سانحہ ماڈل ٹاﺅن استغاثہ کیس ،مزید سماعت 22 مارچ تک ملتوی

اسلام آبا: انسداد دہشتگردی عدالت کے جج نے سانحہ ماڈل ٹاﺅن استغاثہ کیس میں پی ایس ایل کرکٹ مقابلوں کے باعث ملزمان کے وکلاءکی طرف سے لمبی تاریخ دینے کی استدعا مسترد کر دی، اے ٹی سی جج نے کہا کہ انصاف کے عمل کا پی ایس ایل سے کیا تعلق؟ پہلے ہی بہت تاخیر ہو چکی ، کیس کو قانونی پراسیس کے مطابق آگے بڑھانے کیلئے عدالت سے تعاون کیا جائے۔ایک ڈیوٹی اگر وکلاءکی ہے تو ایک ڈیوٹی جج کی بھی ہے، ہمیں درخواستیں وصول نہیں کرنی ان پر فیصلے بھی سنانے ہیں۔ کیس کی مزید سماعت 22 مارچ کو ہو گی، گزشتہ روزعوامی تحریک کے وکلاءرائے بشیر احمدایڈووکیٹ، مستغیث جواد حامد، نعیم الدین چودھری ایڈووکیٹ، شکیل ممکا ایڈووکیٹ اور عوامی تحریک کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات نوراللہ صدیقی نے کیس کی سماعت کے بعد ذرائع سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کے وکلاءکی طرف سے ایک سال سے تاخیری ہتھکنڈے اختیار کیے جارہے ہیں، استغاثہ کو منظور ہوئے ایک سال سے زائد عرصہ گزر گیا اب تک فرد جرم عائد ہو جانی چاہیے تھی جو ملزمان کے وکلاءکی طرف سے پے در پے درخواستیں دائر کرنے اور تاخیری ہتھکنڈے اختیار کرنے کے باعث نہیں ہو سکی، رائے بشیر احمد ایڈووکیٹ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج ملزمان کے وکلاءکی طرف سے ایک زخمی ڈی ایس پی کا میڈیکل سرٹیفکیٹ پیش کیا گیا جس پر یہ اندراج نہیں تھا کہ ڈی ایس پی کس وقوعہ میں زخمی ہوا اور علاج کے بعد کب ڈسچارج ہوا؟ اے ٹی سی جج نے بھی استفسار کیا ڈی ایس پی کس جگہ زخمی ہوا اس کا اندراج نہیں؟ جبکہ ملزمان کے وکلاءبضد تھے کہ یہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے دوران زخمی ہوا، اے ٹی سی جج نے سوال کیا کہ سرٹیفکیٹ پر جائے وقوعہ کیوں درج نہیں؟ جس کا ملزمان کے وکلاءکے پاس کوئی جواب نہیں تھا، رائے بشیر احمد ایڈووکیٹ نے کہا کہ پولیس کا ماڈل ٹاﺅن میں بیریئر ہٹانے کا آپریشن غیر قانونی تھا کیونکہ یہ بیریئر لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر لگے تھے اور منہاج القرآن ایڈمنسٹریشن کی طرف سے رات 12 بجے آنے والے پولیس افسران سے بار ہا بازپرس کی گئی کہ اگر ان کے پاس بیریئر ہٹانے کے حوالے سے کسی مجاز اتھارٹی کا کوئی حکم نامہ ہے تو دکھا کر اپنا کام کر لیں مگر ماڈل ٹاﺅن میں آنے والی پولیس اور ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کے اہلکار ایسا حکم نامہ دکھانے میں ناکام رہے اور قتل عام شروع کر دیا۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.