قصورواقعہ انتہائی دردناک ہے ¾ واقعہ کوسیاست کی نظرنہ کیاجائے، اراکین قومی اسمبلی

اسلام آباد: اراکین قومی اسمبلی نے کہا ہے کہ قصور واقعہ انتہائی دردناک ہے ¾ واقعہ کو سیاست کی نظر نہ کیا جائے ۔حکومت پر تنقید کی بجائے ہمیں مل بیٹھ کر کوئی حل ڈھونڈنا ہوگا ¾ کے پی کے میں ہونے والے واقعہ کا بھی سخت نوٹس لیا جائے ¾قانون سازی کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے ¾ ہمیں سیاست اور صوبائیت سے بالاتر ہو کر بات کرنا ہوگی ¾ ایسے کیسز کو دیکھنے کےلئے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے ۔بدھ کو قومی اسمبلی میں قصور سانحہ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے شائستہ
پرویز ملک نے کہا کہ زینب کا سانحہ انتہائی افسوسناک ہے مگر گزشتہ روز مردان میں بھی ایسا ایک واقعہ پیش آیا ہے ¾ہمیں ان مسائل کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے ¾ صوبائی حکومت پر تنقید کی بجائے ہمیں مل بیٹھ کر کوئی حل ڈھونڈنا ہوگا۔ زینب کے قاتلوں کو پولیس تلاش کرنے کی پوری کوشش کر رہی ہے۔ سندھ اور کے پی کے میں واقعات پر وہاں کے وزراءاعلیٰ سے کسی نے استعفے نہیں مانگے ¾ یہ تمام بچے ہمارے ہیں۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں 8 بچے آکسیجن نہ ملنے کی وجہ سے وفات پاگئے ہیں۔ یہ ملک ہمارا ہے ہم کب سوچیں گے کہ یہ بچے ہمارے ہیں ¾برداشت کی حد ہوگئی ہے ¾لوگوں کے ہاتھ ہمارے گریبانوں تک پہنچ رہے ہیں اور ادھر ہم ایک دوسرے پر الزام لگاتے رہیں گے۔ ڈی آئی خان میں ایک 16 سالہ لڑکی کے ساتھ جو ظلم کیا ہے میں سمجھتی ہوں کہ یہ ظلم میرے ساتھ ہوا ہے۔ پارٹی مخالفت میں سب انسانیت بھی بھول گئے ہیں۔ جماعت اسلامی کے رکن صاحبزادہ محمد یعقوب نے کہا کہ بچی کے ساتھ زیادتی کے بعد ہر طرف مایوسی اور عدم تحفظ کی صورتحال ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کے پی کے میں ہونے والے واقعہ کا بھی سخت نوٹس لیا جائے۔ اعجاز جاکھرانی نے کہا کہ 8 روز گزرنے کے باوجود مجرموں کو گرفتار نہیں کیا جاسکا۔ پنجاب پولیس کے بڑے بڑے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔ کے پی کے میں بھی بچی کو زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا۔ عالمی سطح پر ہم بدنام ہو رہے ہیں۔ اس حوالے سے قانون سازی کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ لال چند نے کہا کہ پورا ملک زینب کے بہیمانہ قتل پر غمگین ہے۔ ضلع تھرپارکر کے شہر مٹھی میں دو سگے غیر مسلم بھائیوں کو قتل کردیا گیا یہ ضلع پرامن ضلع تھا۔ اگر تھر کے لوگوں کو سی پیک اور دیگر ترقیاتی کاموں کا فائدہ نہیں ہوگا تویہ لوگ کہاں جائیں گے۔ دونوں قتل گہری سازش لگتی ہے اس کا مقصد وہاں کے امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنا ہے۔ حکومت ٹھوس اقدامات اٹھا کر لوگوں میں عدم تحفظ کو ختم کرے۔ شاہدہ اختر علی نے کہا کہ زینب جیسے واقعات جس صوبے میں بھی ہوں یہ لرزہ خیز واقعات ہیں۔ ایسے واقعات پر ہماری ذمہ داری ہے کہ جماعتی وابستگی سے بالاتر ہو کر متفقہ قانون بنائیں۔ ہم سب کو یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ تیزی سے انصاف ہر ایک کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ معاشرے کا کوئی فرد اس سے بری الذمہ نہیں ہے۔ ڈاکٹر فوزیہ حمید نے کہا کہ ہمیں سیاست اور صوبائیت سے بالاتر ہو کر بات کرنا ہوگی۔ ہمیں یہاں قانون سازی کرنا ہوگی ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنا درست نہیں ہے۔ ہمیں اپنے نصاب کو دیکھنا ہوگا۔ مناسب قانون سازی کی ضرورت ہے۔ ایسے کیسز کو دیکھنے کے لئے خصوصی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے۔ زیادتی کے کیسز خصوصی عدالتوں میں چلائے جائیں تاکہ متاثرین کو جلد انصاف مل سکے۔ پارلیمانی سیکرٹری ڈاکٹر محمد افضل ڈھانڈلہ نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ زینب کا واقعہ پاکستان کے ہر صوبے‘ گاﺅں کا واقعہ ہے‘ صرف پنجاب کا نہیں ¾زینب پاکستان میں بسنے والے ہر باپ کی بیٹی ہے۔ اس واقعہ پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے۔ اس واقعہ سے ہر انسان کا سر شرم سے جھک جاتا ہے‘ اس پر سیاست نہیں چمکانی چاہیے۔ پنجاب حکومت مستعد ہے لیکن بدقسمتی سے اس واقعہ کی گتھی سلجھ نہیں رہی۔ جتنی کوشش ہو رہی ہے کامیابی نہیں ہو رہی۔ جس طرح اس واقعہ کو اجاگر کیا گیا اگر پہلے والے واقعات میں ایسا ہوتا تو یہ نوبت نہ آتی۔یہ المیہ ہے کہ سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج کے باوجود وہ گرفتار نہیں ہو رہا۔ ایسے واقعات کو ٹریس کرنے کی قابلیت کے لئے پورے پاکستان کی پولیس کو تربیت دینا ہوگی۔ اللہ کرے جلد مجرم پکڑا جائے اور پاکستان ایسے واقعات سے محروم رہے۔ عامرہ خان نے کہا کہ قصور واقعہ پر ارکان نے بات کی‘ مذمت کا لفظ بہت چھوٹا ہے‘ بچوں سے متعلق جتنے کیسز ہیں ان کے متعلق قوانین موجود ہیں لیکن ان پر عملدرآمد اچھے طریقے سے نہیں ہو رہا اس کے حوالے سے اقدامات ضروری ہیں ۔ قانون پر موثر طریقے سے عملدرآمد کرنا چاہیے اور حکمت عملی میں تبدیلی لانی چاہیے۔اس طرح کے کیسز کا جلد فیصلہ ضروری ہے۔ ان کیسز کو کریمنل یا انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں جانے کے حوالے سے اقدامات کرنے چاہئیں۔ احتجاج فطری امر ہے لیکن یہ اس کا حل نہیں ہے۔ بچوں کے حقوق کے لئے کمیشن کے قیام کا کام تیز کیا جائے تاکہ اس طرح کیسز کو نمٹانے میں آسانی ہو۔ اس میں وفاق صوبوں کو ہدایات جاری کرے اور صوبائی بیوروز قائم ہونے چاہئیں۔ اس سلسلے میں میڈیا کا کردار بھی اہم ہے۔ میڈیا چیزوں کو اس طرح پیش نہ کرے اس سے بچوں کے ذہن پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ وفاقی حکومت اور اسلام آباد انتظامیہ میں اس طرح کے واقعات سے متاثر بچوں اور والدین پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ چوہدری محمد اشرف نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ زینب کے واقعہ کو دوبارہ رونما ہونے سے بچانے کے لئے قوانین کو موثر بنایا جائے۔ اس مسئلہ میں قائمہ کمیٹی مایوسی کو دور کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ مسرت احمد زیب نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ قانون ہے اور عملدرآمد بھی ہو رہا ہے لیکن سزا بہت کم ہے۔ ارکان کو پہلے متعلقہ قوانین کا اچھی طرح سے جائزہ لینا چاہیے۔ بچوں سے زیادتی اور یورنوگرافی کے حوالے سے میں نے بل پیش کیا تھا جس میں پھانسی کی سزا کی تجویز دی گئی لیکن وزارت قانون اور انسانی حقوق نے اس کی مخالفت کی۔ اس پر میں نے سزا کو پھانسی سے عمر قید میں بدلنے کی تجویز پیش کی وہ بل کمیٹی میں پڑا رہا اور اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ ہمیں حادثوں کا انتظار نہیں کرنا چاہیے بلکہ عملی اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ کل جب میرا بل آرہا تھا تو افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ یہاں پر چند خواتین نے اسی کی مخالفت کی اور کورم کی نشاندہی کی گئی جس کے لئے شرم بہت معمولی لفظ ہے۔ اس ایوان میں جتنے لوگ ہیں وہ زینب واقعہ کے ذمہ دار ہیں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.