نقیب محسود قتل معاملہ؛ ایس ایس پی را انوارانکوائری کمیٹی کے سامنے پیش

کراچی: ایس ایس پی ملیر راﺅ انوار مبینہ پولیس مقابلے میں مارے گئے نوجوان نقیب اللہ محسود سے متعلق تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے جمعہ کوپیش ہوئے ۔تفصیلات کے مطابق آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے نقیب محسود کی گھر سے حراست اور پولیس مقابلے میں ہلاکت کے معاملے پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور صوبائی وزیر داخلہ سہیل انور سیال کے نوٹس کے بعد ایڈیشنل آئی جی ثناءاللہ عباسی، ڈی آئی جی شرقی سلطان خواجہ اور ڈی آئی جی جنوبی آزاد خان پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی تھی، جس نے کام شروع کردیا ہے۔ ایس ایس پی ملیر راﺅ انوار کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے۔ڈی آئی جی کراچی شرقی سلطان خواجہ نے بتایا کہ نقیب محسود کے حوالے سے مکمل تفتیش کی جائے گی، ایس ایس پی راﺅ انوار کو انکوائری کے لیے طلب کیا گیا تھا، نقیب کے اہل خانہ کو بھی بیان ریکارڈ کرانے کے لیے پیغام دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کھلی تحقیقات ہے، اس لئے کوئی بھی بیان ریکارڈ کراسکتا ہے۔واضح رہے کہ ایس ایس پی ملیر نے گزشتہ ہفتے ایک مبینہ مقابلے میں چند دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا تھا، جس میں سے ایک کی شناخت نسیم اللہ عرف نقیب اللہ محسود کے نام سے کی گئی تھی، نقیب کے اہل خانہ نے کہاکہ اسے گھر سے حراست میں لینے کے بعد ماورائے عدالت قتل کیا گیا۔دوسری جانب ایس ایس پی ملیر راﺅ انوار نے دعوی کیاکہ نسیم اللہ عرف نقیب اللہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا کارندہ تھااور کئی جرائم میں ملوث تھا، ہمارے پاس اس کے خلاف ثبوت موجود تھے اور اگر وہ بے گناہ تھا تو اس کے گھر والوں نے متعلقہ تھانے میں گمشدگی کی اطلاع کیوں نہیں دی، وہ وزیرستان کا رہائشی اور کراچی سہراب گوٹھ کے قریب اپنا نام بدل کر رہ رہا تھا، اس کے خلاف 2014 میں سچل تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ درحقیقت پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ کے خلاف دو مقدمات درج کیے گئے تھے، جس کے بعد تحریک انصاف کی جانب سے ان کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی گئی۔ سوشل میڈیا پر ٹرینڈ چلنے کے بعد تحریک انصاف نے سندھ اسمبلی میں اس حوالے سے قرارداد بھی جمع کرائی ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.