اہم خبرِیں
افغانستان میں تعینات جارجیا کے 28 فوجی کرونا وائرس میں مبتلا ملک میں کورونا وائرس کے 2751 نئے کیسزرپورٹ، 75 مریض جاں بحق بھارت اپنے دفاع پر بے پناہ وسائل خرچ کررہا ہے‘اکرام سہگل سندھ حکومت کی جانب سے پہلی بار باقاعدہ طور پر تھانوں کا بجٹ من... چینی اور کھانے کی دیگر اشیاء کی قیمتوں میں روز بروز اضافہ نیپال نے بھارتی پروپیگنڈا کے رد عمل میں ملک میں تمام بھارتی چی... امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاپان کو 23 ارب ڈالر کے 105 ایف ... ڈریکولا اصل میں کون تھا، حقیت یا آفسانہ؟ مولانا فضل الرحمان کی بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری سے ... سشانت سنگھ کے بعد اب ایک اور بھارتی اداکار کی خودکشی میڈیا کو پھانسی دینی چاہیے، نعمان اعجاز کا ڈرامہ انڈسٹری پر غص... معروف کامیڈین اور اداکارہ روبی انعم کو دل کا دورہ، اسپتال منتق... پی سی بی کا سلیم ملک اور سابق لیگ اسپنر دانش کنیریا پر عائد پا... کھلاڑیوں کوخود ہی ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کرنی ہو گی، مشتاق ... ویسٹ انڈیز کے مایہ ناز فاسٹ بولر مائیکل ہولڈنگ نسلی تعصب پر با... اعلیٰ ترک عدالت نے 'آیا صوفیہ' کی میوزیم کی حیثیت ختم کر دی 8 پولیس اہلکاروں کے قتل میں ملوث گینگسٹر انکاؤنٹر میں ہلاک چینی برانڈ 'شین' کی جائے نماز کو سجاوٹی قالین فروخت کرنے پر مع... الیکشن سے پہلے جھاڑو پھر جائے گا، شیخ رشید سینیٹر سرفراز بگٹی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

”ہے کوئی مخلص“

26جولائی2018ءکی صبح پاکستانی قوم سوکر جب اُٹھی کیا دیکھتی ہے عجب تبدیلی، مسجدیں فجر کی نماز کے لئے کچھا کھچ بھری ہیں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ ایسے لگا جیسے عید الفطر یا عید الاضحٰی کی نماز ہو۔ بچے بوڑھے نوجوان سبھی نماز فجر کے لیے حاضر۔ مسجد کے وضو خانے ایسے چمک دار صاف ستھرے کے نہ پوچھیئے۔ مسجد کے بددبودار بیت الخلاءتو جیسے خوشبو سے معطر، وضو کرتے وقت کوئی بھی پانی کو ضائع کرنے کا تکلف نہ کررہا تھا۔ مسجد کے اندر نماز پڑھتے لوگوں کے سامنے پھلانگ کر اگلی صفوں میں براجمان ہونے، نمازی کے عین سامنے سے کراس کرنے کا رواج تو بالکل ختم۔ کوئی شور و غوغا نہ تھا۔ موبائل بند، مسجد میں جوتے اندر رکھے ڈبوں میں ٹھونسنے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی دوڑ نظر نہ آرہی تھی۔ مولوی صاحب کی گھن گرج سے بھرپور طوفانی تقریر، مقتدیوں کو ہر وقت خوفزدہ کرنے کے بیانات بھی غائب تھے۔ نماز ختم ہونے کے بعد کسی کو چنداں جلدی نہ تھی۔ سب ایک دوسرے کو اس طرح پروٹوکول دے رہے تھے۔ جیسے کوئی شاہی مہمان ہو۔ مسجد سے نکل کر گھروں کو لوٹتے پاکستانیوں نے دیکھا۔ سڑک پر سب لوگ سرخ بتی کے اشارے پر کھڑے تھے۔ کسی خفیہ کیمرے سے ڈرے بنا، زیبرا کراسنگ کا احترام، اورسپیڈ کرتی کوئی گاڑی کہیں بھی دیکھائی نہ دے رہی تھی۔ موٹر سائیکل سوار ہیلمٹ پہنے رواں دواں تھے۔ کوئی دھواں چھوڑتی کھٹارا گاڑی، سڑک پر بس اور ویگن کی چھتوں پر لدے انسان، ٹرالیوں اور سامان سے اٹے ٹرک، گدھا گاڑی کے انبار کہاں چلے گئے تھے۔ کچھ سمجھ نہ آرہا تھا۔ موٹر سائیکل سوار اپنے انتہائی بائیں جانب محو سفر تھے۔ ہر شخص اپنی لین میں چل رہا تھا۔ گاڑیوں میں بیٹھے افراد پان کی پیک باہر پھینکنے، جگہ جگہ تھوکنے، گالم گلوچ کرنے، ایک دوسرے کی ماں بہن ایک کرنے، گاڑی میں جوس پی کر خالی ڈبے شاپر باہر پھینک کر ماحول کو پراگندہ کرنے، ریس لگاتی گاڑیوں اور ون ویلروں کا وجود سرے سے ناپید تھا۔ نماز پڑھ کر جب گھر لوٹے کیا دیکھا بچے بزرگ سب نہا دھوکر سکول اور دفتر وقت پر جانے کی تیاری میں مگن تھے۔ ناشتہ لینے کے لئے ایک بچہ بازار چلا گیا۔ کیا دیکھتا ہے وہ دکاندار جو دکان کے باہر کلمہ طیبہ اور قرآنی آیات لکھ کر سارا دن ملاوٹ شدہ اشیاءاور کم تول کر اپنی قبریں کالی کرنے کے درپے تھے سب بدل چکا تھا۔ اور تو اور دودھ میں ملاوٹ کرنے سے توبہ کر چکے تھے۔ ہر شخص اس بات کا تکرار کررہا تھا کہ غلطی ہوگئی، بھول ہوگئی، اب ایسا ہم ہر گز نہ کریں گے۔ ہم کریم مدنی آقا حضرت محمد صلی اللہ و علیہ وسلم کے اس فرمان عالیشان کو بھلا چکے تھے۔ ”جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں“
اب تو جھوٹ بول کر سودا بیچنے سے ان کی جان نکل رہی تھی اور تو اور آئندہ سال رمضان المبارک کے مقدس ماہ میں راسخ العقیدہ مسلمان ہونے کا اعادہ کرتے خوشی سے پاگل تھے کہ ان کے بھاگ جاگ اُٹھے۔ ان کے نصیب بدل گئے، ہم تو غفلت کی نیند سورہے تھے۔ مسلمان تھے مگر ہمارے کام ایسے تھے مسلمان کہلاتے شرم محسوس ہوتی تھی۔ کاش یہ پہلے ہو جاتا، دھوکہ، جھوٹ، غیبت، کینہ پروری، دوسری کی حق تلفی، بے حیائی، ذخیرہ اندوزی ختم شد، نجانے کیوں؟ بازار میں ریڑھی والا گندہ فروٹ، سبزی بیچنے سے نجانے کیوں کترا رہا تھا۔ ہوٹلوں پر کچا بل بنوانے، حکومت کا ٹیکس کھانے کا رواج دم توڑ چکا تھا۔ ہر کوئی یہ کہتا پھر رہا تھا۔ ہم ٹیکس دیں گے ضرور دیں گے۔ ہمیں معلوم ہے ہمارا ٹیکس اب صحیح معنی میں ہم پر ہی خرچ ہوگا۔ اب وہ دن گئے جب اپنے پیٹ کے اسیر، اپنے ہی پیٹ کے غلام ہم پر راج کر رہے تھے۔ ایک انہونی سکول کے بچوں نے گھر آکر بتایا، پرائیویٹ سکولوں نے اپنی فیسوں میں ناصرف کمی کر دی تھی بلکہ آئے روز کے فنڈز لینے سے قطعاً انکار کردیا تھا۔ سرکاری سکولوں کے ٹیچرز نے اکیڈمیوں کے درشن کرنے سے تو توبہ ہی کر لی تھی۔ نیت سے سب بچوں کو پڑھانے پر مصر تھے۔ جیسے وہ ان کے اپنے بچے ہوں۔ ہر شخص اب ملک کی حالت کو سدھارنے کے لئے اپنا حصہ ڈالنے کے لئے آگے آگے تھا۔ اسپتالوں میں ڈاکٹرز، سٹاف نرسز، پیرا میڈیکل سٹاف صبح سویرے 8 بجے آکر اپنے کام میں جت گئے تھے۔ خوش اخلاقی کا ٹوکرا لیے ہر ڈاکٹر سٹاف نرس اور سٹاف کے لوگ مریضوں کو سر آنکھوں پر بٹھا رہے تھے۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے سرکاری اسپتال نہیں پرائیویٹ اسپتال ہوں۔ زبردست بات یہ پرائیویٹ اسپتالوں نے اپنے نرخ کم کرکے اپنی حب الوطنی، قوم کی خدمت کے جذبے سے سرشار ہوکر اللہ کے ہاں سرخرو ہونے کی ٹھان لی تھی۔ ہر سرکاری ادارے میں سرکاری بابوﺅں سمیت ہر ملازم بغیر کسی چمک، لالچ، دھونس سائل کو بار بار بلاکر ذلیل کرنے کی روش چھوڑ چکے تھے۔
واپڈا کے لائن مین اپنی غربت کو مٹانے کے لئے فرضی ریڈنگ داغنے سے اجتناب برت چکے تھے۔ پی آئی اے کو کھانے والوں نے اب کرپشن نہ کرنے کی قسم اُٹھالی تھی۔ ریلوے کے گارڈز نے اپنی دہاڑیاں لگا کر قومی خزانے کو نقصان پہنچانے قبضہ گروپس، چائنہ کٹنگ کرنے والوں، پٹواریوں ان کے سہولت کاروں کے …….. کھل گئے تھے۔ رشوت خور، سیلسن مافیا، گارڈ فاردر دم توڑ چکے تھے پولیس اس کا تو نہ پوچھیئے، تھانہ کلچر کا خاتمہ ہوچکا تھا۔ رشوت کے نام سے پولیس والوں نے نفرت کرنے کی ٹھان لی تھی، کمیشن خوروں، منی لانڈرنگ کرنے والوں، سرکاری ٹھیکوں میں مال بنانے والوں، بیرون ملک اربوں کھربوں کی جائیداد بنانے والوں نے لوٹا سارا روپیہ پیسہ واپس لانے کا علان کر دیا تھا۔ ہر شخص یہ کہہ رہا تھا سب سے پہلے پاکستان۔
کوئی بھی ماحول کو آلودہ کرنے والی فیکٹری چلانے، جا بجا کوڑہ کرکٹ کے ڈھیر لگانے، ہر گلی محلے، شہر کو پوری طرح صاف رکھنے کا سبق پڑھ چکا تھا۔ ہر پاکستانی اپنی صحت کے حوالے سے ایسے اقدامات کررہا تھا۔ جس کے اثرات اسپتالوں میں عیاں تھے۔ کم کھانا، کم پینا، کم سونا، ورزش کرنے، مرغن غذائیں، مرچ مصالحے دار رات گئے پیٹ بھر کر کھانا کھانے کے ساتھ دو لیٹر کولڈ ڈرنکس پینے، بچوں کو بازار کا گند بلا ٹافیاں، چپس، چاکلیٹ، جوسز اور پتہ نہیں کیا کیا الغرض ہر وہ چیز جو ان کی صحت کی دشمن بن چکی تھی ان کو کھلانے سے معافی مانگ چکے تھے۔ اپنی شوگر اور بلڈ پریشر کنٹرول کرنے، عطائیوں کے خلاف اعلان جنگ کرنے، خود سے ڈاکٹر اور عالم بننے کی منفی سوچ کو ٹھوکر مار چکے تھے۔ ایک دوسرے کا احساس کرنے میں لوگ پی ایچ ڈی کرچکے تھے۔ سیاست دان اپنے پیٹ کا ایندھن بھرنے اپنے ذاتی مفاد کو قومی مفاد پر قربان کرنے، قومی سلامتی کے اداروں پر بھونک کر کسی وجے کمار کا ویٹر بننے کا بھیانک خواب دیکھنے سے باز آچکا تھا۔ ہماری عدلیہ کے ججز صحیح فیصلہ دینے، وکلا حضرات کا کیسز کو لنگر آن کرنے کی ڈگر چھوڑ کر کئی سالوں کے کیسز کو دنوں میں حل کروانے کا کڑوا گھونٹ پی چکے تھے۔
ہمارا بے لگام اور آزاد میڈیا ہوش کے ناخن لے چکا تھا۔ ہمارے علوم لفافیات کے ماہر جرنلسٹ اپنا فرسودہ عمل بھول چکے تھے۔ میڈیا صحت و تعلیم قوم کے معماروں، کو درست سمت مےں لے جانے کا سنہری کارنامہ سرانجام دینے کا عظیم فیصلہ کرچکا تھا۔ پوری قوم 70 سالوں سے ملک کو قرضوں کی دلدل میں دھکیلنے والے چوروں کو، چور پکارنے ان کو عبرت کا نشان بنانے کی مشق کر چکا تھا۔ مگر کیسے یہ سب کچھ 26 جولائی2018 کو ہوچکا تھا۔ صرف ایک دن میں 70 سالوں کا گند صاف ہوچکا تھا۔ او ہو یہ تو ایک خواب تھا۔ توقعات کے مینار کھڑے کرنے والی اس جلد باز قوم کو تھوڑا صبر کرنا پڑے گا۔ اس قوم کی تقدیر بدلنے کے لئے مخلص، پر عزم قوم، عوام دوست قیادت اور میرٹ پر لئے گئے دلیرانہ فیصلے، تیز رفتار ترقی کا اہداف حاصل کرسکتی ہے۔ انشاءاللہ وہ دن دور نہیں۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.