¿نڈری اور کنٹرول لائن پر حالات کو انتہائی کشیدہ قرار دیتے ہوئے بی ایس ایف کے ڈائریکٹر جنرل کے کے شرما نے کہا کہ کنٹرول لائن پر جنگ بندی معاہدہ کی مسلسل خلاف ورزی ہو رہی تھی اور اب یہ سلسلہ بین الاقوامی سرحد پر بھی شروع ہو گیا ہے ۔ بی ایس ایف ہیڈ کوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی ایس ایف کی جانب سے معاہدہ کی ہر خلاف ورزی کا بھر پور جواب دیا جا رہا ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان کی طرف سے بلا اشتعال کا سلسلہ جاری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہیڈ کانسٹبل اے سریش کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔ شرما نے اندیشہ ظاہر کیا کہ اس سیکٹر سے در اندازی کی کوشش ہو سکتی ہے لیکن محتاط جوانوں نے ممکنہ کوشش کو ناکام بنا دیا۔دریں اثناءبھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول کے چاہی سماہنی سیکٹر میں فائر بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔ جس کے نتیجے میں 10 طالبات زخمی ہوگئیں۔ بھارتی اشتعال انگیزی کا شکار بننے والی طالبات میں سے پانچویں جماعت کی ایک طالبہ چمن کی حالت زیادہ تشویشناک ہے اور اسے شدید زخمی حالت میں ڈی ایچ کیو اسپتال بھمبرمنتقل کیا گیا ہے۔یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ بھارتی فوج نے سکول کو نشانہ بنایا ہے یا طالبات چھٹی کے بعد گھروں کو جا رہی تھی تاہم زخمی ہونے والی طالبات کا تعلق پرائمری سکول سے تھا۔فائرنگ کے بعد شہریوں کی جانب سے بھارتی فورسز کے خلاف مظاہرے کیے گئے ہیں، ان کا مطالبہ ہے کہ عالمی برادری بھارت کو دہشت گرد ملک قراردے۔ادھر پاکستان نے بھارت کی بلا اشتعال فائرنگ پر شدید احتجاج کیا ہے ۔اسلام آباد میں بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو دوسرے روز بھی دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاجی مراسلہ تھمایا گیا ہے ۔دفتر خارجہ میں ڈائریکٹر جنرل ساو¿تھ ایشیا نے بھارت پر سیز فائر معاہدے کی پاسداری کرنے پر زور دیا اور واضح کیا ہے کہ خطے میں امن کی ہماری خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔اس طرح کے واقعات کسی کے مفاد میں نہیں ہیں ۔ایسی کارروائی خطے کے امن کے لئے ہماری کوششوں کے لئے نقصان دہ ہیں ۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی ڈپٹی ہائی کشمنر جے پی سنگھ کو گزشتہ روز بھی دفتر خارجہ طلب کیا گیا تھا اور تازہ واقعے پر پیشی کے بعد گزشتہ ایک ہفتے میں یہ بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کی تیسری طلبی ہے۔
بلا اشتعال فائرنگ


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.