Daily Taqat

اب آپ کوپارلیمنٹ یاد آرہی ہےجب چڑیاں چگ گئیں کھیت،اب پارلیمنٹ بےبس ہےاس کی خودمختاری ختم ہوچکی ہے، خورشیدشاہ

اسلام آباد:  قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب آپ کو پارلیمنٹ یاد آرہی ہے جب چڑیا ں چگ گئیں کھیت،اب پارلیمنٹ بے بس ہے اس کی خود مختاری ختم ہو چکی ہے ،سیاستدان غیر محفوظ ہو چکے ہیں وہ ایک ایک کر کے مارے جائیں گے اور کوئی رونے والا بھی نہیں ہے ۔جمعرات کوقائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج سارے سیاست دان غیر محفوظ ہو چکے ہیں،حکومت سے بار بار کہا کہ آئیں بیٹھیں،مسائل پر بات کریں لیکن حکومت نے پارلیمنٹ کو اہمیت نہیں دی۔انہوں نے کہا کہ حکمران اقتدار کے اندھے گھوڑے پر سوار تھے ،آخر اندھے گھوڑے نے حکمرانوں کو کھائی میں گرا دیا۔انھوں نے کہا کہ پارلیمنٹ بے بس ہے، خودمختاری ختم ہوگئی، وزیروں اور وزیراعظم نے اسے کوئی اہمیت نہیں دی، وزیر داخلہ پر حملے کی پارلیمنٹ میں مذمت ہونی چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ شہید بے نظیر بھٹو کی سیاست پیپلز پارٹی تک محدود تھی ،وہ کسی ایک جماعت کی نہیں، عوام کی لیڈر تھیں۔قائد حزب اختلاف نے کہا کہ بی بی کے قتل کے ملزمان کی رہائی پیغام ہے کہ عوامی لیڈروں کے قاتلوں کوچھوڑدیاجائیگا،مشرف حملہ کیس کے مجرموں کو سزائے موت بھی ہو گئی ،مشرف پرحملے کی جگہ سے چپ ملی جس سے دہشتگرد ٹریس ہوئے ۔خورشید شاہ نے کہا کہ یہ افسوس کا مقام ہے، ہم کہاں احتجاج کریں،سیاستدان ایک ایک کر کے مارے جائیں گے ، کوئی ہم پر رونے والا بھی نہیں ہو گا۔ہم اپنے اپنے ایجنڈوں میں پھنسے ہوئے ہیں،سیاسی نظام سیاسی جماعتوں پر مشتمل ہے،جب ملک میں سیاسی جماعتیں نہ ہوں تو آمریت ہوتی ہے،سیاسی رہنما ساری عمر جہدو جہد کرتے ہیں،قتل پرکوئی پوچھتا تک نہیں۔خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ بے نظیر بھٹو پاکستان کی ہی نہیں دنیا کی لیڈر تھیں، ان جیسی بڑی لیڈر کی جائے شہادت کو کیوں صاف کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف حملہ کے مقام کو چار دن بند رکھا گیا،بے نظیر بھٹو کو کہا گیا کہ واپس نہ جاو¿ شہید کر دی جائیں گی، بتایا جائے کہ بی بی شہید کے مجرموں کو کیوں چھوڑا گیا۔وزیر داخلہ پر حملے کی مذمت ہونی چاہیے ۔اس موقع پر پیپلز پارٹی کے ہی رہنما اعجاز جاکھرانی نے بھی اظہار خیال کیا اور کہا کہ موجودہ حکومت جمہوریت پر نہیں بادشاہت پر یقین رکھتی ہے، وزیراعظم کہہ رہے ہیں کہ نیب آرڈیننس ختم کریں، جب مشکل نے آگھیرا تو اب یاد آگیا کہ نیب ختم کرو۔اعجاز جاکھرانی کا کہنا تھا کہ ہم کہتے رہے کہ پارلیمنٹ کو مضبوط کریں ہماری بات کسی نے نہ سنی، پارلیمنٹ کو کمزور سے کمزور کیا جاتا رہا، جب ہم اپنے فیصلے خود نہیں کریں گے پھر ایسا ہی ہوگا جو ہو رہا ہے۔پیپلز پارٹی کے رہنما نے مزید کہا کہ آج نواز شریف بھی نیب آرڈیننس کے خلاف بات کر رہے ہیں۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »