Daily Taqat

آنے والے فریاد سنانےآئے تھے ہم نے کچھ نہیں دیا ,جسٹس میاں ثاقب نثار

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ایک کیس کی سماعت میں مکالمے کے دوران وزیر اعظم سے ملاقات کے حوالے سے کہا کہ ہم نے میٹنگ میں کھویا کچھ نہیں بلکہ پایا ہی پایاہے، آنے والے فریاد سنانے  آئے تھے ہم نے کچھ نہیں دیا۔ جمعرات کو سپریم کورٹ میں مری تعمیرات ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار اور وکیل لطیف کھوسہ کے درمیان وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات پر مکالمہ ہوا۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے میٹنگ میں کھویا کچھ نہیں بلکہ پایا ہی پایاہے، آنے والے فریاد سنانے آئے تھے ہم نے کچھ نہیں دیا، آپ اس ادارے اور اپنے بڑے بھائی پر اعتماد کریں،کبھی آپ کو مایوس نہیں کروں گا۔لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہ تو جسٹس عبدالرشید والی صورتحال تھی جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جسٹس عبدالرشید کو بلایا گیا تھا لیکن یہاں وزیراعظم میرے پاس چل کرآئے ¾جب مجھے بلایا گیا تو میں نہیں گیا بلکہ ان سے کہا یہاں آجائیں، روزانہ کئی سائل آتے ہیں کسی کو روکتا نہیں، کسی کے راستے میں رکاوٹ نہیں بننا چاہئے ¾پتہ نہیں کسی کو کیا تکلیف ہو ۔ انہوں نے کہاکہ میرا کام فریادی کی فریاد سننا ہے ¾میری ذمہ داری ہے کہ سائل کی تکلیف کو سنوں۔ لطیف کھوسہ نے کہا کہ ان کو جو تکلیف ہے وہ سب کومعلوم ہے۔واضح رہے کہ دو روز قبل وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور چیف جسٹس آف پاکستان کے درمیان دو گھنٹے طویل ملاقات ہوئی تھی۔ یہ ملاقات وزیراعظم کی درخواست پر ہوئی تھی جس میں اہم امور زیر بحث آئے تھے۔دوسری جانب چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہاہے کہ ملک میں جوڈیشل این آر او اور نہ ہی جوڈیشل مارشل لاءآرہا ہے لہٰذا ملک میں صرف آئین رہے گا اور جمہوریت ہوگی۔ جمعرات کو سپریم کورٹ میں سی ڈی اے میں ڈیپوٹیشن پر آئے افسران سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس دوران چیف جسٹس اور وکیل نعیم بخاری کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا۔چیف جسٹس نے نعیم بخاری سے کہا کہ ٹی وی پر بیٹھ کر آپ بھی بہت باتیں کرتے ہیں، عدلیہ پر جو جائز تنقید کرنی چاہیے، جائز تنقید سے ہماری اصلاح ہوگی، اگر میں آج پابندی لگادوں تو بہت سے لوگوں کا کام بند ہوجائے گا۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ گذشتہ روز کسی نے چیف جسٹس پاکستان کے کراچی میں لگے اشتہارات کے بارے میں بات کی ¾ان کو یہ نہیں معلوم میں نے خود وہ اشتہارات ہٹانے کا حکم دے رکھا ہے۔نعیم بخاری نے چیف جسٹس سے مکالمہ کیا کہ جوڈیشل مارشل لاءکے بارے میں بہت سی باتیں ہو رہی ہیں۔اس پر چیف جسٹس نے نعیم بخاری سے سوال کیا کہ جوڈیشل این آر او ہوتا کیا ہے؟ میں واضح کردوں، کچھ نہیں آرہا۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ملک میں جوڈیشل این آر او اور نہ ہی جوڈیشل مارشل لاءآرہا ہے، ملک میں صرف آئین رہے گا، ملک میں صرف جمہوریت ہوگی اور باقی کچھ نہیں رہے گا۔واضح رہے کہ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے ملک میں جوڈیشل مارشل لاءکا مطالبہ کیا تھا جس پر انہیں سیاسی رہنماو¿ں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھاجبکہ چیف جسٹس پاکستان نے بھی یوم پاکستان پر تقریب سے خطاب میں کہا تھا کہ ملک میں جوڈیشل مارشل لاءکی کوئی گنجائش نہیں۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »