پناہ کے نئے یورپی قوانین جون میں تیار اورمتعارف کرانے کا اعلان

برسلز :  یورپی یونین رواں برس کے وسط تک یونین میں پناہ کے یکساں قوانین بنانے کی کوشش میں ہے۔ تاہم مشرقی اور مغربی یورپ کے ممالک کے مابین مہاجرین کی تقسیم سمیت کئی امور پر اختلافات برقرار ہیں، موجودہ ششماہی کیلئے یورپی یونین کی صدارت بلغاریہ کے پاس ہے جس کی مدت تیس جون کو ختم ہو جائے گی۔ یورپی یونین اسی ششماہی کے دوران یونین بھر میں سیاسی پناہ کے یکساں قوانین متعارف کرانا چاہتی ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق تاہم بلغاریہ کے دارالحکومت صوفیہ میں یونین کے وزرائے داخلہ کا اجلاس شروع ہوا تو خاص طور پر یونین میں مہاجرین کی تقسیم کے معاملے پر ارکان کے اختلافات نمایاں دکھائی دیے۔بلغاریہ کے وزیر داخلہ ویلنٹین راڈیف کا کہنا تھا کہ وہ بلغارین صدارت کے دوران رکن ممالک میں مہاجرین کی تقسیم کے معاملے پر پائے جانے والے اختلافات کے خاتمے کیلئے کوئی درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش میں ہیں۔ہنگری، پولینڈ، چیک جمہوریہ اور سلوواکیہ جیسے مشرقی یورپ کے ممالک یورپی کمیشن کے مہاجرین کی منصفانہ تقسیم کا منصوبہ قبول کرنے پر تیار نہیں ہیں۔

یورپ کا رخ کرنے والے تارکین وطن اور مہاجرین کی اکثریت اٹلی اور یونان پہنچتی ہے۔ لازمی کوٹے کے تحت ان تارکین وطن کی دیگر یورپی ممالک منتقلی کے منصوبے کا مقصد ان دونوں ممالک پر دباو¿ کم کرنا ہے۔یورپی کمیشن نے لازمی تقسیم کا منصوبہ سن 2015 میں شروع کیا تھا تاہم مشرقی یورپ کے کئی ممالک اپنے ہاں زیادہ تر مشرق وسطیٰ کے مسلم اکثریتی ممالک سے آنے والے مہاجرین کو پناہ دینے کے لیے رضا مند نہیں ہیں۔ انہی اختلافات کے باعث گزشتہ تین برسوں سے یورپی یونین کی سطح پر پناہ کے یکساں قوانین لاگو کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔گزشتہ ماہ برسلز میں یونین کے سربراہان کے ایک اجلاس میں یہ طے کیا گیا تھا کہ نئے یورپی قوانین رواں سہ ماہی کے دوران تیار کیے جائیں گے۔ اس نئی ڈیڈ لائن کے تناظر میں یونین کے ارکان باہمی اختلافات جلد از جلد ختم کرنے کی کوششوں میں ہیں۔یورپی یونین کے مہاجرت کے امور سے متعلق کمشنر دیمیتریس افراموپولوس نے یونین کے وزرائے داخلہ کے اجلاس سے قبل خبردار کیا کہ یونین کے ترکی اور لیبیا کے ساتھ طے شدہ معاہدوں کے باعث فی الوقت یورپ کا رخ کرنے والے مہاجرین کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے لیکن مشرق وسطیٰ اور افریقی ممالک سے مزید تارکین وطن بڑی تعداد میں یورپ کا رخ کر سکتے ہیں۔ افراموپولوس کا کہنا تھا کہ ایسی صورت حال میں یونین کی بیرونی سرحدوں پر واقع رکن ممالک کو ایک مرتبہ پھر شدید دباو¿ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.