Daily Taqat

مفتی کی اے پی سی دھوکے کے سوا کچھ نہیں ،میر واعظ عمر فاروق

سرینگر:  مقبوضة کشمیر کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے مین سٹریم سیاست دانوں کی کل جماعتی میٹنگ طلب کرنے کو صرف ایک دھوکہ اور لاحاصل مشق قرار دیتے ہویئے حریت(ع) چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے کہاہے کہ کشمیریوں کی نسلی صفائی کے ذمہ دار ہند نواز سیاست دان اب اپنے کئے پر پردہ ڈالنے اور حالات  سے توجہ ہٹانے کیلئے ناکام کوششیں کررہے ہیں۔میرواعظ عمر فاروق ،جو کئی روز سے خانہ نظر بند ہیں ،نے آل پارٹی میٹنگ طلب کئے جانے پر سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ کشمیر کی موجودہ سنگین صورتحال ان ہی ہند نوازتنظیموں کی دین ہے کیونکہ کشمیر میں کالے قوانین کا نفاذ ، فورسز کو بے پناہ اختیارات دینے اور پورے کشمیر کو ایکPolice state میں تبدیل کرنے اورنہتے شہریوں کے قتل و غارت گری میں یہی تنظیمیں ذمہ دار ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جب سے کشمیرمیں پی ڈپی ، بی جے پی اتحاد برسر اقتدار آیا ہے تب سے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ یہ اتحاد صرف کشمیریوں کو قتل کرنے کیلئے وجود میں لایا گیا ہے ۔ ابھی گزشتہ دنوں شوپیاں میں 7 نہتے افراد کوجان بحق کیا گیا اور ریاستی پولیس سربراہ نے 5 لڑکوں کو قتل کرنے کی پاداش میں اپنی فورسزکو شاباشی دی لیکن ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ جو یہ نہتے لوگ مارے گئے اس ضمن میں نہ تو کہیں کوئیFIR درج ہوا ہے اور نہ اس قتل ناحق میں ملوث قاتلوں کی گرفتاری کے سلسلے میں کوئی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔ میرواعظ نے کہا کہ کشمیری عوام کا یہ دیرینہ مطالبہ رہاہے کہ کشمیر سے کالے قوانین(AFSPA) وغیرہ کا خاتمہ ہونا چاہئے اور نہتے افراد کے قتل میں ملوث قاتلوں کو گرفتار کرکے متاثرہ خاندانوں کو انصاف ملنا چاہئے۔ میرواعظ نے کہا کہ آج تک کسی بھی حکومت نے کشمیریوں کے قتل عام میں ملوث مجرمین کو نہ تو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا اور نہ ان تحقیقاتی کمیشنوں کی کوئی رپورٹ منظر عام پر آئی جن کمیشنوں کو یہاں کئے گئے خونین سانحات کی تحقیقات کیلئے وجود میں لایا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ یہاں روز نہتے افراد کا قتل ہو رہا ہے ، ہر روز کسی نہ کسی کا جنازہ یہاں کے عوام اٹھا رہے ہیں ، صرف گزشتہ چند مہینوں کے دوران 32 کے قریب نہتے کشمیریوں کوجان بحق کیا گیا اور زخمیوں کی تعداد سینکڑوں سے متجاوزہے۔ کشمیری عوام خصوصا نوجوانوںکو پشت بہ دیوار کرکے انہیں قید خانوں اور عقوبت خانوںمیں مقید کرکے ان پر تشدد ڈھایا جارہا ہے اور ان نوجوانوںکو طاقت کے بل پر پشت بہ دیوار کرکے عسکریت کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے ۔ مزاحمتی قیادت کو آئے روز خانہ وتھانہ نظر بند کرکے ان کیPolitical space کو مسدود کیا جارہا ہے۔ میرواعظ نے کہا کہ کشمیر ایک انسانی اور سیاسی مسئلہ ہے اور اس کو Military Might کے ذریعے حل کرنے کی کوشش صرف تشدد اور غیر یقینیت کی فضا کو جنم دیگی۔ یہ کوئی مراعات یا مفادات کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہاں کے عوام جذبات اور احساسات کا مسئلہ ہے لہذا اس کو سیاسی بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کی جانی چاہئے۔محضAll Partiesاجلاس بلانے ، فورسز کو شہر و گام میں تعینات کرنے ، لوگوں کو بزور طاقت دبانے، مزاحمتی قیادت کو پابند سلاسل کرنے اور جارحانہ حربوں سے کشمیری عوام کے جذبہ آزادی کو ختم نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس طرح کی کوششوں سے یہ جذبہ اور شدت کے ساتھ ابھر کر سامنے آئیگا۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »