نیب نے شہبازشریف کوآشیانہ ہاوسنگ سکیم کیس میں 22جنوری کوطلب کرلیا

لاہور:  قومی احتساب بیورو (نیب) نے وزیراعلی پنجاب محمد شہبازشریف کو آشیانہ ہاﺅسنگ اسکیم کیس میں 22 جنوری کو لاہور دفتر میں طلب کرلیا۔ڈائریکٹر جنرل نیب لاہور کے ایڈیشنل ڈائریکٹر اسٹاف خاور الیاس کی جانب سے جاری خط میں شہباز شریف کو 22جنوری کو صبح
ساڑھے دس بجے مکمل ریکارڈ کے ساتھ لاہور کے ٹھوکر نیاز بیگ میں واقع نیب کمپلیکس میں کمبائنڈ انوسٹی گیشن ٹیم (سی آئی ٹی)کے سامنے پیش ہو کراپنا بیان ریکارڈ کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔نیب لاہور کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ آشیانہ ہایوسنگ اسکیم کے حوالے سے جاری کیس میں پنجاب لینڈ ڈیولپمنٹ کمپنی (پی ایل ڈی سی)کی انتظامیہ، افسران اور عہدیداروں اور لاہور کاسا ڈیولپرز کے مالکان، انتظامیہ اور دیگر نے دوران تفتیش یہ انکشاف کیا ہے کہ شہباز شریف نے بطور وزیراعلی غیرقانونی احکامات جاری کیے۔شہباز شریف کو جاری کیے گئے خط میں کہا گیا کہ پی ایل ڈی سی بورڈ کے غیرقانونی اقدامات کے باعث قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔وزیراعلی پنجاب کو کہا گیا ہے کہ آپ نے آشیانہ اقبال اسکیم کے ٹھیکے کے لیے کامیاب بولی حاصل کرنے والی کمپنی کے بجائے دوسری کمپنی کو ٹھیکا دینے کے احکامات جاری کیے جس کے باعث ایک لاکھ 93 ہزار ملین روپے کے قریب نقصان ہوا۔نیب نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے پی ایل ڈی سی کو آشیانہ اقبال منصوبے کا ٹھیکا لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو دینے کے احکامات جاری کیے جس کے باعث لاہور کاسا ڈیولپرز(جے وی)کو تقریبا 71ہزار 500ملین روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا اور منصوبہ ناکام ہوا۔نیب نے تفتیش سے حاصل ہونے والی معلومات کے تحت کہا ہے کہ آپ نے پی ایل ڈی سی کو ہدایات جاری کیں کہ ایک انجینئرنگ کمپنی کو تقریبا ایک لاکھ 92ہزار ملین روپے کے عوض کنسلٹنسی کی ذمہ داری دینے کی ہدایات جاری کیں جبکہ نیسپاک کے مطابق اس کی اصل لاگت 35ہزار ملین تھی۔ذرائع کے مطابق نیب نے د و ماہ قبل آشیانہ ہاﺅسنگ سکیم میں مبینہ کرپشن کی تحقیقات کا آغازکیا تھا اور اس سے قبل سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد خان چیمہ کو بھی طلب کیا گیا تھا جنہوں نے تفتیش ٹیم کے سامنے بیان قلم بند کروایا تھا ۔دوسری جانب ترجمان پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ وزیر اعلی پنجاب کو اب تک نیب کی جانب سے ایسا کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.