شاہ لطیف ٹاون میں مبینہ مقابلے کےدوران نقیب اللہ محسودکی ہلاکت پربلاول بھٹونےتحقیقات کاحکم دیدیا

کراچی:  شاہ لطیف ٹاون میں مبینہ مقابلے کے دوران نقیب اللہ محسودکی ہلاکت پر بلاول بھٹونےتحقیقات کاحکم دیدیا، ڈی آئی جی ساوتھ تحقیقات کریں گے۔تفصیلات کے مطابق ایس ایس پی ملیرراو¿انوار سے مبینہ مقابلے میں نوجوان نقیب اللہ محسود کی ہلاکت سوشل میڈیا پر شورمچ گیا ، بلاول بھٹو نے نقیب اللہ محسود کی ہلاکت کا نوٹس لیتے ہوئے وزیرداخلہ سندھ کو تحقیقات کا حکم دیدیا ہے۔سہیل انورسیال نے ڈی آئی جی ساو¿تھ کو انکوائری افسرمقررکردیا ہے۔نقیب اللہ کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ مقتول کی الاآصف اسکوائر پر کپڑے کی دکان تھی، تین جنوری کو سادہ لباس کے اہلکار اسے ساتھ لے کر گئے اور 13 جنوری کو ایدھی سینٹرسے لاش ملی۔ان کاو¿نٹراسپیشلسٹ راو¿انوار نے تیرہ جنوری کو شاہ لطیف ٹاو¿ن میں چار دہشتگردوں کو مقابلے میں مارنے کا دعویٰ کیا تھا۔راو¿ انور کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کی درجنوں وارداتوں میں ملوث نقیب پانچ سال تک بیت اللہ محسود کا گن مین رہا، ملزم دہشتگری کی کئی واردتوں سمیت ڈیرہ اسماعیل خان کی جیل توڑنے میں بھی ملوث تھا۔راو¿ انوارکادعوی ہے نقیب اللہ محسود کراچی میں ٹی ٹی پی نیٹ ورک چلا رہا تھا اور نسیم اللہ کے نام سے جعلی شناختی کارڈ بھی بنا رکھا تھا۔

 


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.