شامی جنگ کوئی نہیں جیت سکے گا،بحران کا سیاسی حل ضروری ہے، اردن فرمانروا

ڈیووس: اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ الثانی نے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر قیادت خطے میں ایرانی مداخلت کو روکنے کیلئے موثر کردار ادا کر رہا ہے۔ڈیوس میں انٹرنیشنل اکنامک فورم میں شرکت کے موقع پرامریکی ٹی وی کو انٹرویودیتے ہوئے انہوں نے توجہ دلائی کہ سعودی عرب ایرانی مداخلت کے سامنے سرخ نشان لگائے ہوئے ہے۔ خلیج کے عرب ممالک کو خطرات پیدا کرنے والی تنظیموں کی سرگرمیاں روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پیشگی اور موثر اقدامات میں مصروف ہے۔ شاہ اردن نے خبردار کیا کہ ایران سیاسی اختلافات میں دینی امور کو گھسیٹنے اور مسلح ملیشیا تیار کرنے اور ان کے حوصلے بڑھانے کے سلسلے میں انتہائی خطرناک کردار ادا کر رہا ہے۔ شاہ اردن نے کہا کہ وہ ایرانی ہلال دیکھ رہے ہیں۔ اہل اردن دین کو سیاسی وسیلے کے طور پر استعمال کرنے کے خلاف ہیں۔ ایران کی خارجہ پالیسی خطے میں مداخلت کی ہے۔ تنازعات کو بڑھاوا دینے سے بہتر مکالمہ ہے۔ ایران لمبی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ شاہ اردن نے طبل جنگ بجانے کے سنگین نتائج سے خبردار کیا۔ انہوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور یورپی ممالک اس سلسلے میں ایران کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ شاہ عبداللہ الثانی نے کہا کہ القدس کی اہمیت مسلم ہے۔ یہ تمام مذاہب کے پیروکاروں کے یہاں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ ہمیں اس کے مستقبل کی بابت یہ غور کرنا ہے کہ آیا آنے والے ایام میں اس شہر کو لوگوں کو جمع کرنے یا جدا کرنے والا کردار ادا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی اور ان کے ساتھ پوری دنیا امن منصوبے کی منتظر ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امن عمل میں امریکہ کی شرکت ضروری ہے۔ شام سے متعلق شاہ اردن نے کہا کہ وہاں کوئی بھی فتح یاب نہیں ہوگا۔ خوںریز کشمکش کا سیاسی حل ضروری ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.