منیراحمد قریشی المعروف منوبھائی طویل علالت کے بعد 84 برس کی عمرمیں انتقال کرگئے۔

لاہور :  ملک کے معروف کالم نویس، مصنف اور ڈرامہ نگار منیر احمد قریشی المعروف منو بھائی طویل علالت کے بعد 84 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ خاندانی ذرائع کے مطابق منو بھائی گزشتہ کچھ عرصے سے گردوں اور دل کے عارضے میں مبتلا ہونے کے باعث لاہور کے ایک مقامی ہسپتال میں زیر علاج تھے جہاں وہ جمعہ کی صبح طبیعت زیادہ بگڑنے پر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ۔منو بھائی نے 6فروری 1933ءکو وزیر آباد میں آنکھ کھولی۔ ان کے دادا میاں غلام حیدر قریشی امام مسجد تھے، کتابوں کی جلد سازی اور کتابت ان کا ذریعہ معاش تھا۔ وہ شاعری بھی کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے دادا سے ہی ہیر رانجھا، سسی پنوں، سوہنی مہینوال، مرزا صاحباں، یوسف زلیخا کے قصے اور الف لیلی کی کہانیاں سنیں، جس نے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشی۔وزیرآباد سے 1947ءمیں میٹرک کرنے کے بعد وہ گورنمنٹ کالج کیمبل پور (اٹک)آ گئے جہاں شفقت تنویر مرزا، منظور عارف اور عنایت الہی سے ان کی دوستی ہوئی۔ منیر احمد قریشی کو منو بھائی کا نام بھی احمد ندیم قاسمی نے دیا۔7جولائی 1970ءکو اردو اخبار میں ان کا پہلا کالم شائع ہوا ۔ جس کے بعد انہوں نے مختلف اخبارات میں ہزاروں کالم لکھے۔ غربت، عدم مساوات، سرمایہ دارانہ نظام، خواتین کا استحصال اور عام آدمی کے مسائل منو بھائی کے کالموں کے موضوعات تھے۔ڈرامہ نگاری بھی منو بھائی کی شخصیت کا ایک معتبر حوالہ ہے۔ انہوں نے پی ٹی وی کے لیے سونا چاندی، جھوک سیال، دشت اور عجائب گھر جیسے لازوال ڈرامے تحریر کیے۔پاکستان کے لیے بے پناہ خدمات پر 2007ے میں انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔منو بھائی کے انتقال پرآرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ، صدر مملک ممنون حسین، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق ، وزیراعلی پنجاب شہباز شریف، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ،چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو اور شریک چیئرمین آصف زرداری ، مسلم لیگ (ق) کے قائدین چوہدری شجاعت حسین اور پرویز الٰہی سمیت کئی اہم رہنماﺅں نے افسوس اور دکھ کا اظہار کیا ہے۔صدرممنون حسین نے اپنے تعزیتی بیان میں مرحوم کی مغفرت کیلئے دعا کی اور سوگوار خاندان سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ ادب اورصحافت کے شعبے میں ا ن کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھاجائیگا۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی منو بھائی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے، اپنے تعزیتی بیان میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ منو بھائی علم و ادب کا ایسا درخشندہ ستارہ تھے، جن کی روشنی صدیوں تک ہمیں منور رکھے گی۔قومی اسمبلی کے اسپیکراور ڈپٹی سپیکر نے بھی منوبھائی کے انتقال پرگہرے دکھ اورافسوس کااظہارکیا ہے۔معروف ادیب اور کالم نگار منو بھائی کے انتقال پر سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف اور وزیراعلی پنجاب محمد شہبازشریف نے کہا کہ منو بھائی اردو ادب کا روشن ستارہ تھے۔ منو بھائی کی ادبی و صحافتی خدمات لائق ناقابل فراموش ہیں۔ منو بھائی نے اردو کالم نویسی کو اختراعی جہت عطا کی۔ انہوں نے کہا کہ منو بھائی مرحوم کی ادب اور صحافت کے لئے خدمات کو تادیر یاد رکھا جائے گا۔سابق صدر آصف علی زرداری نے بھی سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ صحافت اور ادب کے لئے منو بھائی کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔اللہ پاک مرحوم منو بھائی کو جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے ۔چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے بھی سینئرصحافی منو بھائی کے انتقال پراظہارافسوس کیاہے، اپنے ٹوئٹر پیغام پر بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان آج قومی یکجہتی اور اعتدال کی پراثر آواز سے محروم ہوگیا۔ پاکستان پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر قمرزمان کائرہ نے منو بھائی کے انتقال پر تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ منو بھائی بہادر، بے باک ،ترقی پسند صحافی تھے ،ان کی وفات سے صحافت کے ایک درخشاں دور کا اختتام ہو گیا،منو بھائی کی وفات سے جو خلا پیدا ہوا ہے وہ کبھی پر نہیں ہو سکے گا۔منو بھائی نے ہمیشہ بے سہارالوگون کیلئے آواز اتھائی،وہ آمرانہ حکومتوں کے خلاف طاقتور آواز تھے۔وزیر مملکت اطلاعات ونشریات کی وزیر مملکت مریم اورنگزیب نے منو بھائی کے انتقال پر گہرے رنج وغم کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ منوبھائی کی وفات ہر درددل رکھنے والے حساس انسان کے لئے بہت بڑا صدمہ اور بہت بڑا سماجی اور قومی نقصان ہے۔وزیرآباد سے منیر احمد قریشی کے نام سے جس بچے نے اس دنیا میں آنکھ کھولی تھی، عوامی خدمت کی تڑپ، انسانوں سے محبت، ان کے مسائل کو حل کرنے کے جذبے نے اسے منو بھائی بنادیا۔ انہوں نے علم وادب کے تمام شعبہ جات میں نام کمایا اور نوجوان نسل کو امید اور جستجو کا پیغام دے کر ان کی راہنمائی کے لئے بھی کوشاں رہے۔ خون کے عارضہ کا شکار بچوں کے لئے ان کی تڑپ سندس فاونڈیشن کی صورت میں صدقہ جاریہ ہے۔ مریم اورنگزیب نے مرحوم کی بلندی درجات اورپسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعا کی۔ادھر قومی تاریخ اورادبی ورثے کے باررے میں وزیراعظم کے مشیرعرفان صدیقی نے بھی سوگوارخاندان سے دلی تعزیت کی۔انہوں نے ادب اورصحافت کیلئے منو بھائی کی خدمات کو سراہا۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.