ممبئی حملہ بھارت، اسرائیل اورامریکا کا گٹھ جوڑتھا، جرمن صحافی کا انکشاف

برلن:  امریکا اوربھارت کی جانب سے ممبئی حملوں کو لے کر پاکستان کو دباو میں لانے کے پرانے حربے کو پھر سے استعمال کرنے کے غبارے سے ہوا خود بھارت میں شائع ہونے والی تحقیقاتی کتاب نے ہی نکال دی ۔بھارتی ذرائع کے مطابق ممبئی حملوں سے متعلق ہوش ربا انکشافات اور حقائق پر مبنی تجزیے پر مشتمل یہ کتاب بھارتی پبلشر فروز میڈیا، نیو دہلی کی شائع کردہ ہے۔ مصنف معروف تحقیقاتی صحافی ایلیس ڈیوڈسن کی، جن کا تعلق یہودی مذہب اور جرمنی سے ہے، غیرجانبداری نے سامنے لائے گئے حقائق کو مصدقہ اور قابل بھروسہ بنا دیا ہے۔ اس کتاب میں یہ ثابت کیا گیا کہ دہلی سرکار اور بھارت کے بڑے اداروں نے حقائق مسخ کیے، بھارتی عدلیہ انصاف کی فراہمی اور سچائی سامنے لانے کی اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہی۔ ممبئی حملوں کے مرکزی فائدہ کار ہندو انتہا پسندو قوم پرست رہے کیوں کہ ان حملوں کے نتیجے میں ہیمنت کرکرے اور دوسرے پولیس افسران کو راستے سے ہٹایا گیا۔

انتہا پسند تنظیموں کے ساتھ ساتھ نہ صرف بھارت بلکہ امریکا اور اسرائیل کے کاروباری، سیاسی اور فوجی عناصرکو بھی اپنے مقاصد پورے کرنے کےلیے ان حملوں کا فائدہ پہنچا جب کہ صحافی ایلیس ڈیوڈسن اپنی تحقیقات میں اس نتیجے پر بھی پہنچا کہ ممبئی حملوں کا پاکستانی حکومت اور فوج کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔مصنف ایلیس ڈیوڈسن کی تحقیقات کے مطابق ممبئی دہشت گرد حملوں کے حقائق چھپانا بھارتی سیکیورٹی و انٹیلی جنس اداروں کی نااہلی نہیں بلکہ منصوبہ بندی کے تحت حقائق میں جان بوجھ کر کی گئی ہیرا پھیری تھی۔ اس کیس کی عدالتی کارروائی بھی غیرجانبدار نہیں تھی بلکہ اہم ثبوت اور گواہوں کو نظرانداز کیا گیا۔تحقیقاتی صحافی کے نزدیک ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی و عمل درآمد کی سازش میں بھارت کے ساتھ ساتھ امریکا اور اسرائیلی کردار بھی پنہاں ہے۔ مصنف نے ممبئی حملوں کو خفیہ ?پریشنز طرز کے حملے قرار دیا جس سے یہ تاثر قائم کیا گیا کہ بھارت کو دہشت گردی سے مستقل خطرہ ہے۔ اس سے بھارت کو دہشت گردی کی عالمی جنگ کے لیڈنگ ممالک کے ساتھ کھڑا ہونے میں مدد ملی۔ ممبئی حملوں میں ہیمنت کرکرے اور دوسرے پولیس افسروں کے قتل کے حوالے سے اہم معلومات کو چھپایاگیا


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.